مشترکہ تحقیقاتی نظام سے مقدمات کو میرٹ پر نمٹا نے میں مدد ملی: چیئر مین نیب

مشترکہ تحقیقاتی نظام سے مقدمات کو میرٹ پر نمٹا نے میں مدد ملی: چیئر مین نیب

  

اسلام آباد(اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل کرتے ہوئےّ پیشہ واریت اور شفافیت پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، نیب میں مشترکہ تحقیقاتی نظام وضع کرنے سے مقدمات کو میرٹ پر نمٹانے میں مدد ملی ہے، نیب کو 2016ء میں 2015ء کے مقابلے میں دوگنا شکایات موصول ہوئی ہیں جو کہ عوام کا نیب پر اعتماد کا اظہار ہے، عالمی اداروں نے بھی بدعنوانی کی روک تھام کے لئے نیب کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈ کوارٹرز کی کارکردگی کے جائزہ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب پاکستان کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لئے مکمل پیشہ واریت اور شفافیت کے ذریعے میرٹ پر عمل پیرا ہے، نیب نے ملک بھر سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کی روک تھام کے لئے موثر جامع حکمت عملی وضع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی کمپنیوں میں دھوکہ دہی، بینک فراڈز، بینک نادہندگان، لوگوں سے بڑے پیمانے پر فراڈ اور ملازمین کے سرکاری فنڈز میں گھپلوں کے مقدمات کو نیب ترجیحی بنیادوں پر نمٹاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال میں نیب افسران کی جانب سے نمٹائی گئی شکایات اس بات کا اظہار ہیں کہ نیب افسران بدعنوانی کی روک تھام کو اپنا قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جبکہ مقدمات کو بروقت نمٹانے کے لئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا گیا ہے۔ نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے، اس سے نہ صرف نیب افسران کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی شخص تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب سارک ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے، پاکستان نے بدعنوانی کی روک تھام کے لئے بہترین کوششوں کی بدولت یہ مقام حاصل کیا ہے۔ نیب نے بدعنوانی کی روک تھام کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں جس سے دونوں ممالک چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق منصوبوں میں بدعنوانی کی روک تھام کی نگرانی کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کے لئے نیب نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ ملک بھر کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 42 ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے علاقائی بیوروز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے جزوی مقداری نظام وضع کیا ہے جس سے علاقائی بیوروز کی خوبیوں اور خامیوں کو جانچنے میں مدد ملی ہے۔ تمام علاقائی بیورو کی سالانہ انسپکشن فروری 2017ء کے آخر تک مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے کے لئے ان میں قواعد و ضوابط اور دیگر خامیوں کا جائزہ لے کر بہتری کے لئے طریقہ کار اور تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پریوینشن کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ یہ کمیٹیاں سی ڈی اے، وزارت مذہبی امور، وزارت قومی تحفظ خوراک، ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن، ایف بی آر، پی آئی ڈی کے علاوہ صوبائی محکمہ، صحت، تعلیم، ریونیو، ہاؤسنگ، کوآپریٹو کے محکموں میں قائم کی گئی ہیں۔ نیب نے پریوینشن کمیٹی سے مل کر وزارت مذہبی امور کو 2016ء میں حج انتظامات بہتر بنانے کے لئے تجاویز پیش کی تھیں جس پر عمل درآمد سے حج انتظامات کو بہتر بنانے میں مدد ملی جسے حجاج کرام نے بھی سراہا۔ انہوں نے نیب کے علاقائی بیوروز پر زور دیا کہ وہ متعلقہ محکموں سے مشاورت کر کے ان میں پریوینشن کمیٹیاں قائم کریں تاکہ ان کی خامیوں اور ریگولیٹری طریقہ کار کو بہتر بنا کر میرٹ اور شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔

چیئرمین نیب

مزید :

علاقائی -