بلاول، عمران کا بہتر فیصلہ، جلسہ، تحریک، مظاہرے ملتوی، تعاون کا اعلان!

بلاول، عمران کا بہتر فیصلہ، جلسہ، تحریک، مظاہرے ملتوی، تعاون کا اعلان!

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

معروضی حالات میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے درست فیصلے کئے، اگرچہ ہر دو نے مختلف وجوہات کی بنا پر ایسا کیا بلاول بھٹو زرداری نے نہ صرف اگلے ماہ کی دس تاریخ کو ملتان والا جلسہ ملتوی کر دیا بلکہ انہوں نے اپنے چار مطالبات پر زور دینے کے لئے تحریک بھی مؤخر کر دی ہے اور دہشت گردی کے خلاف واضح طور پر وفاق سے تعاون کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے التوا کی وجہ پاناما گیٹ سماعت کو بنایا اور کہا کہ پاناما گیٹ کی سماعت مکمل اور فیصلے تک جلسے اور مظاہرے ملتوی کئے جاتے ہیں، اس کے باوجود یہ اقدام اس حد تک ٹھیک ہے کہ سیکیورٹی ادارے دن رات دہشت گردوں کا پیچھا کر رہے ہیں اور پورے ملک میں ایک تیز تر نئی مہم شروع کی گئی ہے۔ اس میں پاک فوج کی طرف سے سرحد پار جماعت الاحرار کے ٹھکانوں کی تباہی بھی شامل ہے جبکہ شمالی وزیرستان میں نئے اکٹھ کی اطلاع پر بمباری بھی کی گئی اور طیاروں نے ٹھیک نشانے لگائے۔

اس مہم کے حوالے سے جو سیاسی فضا بننا چاہئے تھی، بعض نادان دوست شاید بننے نہیں دینا چاہتے یا پھر شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں حالات کو بھی نظر انداز کر گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے میڈیا کے بھائیوں کا بھی دخل ہے جنہوں نے ایک بات رپورٹ کی جو نہیں کرنا چاہئے تھی۔ اس پر بعد میں بات کرتے ہیں۔ پہلے یہ یاد کرا دیں کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی وجہ سے افغانستان میں بھارتی سفارت کار بہت سرگرم ہو گئے ہیں اور انہوں نے پاک افغان تعلقات کو خراب کرانے کے لئے افغان حکومت پر اپنا اثر اور دباؤ بڑھایا ہے جس کی روشنی میں افغان جنرل نے دھمکی دینے کی کوشش کی ہے۔ اس کشیدگی سے خود افغانستان میں موجود نیٹو کمانڈ کے حکام بھی تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں، امریکی ترجمان نے بھی اظہار خیال کیا ہے یوں ایک نئی صورت حال بن گئی ہے، اس میں ہمیں اندرونی استحکام کی شدید ضرورت ہے اور اس کے لئے مرکزی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کو اپنے جاں نثاروں کو سمجھانا اور روکنا چاہئے کہ یہ وقت طعنہ زنی اور گالی کا نہیں ہے، اس سلسلے میں گزارش ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے نواب شاہ ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے بعد جو گفتگو کی وہ میڈیا میں نشر اور اشاعت پذیر ہوئی ہے۔ عام میڈیا نے ایک فقرے کو اچھالا ہے وہ ہے ’’انسان بنو‘‘ حالانکہ یہی خبر بات چیت کے حوالے سے انگریزی معاصر ’’ڈان‘‘ میں بھی شائع ہوئی اس میں ایسی کوئی بات نہیں، بلکہ بہت ہی مثبت ہے کہ بلاول نے نہ صرف وزیر اعظم بلکہ وزیر داخلہ پر بھی تنقید سے انکار کیا اور کہا یہ وقت اس کے لئے مناسب نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا یہ کہنا کہ وزیر اعظم تشریف لائے خوش آمدید کہتا اور تعریف کرتا ہوں۔ اگر انہوں نے متاثرین کی امداد کا کوئی اعلان نہیں کیا تو میں تنقید نہیں کروں گا، یہ تنقید کا وقت نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کو ہر بات ذات پر نہیں لینا چاہئے۔ تنقید طریق کار پر ہوتی ہے کسی کی ذات پر نہیں، اب یہ معلوم نہیں کہ ’’انسان بنو‘‘ والے جو الفاظ شائع ہوئے یا نشر ہوئے وہ کس انداز میں کہے گئے، اگر یہ کہے گئے ہیں تو نشر اور شائع نہیں ہونے چاہئیں تھے اس پر مزید یہ کہ محترم طلال چودھری کو صبر سے کام لینا چاہئے تھا ان کو بلاول کی ذات پر حملہ کرنے سے قبل اگر وزیر اعظم سے نہیں تو ان کے سیاسی مشیر ڈاکٹر آصف کرمانی ہی سے مشورہ کر لینا چاہئے تھا ان کے جواب نے پیپلزپارٹی کے راہنماؤں کو جواب کا موقع دیا اور بدمزگی ہوئی۔ یہ باتیں حالات سنوارنے نہیں بگاڑنے والی ہیں ان سے گریز لازم ہے۔

وزیر اعظم محمد نوازشریف ٹیم کے کپتان ہیں ان کو اپنے ہر کھلاڑی پر نگاہ رکھنی چاہئے کہ حالات کو خراب نہ کریں بلاول اور پیپلزپارٹی کے سینئر راہنماؤں سے بھی کہنا ہے کہ وہ بھی احتیاط کریں اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا رویہ اپنائیں جو سخت تنقید بھی کرتے ہیں تاہم الفاظ کا استعمال زیادہ بہتر کرتے ہیں یہ وقت تنازعات بڑھانے کا نہیں ہے۔ اب تک کے حالات سے یہ مترشح ہوا جو بہتر ہے کہ تمام اہم قوتیں دہشت گردی کے حوالے سے یکسو ہیں اور یہی قومی مفاد ہے، وزیر اعظم کو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور بہتر ماحول پیدا کر کے پھر سے ایک مشترکہ گول میز کانفرنس کر لینا چاہئے جو ’’ان کیمرہ‘‘ ہو اور اس میں تمام قومی امور پر کھل کر بات ہونی چاہئے کہ اتفاق رائے ہو، اتفاق اور استحکام لازم و ملزوم ہیں۔

تعاون کا اعلان

مزید :

تجزیہ -