پنجاب کو گالی مت دو

پنجاب کو گالی مت دو
 پنجاب کو گالی مت دو

  

یار دوست بغلیں بجا رہے ہیں کہ پنجاب میں رینجرز کا آپریشن ہو گا،وہ سمجھ رہے ہیں کہ اس سے مسلم لیگ نون بہت مشکل میں آئے گی مگر مجھے کہنا ہے کہ وہ جو سمجھ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہو گا، اگر وہ پنجاب کو سندھ ، بلوچستان یا خیبرپختونخوا کی طرح کا علاقہ سمجھتے ہیں تو اور بات ہے ،آپ چاہیں تو پنجاب پولیس کو گالی دینے کے شوق کو بھلے پورا کرتے رہیں مگر یہ پنجاب پولیس کا ہی اعزاز ہے کہ اس وقت صوبے کے تمام بڑے شہروں میں کوئی نو گو ایریا نہیں ہے، کوئی بھتہ لینے والا گروہ نہیں ہے، زمینوں پر قبضوں سے انکار نہیں ہے مگر اسی سے نوے فیصد قبضے مقامی سطح کے ہیں جن میں بہت سارے ذاتی تنازعات بھی ہیں لہذاجب یہاں کوئی منظم قبضہ گروپ بھی نہیں تو پھر پنجاب میں رینجرز کو کوئی زیادہ کارروائیاں نہیں کرنی پڑیں گی۔

پھر سوال یہ ہے کہ رینجرزکس شعبے میں کا م کر سکے گی تو اس کا جواب ہے کہ رینجرز کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف کام کرنا پڑے گا مگر وہ اس شعبے میں کیسے کردار ادا کرے گی اس کے سامنے سوالیہ نشان موجود ہے۔ پنجاب کو گالی دینے کے شوقینوں کا کہنا ہے کہ یہ صوبہ انتہا پسندی تخلیق کرتا ہے مگر جب بھی دہشت گردی کے کسی واقعے کی تحقیقات ہوتی ہیں تو اسی سے نوے فیصدذمے دار پنجاب سے نہیں ہوتے جو کہ پاکستان کی آدھی سے بھی زیادہ آبادی کا صوبہ ہے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں مگر سمجھ کم کو ہی ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف رینجرز وہ کردار ادا نہیں کرسکتے جومقامی حکومتیں اور مقامی پولیس ادا کر سکتی ہے۔ ہم خیبرپختونخوا پولیس کو سراہتے ہیں کہ اس کے افسران اور جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں۔ میں نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے کسی سیاسی رہنما کو خیبرپختونخوا، سندھ یا بلوچستان کی پولیس کو گالیاں دیتے ہوئے نہیں سنا، کیا ان صوبوں میں پولیس کے ادارے دودھ کے دھلے ہو ئے ہیں،پنجاب کی پولیس نے ابھی چند روز پہلے اپنے ایک ڈی آئی جی اور ایک ایس ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کے لہو کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ کیا یہ امر افسوسناک نہیں ہے کہ ایک صوبے میں حکومت رکھنے والی سیاسی جماعت کا سربراہ اس روز بھی پنجاب پولیس کو اپنی بدکلامی کا نشانہ بنا رہا تھا۔

کیا یہ سوال جائز نہیں کہ کیالاہور میں کراچی کی طرح نوگو ایریاز موجود ہیں، کیا لاہور بھی کراچی کی طرح سیاسی جماعتوں کے علاقوں میں بٹا ہوا ہے، کیا لاہور میں بھی کراچی کی طرح بھتوں کی پرچیاں آتی ہیں، کیا لاہور میں بھی اسی طرح منشیات تیار اور فروخت ہوتی ہیں جس طرح پشاور اور اس کے نواحی علاقے مشہور ہیں، کیا لاہور میں بھی پشاور کی طرح بڑی بڑی سڑکوں پر دکھایا جا سکتاہے کہ یہ فلاں اسمگلر کی کوٹھی ہے یا اس سڑک پر فلاں منشیات فروش کا قلعہ ہے۔کیا لاہور میں بھی کوئٹہ کی طرح مقامی اور غیر مقامی علاقے الگ الگ ہیں۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ لاہور میں سٹریٹ کرائم بھی ہے اور یہاں چوریاں، ڈکیتیاں اور قتل بھی ہوتے ہیں مگر آپ کو بھی ماننا ہو گا کہ یہاں کوئی ’’ڈان ‘‘ نہیں ہے۔ کیا رینجرز وہاں نہیں جانے چاہئیں جہاں افغان باشندوں کی وجہ سے شہروں سے ملحقہ علاقے علاقہ غیر بنے ہوئے ہیں؟

میں لاہور کے بہت سارے ارکان اسمبلی کو بہت قریب سے جانتا ہوں، میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ان سے سیاسی اختلاف رکھنے والے ان پربہت سارے الزامات بھی عائد کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ان میں سے کسی کی شہرت جرائم پیشہ گروہ پالنے والے کی نہیں ہے، ہاں، لاہور سے باہر نکل جائیں تو بعض علاقو ں میں مشکلات موجود ہیں ۔وہاں اسلحے کی ریل پیل ہے مگر اس کا مقابلہ بھی رینجرز کے ذریعے نہیں ہوسکتا کہ وہاں اس کلچر کو ختم کرنے کے لئے پہلے دشمنیوں کا کلچر ختم کرنا ہوگا اور یہ کام بھی رینجرز نہیں، سیاسی قیادت اور مقامی پولیس کے افسران سے ضرور لیا جاسکتا ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ لاہور اور پنجاب میں رینجرزکی آمدسے کوئی فرق پڑے گا تو میں ان کی خوش فہمی ختم نہیں کرنا چاہتا، وہ کچھ عرصہ قبل چھوٹو گینگ کے خاتمے کی کہانی بھی اسی تناظر میں بیان کرتے ہیں اور میں انہیں مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس علاقے کے کسی باخبر افسر، چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو، سے حقائق جانے، وہ پنجاب پولیس کے افسروں اور اہلکاروں کے اس آپریشن میں کردار کا تقابلی جائزہ لے ۔قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ جب ہم کچھ ضبط تحریر میں لا رہے ہوں تو ہر بات کھول کر بیان نہ کریں۔

اب تھوڑا سا آگے بڑھتے ہیں، کیا وفاق اور پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ نون کوصوبے میں رینجرز کی آمد سے کوئی فرق پڑے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی باتیں کرنے والے مسلم لیگ نون کی قیادت کی تاریخ نہیں جانتے، وہ ان ساتھیوں کو سب سے پہلے کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں جن پر الزامات ثابت ہوجاتے ہیں، کیا مجھے یہاں بیگم عابدہ حسین اور میاں معراج دین مرحوم کا ذکر کرنا چاہئے کہ جب ان کی بجلی چوری پکڑی گئی تو کیا قیادت نے ان کی چوری پر انہیں تحفظ فراہم کیا یا قانون کو اپنا کام کرنے دیا؟ اب اگر رینجرز یا دیگر ان کی معاونت کرنے والی دیگر ایجنسیوں کے پاس مسلم لیگ نون کے عہدے داروں یا ارکان اسمبلی کے بارے ایسی ٹھوس اطلاعات موجود ہوں گی تو پوری امید ہے کہ مسلم لیگ نون انہیں قانون کے سامنے کھڑا کر دے گی۔ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مسلم لیگ نون کا گراف گرے گا جبکہ میرا خیال یہ ہے کہ جرائم پیشہ اور انتہا پسند افراد کے نکل جانے سے سیاسی جماعتیں مزید مضبوط ہوتی ہیں، ہاں،مشکل وہاں درپیش ہوتی ہے جہاں سیاسی قیادتیں جرائم پیشہ افراد کو تحفط فراہم کرنے لگیں۔ میرے خیال میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سیاست میں اس مقام پر آ پہنچے ہیں جہاں انہیں اس قسم کی جعلی بیساکھیوں کی کوئی ضرورت نہیں۔

ہمارے بغلیں بجانے والے دوست تو یہ بھی نہیں جانتے کہ پنجاب میں پچھلے سات ، آٹھ برسوں میں سینکڑوں آپریشن ایسے ہو چکے ہیں جن میں رینجرز ہی نہیں بلکہ فوج کی دیگر ایجنسیوں نے بھی حصہ لیا ہے۔ کیا یہ امر کسی سے پوشیدہ ہے کہ سیکورٹی ادارے مشکوک افراد کواٹھاتے رہے ہیں اور اپنے پاس رکھ کر ان سے تفتیش کرتے رہے ہیں۔اسی دوران پنجابی طالبان کی بھی ایک اصطلاح گھڑی گئی تھی اور قرار دیا گیا تھا کہ پنجاب کے لوگ دہشت گردی میں زیادہ ملوث ہیں حالانکہ یہ امر ایک حقیقت ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کی لہر پورے ملک میں آئی اور اس لہر میں پنجاب کو کسی طور بھی دوسروں صوبوں یا علاقوں سے شدید قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میں نہیں جانتا کہ پنجاب میں رینجرز آکر کیا نتائج برآمد کرے گی مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس صوبے میں رینجرز کے آپریشن جن مقاصد کی سب سے زیادہ تکمیل کریں گے وہ انتظامی سے کہیں سیاسی ہوں گے اور اگر آپ انہیں انتظامی بھی سمجھنا چاہیں تو انتظامی طورپر بہتری انہی کے کریڈٹ میں جائے گی جن کے پاس پاس انتظامی کنٹرو ل ہو گا۔

یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ عوامی سطح پر پنجاب میں رینجرز کی آمد کی خبر کو مثبت لیا جا رہا ہے دوسرے صوبوں کے برعکس کسی بھی سطح پر خوف و ہراس نظرنہیں آ رہا۔ پنجاب اسمبلی کے ارکا ن اس وقت بھی رینجرز سمیت دیگر ایجنسیوں کے آپریشنز پر اعتراض نہیں کرتے تھے جب اس کی باقاعدہ اجازت نہیں تھی تو اب وہ کیسے اس کی مزاحمت کر سکتے ہیں۔ یہ معاملہ اگر کابینہ یا اسمبلی میں بھی جاتا ہے تو مجھے وہاں بھی کوئی مزاحمت کی جرات رکھنے والا نظر نہیں آتا اور اگر ، میری توقعات کے برعکس اپنے خفیہ مذموم مقاصد کے لئے، کوئی اس کی مخالفت اورمزاحمت کرے گا تو وہ اپنی سیاسی موت کے پروانے پر دستخط کرے گا۔ اب وقت آ گیا کہ ہم سب سندھی، پٹھان ، بلوچ یا پنجابی کے مقابلے میں ایک پاکستانی، ظالم کے مقابلے میں مظلوم اور انتہا پسند کے مقابلے میں ایک سچے اور معتدل مسلمان کے طو رپر سوچیں۔ جب ہم اس طرح سوچنے میں کامیاب ہوجائیں گے توپھر ہم پنجاب میں رینجرز کے آنے پر بغلیں نہیں بجائیں گے اور اپنے ، اپنے صوبے میں رینجرز کے نہ ہونے کو اپنی کامیابی نہیں سمجھیں گے۔

مزید :

کالم -