سروسز ہسپتال،اینٹی کرپشن حکام اور ڈاکٹروں میں جھگڑا،ایمرجنسی بند

سروسز ہسپتال،اینٹی کرپشن حکام اور ڈاکٹروں میں جھگڑا،ایمرجنسی بند

  

لاہور( خبرنگار) اینٹی کرپشن کی ٹیم کا سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں ایک ڈاکٹر کی گرفتاری کیلئے چھاپہ، مزاحمت پر ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا جس پر ینگ ڈاکٹرز نے اینٹی کرپشن کی ٹیم پر ہلہ بول دیا اور حراست میں لیے جانیوالے ڈاکٹر کو چھڑوا لیا۔ سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی بند کر کے اینٹی کرپشن کیخلاف رات گئے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ تفصیلات کے مطابق لاہورکے سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں اینٹی کرپشن پولیس کے اہلکاروں نے گزشتہ روز ایک ڈاکٹر کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا، اس دوران اینٹی کرپشن نے ایک ڈاکٹر جس کا نام آصف عاطف بتایا جاتا ہے کو حراست میں لے لیا تو اس دوران چھاپہ مار ٹیم اورڈاکٹرزکے درمیان جھگڑا پیدا ہو گیا اور ینگ ڈاکٹرز نے حراست میں لیے جانے والے ڈاکٹر کو چھڑوا لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جھگڑا طول کی شکل اختیارکرگیا۔ینگ ڈاکٹرزنے یہ الزام عائدکرتے ہوئے ایمرجنسی بندکردی کہ اینٹی کرپشن کی ٹیم نے ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے سینئروائس پریذیڈنٹ ڈاکٹر آصف عاطف چودھری پرتشددکیاہے جبکہ اینٹی کرپشن اور ڈاکٹرزکے درمیان جھگڑے میں مریض ایمرجنسی بند ہونے پررُل گئے جن کاکوئی پرسان حال نہ ہے جبکہ دوسری جانب اینٹی کرپشن ذرائع کا کہنا ہے کہ لاکھوں روپے کرپشن میں ملوث دو ڈاکٹروں کو گرفتار کر نے کیلئے ٹیم گئی تھی جس پر جھگڑا ہوا پولیس نے موقع پرکھڑی پیجاور کو بھی تحویل میں لیا ہے تاہم رات گئے تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ دوسری جانب ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث رات گئے تک سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی بند رہی جس کے باعث مریضوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ۔ سروسز ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ایمرجنسی وارڈ کے مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں میں شفٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ ہسپتال میں ایس پی ماڈل ٹاؤن اور ڈاکٹروں کے درمیان مذاکرات جاری رہے ۔ جبکہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ سروسز ہسپتال سمیت شہر کے دیگر ہسپتالوں میں آج بھی ہسپتالوں کی او پی ڈیز اورایمرجنسی وارڈز کو بند رکھا جائے گا اور محکمہ اینٹی کرپشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

سروسز ہسپتال

مزید :

صفحہ آخر -