ایف بی آرحکام کے رویہ کیخلاف تاجروں نے آج اجلاس طلب کر لیا

ایف بی آرحکام کے رویہ کیخلاف تاجروں نے آج اجلاس طلب کر لیا

  

لاہور( اسد اقبال ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر ) حکام کی جانب ٹیکس نیٹ اہداف پورے کرنے کے لیے 38بی کے غلط استعمال ،مارکیٹوں میں چھاپوں، سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس آڈٹ کے نوٹسز بھجوانے ،اہلکاروں کی جانب سے صوابدیدی اختیارات کے غلط استعمال کرنے ،تاجروں سے بدتمیزی اور بینک اکاؤنٹس سے ازخود رقوم نکلوانے پر تاجر برادری میں تشو یش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس سلسلہ میں ایف بی آر کے خلاف سخت لائحہ عمل اپنانے کے لیے آج لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں لاہور سمیت پنجاب بھر کی تاجر تنظیموں کا اجلاس بلا لیا گیا ہے جس کی صدارت لاہور چیمبر آف کامرس کے قائم مقام صدر ناصر حمید کر یں گے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے بعد ایف بی آر کے کالے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا جبکہ رواں ہفتے میں تاجر برادری احتجاجا شٹر ڈاؤ ن بھی کر یں گے ۔ تفصیلات کے مطابق بجلی و گیس بحران سمیت ملک میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کے باوجو دتاجر کاروبار کررہے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تاجر ہی کسی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان پر ٹیکسو ں کا مذید بوجھ ڈالتے ہوئے38بی کے تحت نوٹسز بھجوانے کے خلاف تاجر سر اپا احتجاج بن گئے ہیں اور اس حوالے سے آج لاہور چیمبر آف کامرس میں تاجر تنظیموں کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں ایف بی آر کے خلاف سخت لائحہ عمل اپنایا جائے گا ۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر ناصر حمید نے پاکستان سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے صر ف لاہور کے 400تاجروں کو بلا جواز نو ٹسز بھجوائے گئے ہیں جو پہلے سے ہی ٹیکس پیئر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان کو ہی نچوڑا جارہا ہے جو مجموعی آبادی کا پانچ فیصد بھی نہیں ہیں اورٹیکس حکام انہیں ڈرا دھمکا کر رشوت دینے پر مجبور کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر حکام موجودہ ٹیکس دہندگان کو نچوڑنے کے بجائے اْن 3.5ملین افراد کو ٹیکس نیٹ میں لائے جن کی فہرست ایف بی آر کے پاس مو جو د ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال ٹیکس دہندگان کی تعداد گیارہ لاکھ سے کم ہوکر 9 لاکھ کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو آنے والے دنوں میں ٹیکس دہندگان کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہوجائے گی جس کی وجہ سے حکومت کو محاصل کی مد میں بھاری خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔انجمن تاجران لاہور کے صدر مجاہد مقصو دبٹ نے روزنامہ پاکستان کی وساطت سے ایف بی آر چیئر مین سے مطالبہ کیا ہے کہ ریونیو کمشنرز کے بے تحاشا صوابدیدی اختیارات واپس لیے جائیں، جن ٹیکس دہندگان کا نام بیلٹنگ میں آئے صرف ان کا اور ایک مرتبہ آڈٹ کیا جائے اور دو فیصد اضافی ٹیکس ایٹ سورس لے لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے اگر تاجر برادری کے جائز مطالبات نہ مانے تواحتجاج کا سلسلہ شروع کر تے ہوئے ایف بی آر کے ظلم کے خلاف شہر بھر میں بینرز آویزاں کیے جائیں گے۔چیف کمشنر فیڈرل بورڈ آف ریو نیو لاہور خواجہ عدنا ن ظہیر نے پاکستان سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ ایف بی آر قواعدو ضوابط میں رہتے ہوئے ٹیکس کو لیکشن کر رہی ہے اور اگر کسی تاجر کو ٹیکس چوری ، غلط سٹا ک یا انتظامیہ کی جانب سے کوئی شکایت ہے تو وہ ہمارے پاس آئے کیو نکہ ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کے لیے آسان طریقہ کار اور مسائل کے حل کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی ہوئی ہیں لہذا مذاکرات کے ساتھ معاملات کو حل کیا جاسکتا ہے جس کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -