امریکی فوج عراق کے تیل پر قبضے کیلئے نہیں آئی،پینٹاگون چیف

امریکی فوج عراق کے تیل پر قبضے کیلئے نہیں آئی،پینٹاگون چیف

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف)پینٹاگون کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ عراق میں امریکی فوج اس کے تیل پر قبضہ کرنے نہیں آئی۔ریٹائرڈ جنرل جیم میٹس نے یہ بیان سوموار کے روز بطور وزیر دفاع عراق کے پہلے دورے پر بغداد پہنچ کر دیا۔واشنگٹن میں پینٹاگون کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ وہ داعش کے دہشت گردوں سے موصل شہر کے باقی حصے کو واگزار کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کا براہ راست جائزہ لینے کے لئے گئے ہیں اس جنگی تھیٹر میں عراقی فوج کے آپریشن کو امریکی فوجیوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔جنرل میٹس کا یہ بیان اس لحاظ سے بہت مبنی خیز ہے کہ اس کے ذریعے بالواسطہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی تردید ہوتی ہے جنہوں نے جنوری میں سی آئی اے ہیڈ کوارٹر میں عملے کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے عراق کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ شوشہ چھوڑا تھا کہ 2003ء میں صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد ہمیں تیل پر قبضہ کرلینا چاہیے تھا۔ چلو کوئی بات نہیں شاید ہمیں دوبارہ کوئی ایسا موقع مل جائے پینٹاگون کے سربراہ نے اپنے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھی جو ایک تازہ مثال ہے کہ ان کا موقف صدر ٹرمپ سے مختلف ہے۔ خود صدر ٹرمپ اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کے وزیر دفاع ان کی اس رائے سے متفق نہیں ہیں کہ تحقیقات کے لئے تشدد کرنا مفید ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ وہ یہ معاملہ وزیر دفاع کی صوابدید پر چھوڑتے ہیں۔ جنرل میٹس کو میڈیا کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی رائے سے بھی اختلاف ہے۔ صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز معمول کے مطابق امریکی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’امریکی عوام کا دشمن‘‘ قرار دیا تھا۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ انہیں میڈیا سے کوئی شکایت نہیں ہے۔نئے امریکی وزیر دفاع میرین جنرل کے طور پر ماضی میں عراق میں امریکی فوج کی قیادت کر چکے ہیں ان کی عراق کے معاملات میں خصوصی دلچسپی ہے جس بناء پر انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ مترجموں سمیت ان عراقی باشندوں کو امریکہ آمد پر پابندی سے استشنیٰ دیا جائے جنہوں نے امریکی فوج کے ساتھ کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے نئے ایگزیکٹو آرڈر کا متن نہیں دیکھا لیکن وہ کوشش کررہے ہیں کہ آئندہ کے آرڈر میں یہ استشنیٰ شامل ہو پینٹاگون کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع صدر ٹرمپ کی خواہش پر داعش کی شکست کا عمل تیز کرنے کے لئے عراق گئے ہیں جہاں وہ اس سلسلے میں سینئر امریکی اور عراقی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان کی آمد سے ایک روز قبل عراق کے وزیر اعظم حید رالعابدی نے موصل شہر کے مغربی حصے پر زمینی آپریشن کے آغاز کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا تھا کہ داعش کے دہشت گردوں کے علاوہ اندازۃً ساڑھے چھ لاکھ شہری بھی محصور ہوگئے ہیں۔ داعش کے جنگجو سو دن کی لڑائی کے بعد شہر کے مشرقی حصے سے نکلنے پر مجبور ہوگئے تھے۔اس دوران عراق میں موجود امریکی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سٹیضن ٹاؤن لینڈ نے یقین ظاہر کیا ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران داعش کی قوت کے مراکز عراقی شہر موصل اور شام کا شہر رقہ کو امریکہ کی حمایت یافتہ افواج دوبارہ حاصل کرلیں گی۔

مزید :

صفحہ اول -