خود بھی خودکش دھماکہ کرسکتا تھا، سہولت کار انوارالحق کے مزید انکشافات

خود بھی خودکش دھماکہ کرسکتا تھا، سہولت کار انوارالحق کے مزید انکشافات

  

لاہور ( خبرنگار) لاہوردھماکے میں گرفتار ہونے والے سہولت کار انوارالحق سے تفتیش کے دوران مزید سنسی خیز انکشافات ہوئے ہیں جن کی روشنی میں باجوڑ ایجنسی سے ملزم سہولت کار کے والد اور بھائیوں کو حراست میں لینے کے علاوہ باجوڑ میں اس کا گھر بھی تباہ کردیاگیا جبکہ ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ ملزم سہولت کار انوار الحق نے اپنے بیان میں کہاہے کہ اگر دھماکے میں نقصان کم ہونے کا اندازہ پہلے ہی ہوتا تو وہ خود بھی اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیتا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ تفتیش کے دوران ملزم کے بارے انکشاف سامنے آیا ہے کہ ملزم سہولت کار انوارالحق تین ماہ سے شادباغ کے علاقے بھگت پورہ میں تین مرلے کے گھر کی بالائی منزل پر رہ رہاتھا جہاں سے قانون نافذکرنے والے اداروں نے 2خودکش جیکٹس اور خودکش حملہ آور کے کپڑوں سمیت دیگرسامان بھی برآمد کرلیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ سہولت کار کی شناخت گلی میں کھڑے اس کے بیٹے نے کی تھی جس کے بعد معاملات میں اہم پیش رفت ہوئی۔ شاد باغ کے علاقہ میں ملزم اپنی بیوی اور چار بچوں کے ہمراہ مقیم تھا جبکہ خودکش حملہ آور نصراللہ کو بھی اسی مکان میں پناہ دی گئی۔اہل محلہ کاکہناہے کہ انوارالحق اردوجانتاتھا جبکہ اس کے بیوی بچوں کو اردونہیں آتی تھی،گھرکے مالک کوبھی پولیس نے گرفتارکرکے چیئرنگ کراس کے مقدمے میں شامل تفتیش کرلیاگیا۔اطلاعات کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مالک مکان نے سہولت کارانوارالحق کو 3ماہ قبل مکان کرائے پردیااور ماہانہ کرایہ 10ہزارروپے طے پایاجبکہ مالک مکان نے مکان کاکرایہ نامہ تھانے میں رجسٹرڈ نہیں کروایاتھا۔دھماکے کے سہولت کارانوارلحق کی بیوی نے انکشاف کیاہے کہ شوہرکے انتہاپسندہونے کاعلم تھا،ہماری معاشرتی روایات شوہرکے بارے میں بیان دینے کی اجازت نہیں دیتیں۔

مزید :

صفحہ اول -