’’ جب تک پوری کامیابی کی امید نہ ہو ، خون نہ بہائیں ’’اسامہ کا ساتھی کے نام خط ‘‘القاعدہ کے سربراہ کے خطوط کی آخری قسط منظر عام پر آگئی

’’ جب تک پوری کامیابی کی امید نہ ہو ، خون نہ بہائیں ’’اسامہ کا ساتھی کے نام ...
 ’’ جب تک پوری کامیابی کی امید نہ ہو ، خون نہ بہائیں ’’اسامہ کا ساتھی کے نام خط ‘‘القاعدہ کے سربراہ کے خطوط کی آخری قسط منظر عام پر آگئی

  

واشنگٹن( اظہر زمان، بیورو چیف) القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے اپنی موت سے تقریباً چار ماہ قبل اپنے بیٹوں عثمان اور محمد کے نام اپنے ایک خط میں ان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سیکیورٹی کی صورت حال ایسی ہے کہ فی الحال ملنے کا پروگرام نہیں بن سکتا۔ یہ خط ان آخری دستاویزات میں شامل ہے جو ایبٹ آباد کمپاؤنڈ پر حملے کے وقت امریکی فوجیوں نے وہاں سے حاصل کی تھی۔ وائٹ ہاؤس ان کو قسطوں میں ’’ڈی کلاسیفائی‘‘ کرکے جاری کرتا رہا ہے۔ یہ آخری قسط سابق صدر اوباما کے آخری دنوں میں ڈی کلاسیفائی ہوئی تھی جس میں 49 دستاویزات شامل تھیں۔ انتقال اقتدار کے ہنگاموں میں یہ نظر انداز ہو گئی تھیں۔ اب اس نمائندے نے وائٹ ہاؤس میں اپنے ذرائع سے اس کی نقل حاصل کی ہے اور یہ معلومات پہلی مرتبہ منظر عام پر آ رہی ہیں۔ ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر سے ملنے والی ان دستاویزات میں انتظامی ہدایات، حساب کتاب کے ماہوار ریکارڈ کے علاوہ اسامہ بن لادن کی اپنے مختلف رشتہ داروں اور ماتحتوں سے خط و کتابت ہے۔ امریکی نیوی سیل کے چھ ارکان کے خصوصی دستے نے ایبٹ آباد کے اس کمپاؤنڈ پر یکم اور دو مئی 2011ء کی درمیانی شب حملہ کرکے اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا جس نے وہاں خفیہ طور پر پناہ لے رکھی تھی۔ اسامہ نے اپنے دو بیٹوں کے نام جو خط لکھا تھا اس پر 7جنوری 2011ء کی تاریخ درج ہے۔ اسامہ نے اپنے بیٹوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران میں علاج سے محتاط رہیں ، ہو سکتا ہے اس دوران وہ ان کے جسم میں چھوٹی سی چپ نصب کر دی جس سے بعد میں انہیں تلاش کرنے میں مدد ملے۔اسامہ کے القاعدہ کی شاخ ’’اقاپ‘‘ کے سربراہ ناصر عبدالکریم الوحیشی المعروف ابوبصر کے نام لکھے گئے چند ایک خط بھی ان دستاویزات میں شامل ہیں جن میں یہ اہم ترین پیغام بھی دیا گیا تھا کہ وہ اس خطے میں ایک ’’اسلامی ریاست‘‘ کے قیام کے سلسلے میں زیادہ تیزی نہ دکھائیں۔ اس خط میں یہ درج ہے کہ ’’جب تک ٹھوس ثبوت موجود نہ ہوں کہ ہمارے پاس کامیابی کے تمام عناصر پائے جاتے ہیں جن سے اسلامی ریاست قائم ہو اور برقرار رہے یا ان مقاصد کے حصول کے لئے خون بہانا واقعی ضروری ہو تو اس وقت تک خون نہ بہایا جائے‘‘ خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ ہماری کارروائی کا زبردست ردعمل بھی ہو سکتا ہے جس سے ہم حقیقی جنگ میں گھس جائیں۔اس نمائندے کو ملنے والی اسامہ بن لادن کی دستاویزات کی یہ تیسری اور آخری قسط تھی جو گزشتہ دو سال کے عرصے میں مرحلہ وار طریقے سے ڈی کلاسیفائی ہو کر منظر عام پر آتی رہی ہیں یہ آخری قسط ڈی کلاسیفائی ہونے کے باوجود سامنے نہیں آئی تھی۔ نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر کا ایک بیان بھی معمول کے مطابق ان دستاویزات سے منسلک ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صدر کی اضافی شفافیت کی ہدایت کے مطابق تمام ایجنسیوں نے ان دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں ڈی کلاسیفائی کیا ہے اور 2014ء کے انٹیلی جنس کا اختیاردینے کے ایکٹ کے تمام تقاضے بھی پورے کئے گئے ہیں۔ اس بیان میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن نے نیویارک ،پنسلوینیا اور ورجینیا میں 11ستمبر 2011ء کو اس حملے کا کریڈٹ لیا تھا جس میں تقریباً تین ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ تاہم اسامہ کو تقریباً ایک عشرے کے بعد ہلاک کر دیاگیا تھا۔ان دستاویزات کی آخری قسط سے ایک بار پھر یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ اسامہ بن لادن کی تمام تر توجہ امریکہ، یورپی اتحادی اور امریکہ کی حامی حکومتوں کو نشانہ بنانے پر مرکوز تھی اور وہ بار بار اپنی تنظیم کے ارکان کو یاد دلاتا تھا کہ وہ راستے سے ہٹیں گے تو تنظیم کا بنیادی عہد کمزور پڑ جائے گا۔ گوانتاناموبے اور ابو غریب کی جیلوں میں اپنے ’’برادرز‘‘ پر ہونے والے تشدد کے بارے میں اس نے ایک خط میں لکھا کہ ’’دنیا بھر کے لوگوں میں امریکہ کے خلاف جتنی نفرت اب پائی جاتی ہے پہلے کبھی نہیں تھی‘‘۔ شیخ محمود کے نام ایک الگ خط میں جس پر تاریخ درج نہیں تھی القاعدہ کے سربراہ نے لکھا کہ ’’ہر ایک کو اپنے اختلافات بھلا کر تمام توجہ اپنے عظیم تر حریف کے خاتمے پر مرکوز کرنی چاہیے‘‘۔ اسامہ نے بتایا ’’اگرچہ ہم صلیبی مغرب کی طرح ہتھیار تیار نہیں کر سکتے لیکن پھر بھی ہم ان کے پیچیدہ صنعتی اور اقتصادی نظام کو ختم اور ان کی بغیر عقیدے کے لڑنے والی فوج کو تھکا سکتے ہیں اور فرار کے سوا ان کے لئے کوئی راہ نہیں بچے گی۔اپنے پیروکاروں کے نام القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا یہ پیغام نما خط پہلی مرتبہ منظر عام پر آیا ہے جس میں اس نے واضح طور پر نائن الیون حملہ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔اس خط میں اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے اس نے مزید لکھا ہے کہ ’’اس لئے مجاہدین کو ایسے نئے طریقے دریافت کرنے ہوں گے جو مغرب میں کسی نے پہلے نہ سوچے ہوں۔ تخلیقی سوچ کی مثالوں میں سے ایک طیارے کو ایک طاقت ور ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے جس طرح واشنگٹن ،نیویارک اور پنسلوینیا کے بابرکت حملوں میں ہوا‘‘۔ یہ حوالہ نائن الیون کا ہے جس کے اعترافی بیان میں اسامہ بن لادن نے اسے تخلیقی سوچ کی مثال قرار دیا ہے۔یہ آخری قسط اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس کے ذریعے اسامہ بن لادن کا ’’عرب سپرنگ‘‘ کے حوالے سے دستاویزی نقطہ ء نظر پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔ ایک خط میں القاعدہ کے سربراہ نے اس سلسلے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’عرب سپرنگ کو ایک تدریجی مرحلے کے طور پر لینا چاہیے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عرب دنیا میں آنے والے انقلابات پر اپنے ویژن قائم کریں‘‘۔اسامہ بن لادن نے دستاویزات کی اس آخری قسط میں اپنی کامیابیوں اور عراق اور افغانستان میں امریکہ کی ناکامیوں کے بارے میں یقین کا اظہار کیا۔اپنی بہن ام عبدالرحمن کے نام ایک خط میں اس نے لکھا کہ اس کے ساتھ بہت عرصے بعد ملاقات ہوگی۔ اس میں اضافہ کرتے ہوئے القاعدہ کے سربراہ نے کہا کہ ’’صدر اوباما کی جو تقریر میڈیا نے نشر کی ہے اس میں اس نے چھ ماہ بعد افغانستان سے اپنی فوجیں بلانے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد ہمارے معاملات بہتر ہو جائیں گے اور ہماری تحریک کے لئے مزید آسانی ہو جائے گی‘‘۔اسامہ نے نائن الیون کے اپنے پیروکاروں کے نام لکھے گئے ایک خط میں ان پر زور دیا کہ ’’وہ مغرب کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے نئے طریقے دریافت کریں‘‘۔اس خط میں زور دیاگیا تھا کہ مغرب کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے والی حکومتوں کو اس حد تک پہنچا دیا جائے کہ جس کے بعد امید ہے کہ امریکہ مداخلت کرے اور ہمیں جہادی تحریک کے لئے جگہ بنانے کا موقع مل جائے۔یہ آخری قسط 49 دستاویزات پر مشتمل ہے جو تمام عربی زبان میں ہیں اس لئے ان سے براہ راست استفادہ نہیں ہو سکتا تاہم اس کے ساتھ اہم دستاویزات کے جو خلاصے اور اقتباسات انگریزی زبان میں ہیں۔ رپورٹ کا سارا انحصار ان پر ہے۔ تاہم تمام دستاویزات کی فہرست انگریزی زبان میں دی گئی ہے جس سے عمومی طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان میں کن موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان میں عبداللہ ابوزید الحامد کا خط ابو مستعب عبدالودو کے نام خط کے علاوہ وہ چند خط بھی شامل ہیں جو اسامہ کے القاعدہ کے مختلف لیڈروں ابویحییٰ، ابوعبداللہ الحبیبی،انصر، عبداللطیف، محمد صالح، ابو سلیمان اور عطیہ کو لکھے تھے۔ علاوہ ازیں اسامہ کا اپنی بیٹی کے نام، مالی سپانسرشپ کیلئے اسلم کے نام دنیا کے مسلمان بھائیوں کے نام لیڈرشپ کی رہنمائی کے لئے ان کے شوریٰ کے حوالے سے خط، سامان کی نقل و حرکت اور رقم کی وصولی کی تصدیق والا خط بھی دستاویزات میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ دیگر دستاویزات میں ماتحت افراد کے لئے ہدایات، عام ہدایات ایڈمنسٹریٹرز کے فرائض شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے منسلک نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20مئی 2015ء کو اسامہ بن لادن کی حاصل کردہ دستاویزات کی پہلی قسط یکم مارچ 2016ء کو دوسری قسط کے بعد تیسری اور آخری خط کو ڈی کلاسیفائی کرنے کے بعد یہ سلسلہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔سیکیورٹی مبصرین یہ سمجھے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں اگرچہ داعش زیادہ سرگرم ہے لیکن القاعدہ کمزور ہونے کے باوجود کسی نہ کسی شکل میں مختلف مقامات پر اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے جن میں عراق، شام، افغانستان، لیبیا، یمن، پاکستان اور شمال مغربی افریقہ کا خطہ خاص طور پر شامل ہے۔ یاد رہے کہ ابھی حال ہی میں شام میں ایک تربیتی مرکز پر امریکی فضائیہ کے حملے میں القاعدہ کے سو کے قریب دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔ اقوام متحدہ نے ایک تازہ رپورت میں مالی سمیت شمال مغربی افریقہ کے خطے کو اپنے امن دستوں کیلئے مہلک ترین قرار دیا تھا جس کاسبب القاعدہ کی مقامی شاخ ہے۔

اسامہ

مزید :

صفحہ اول -