ماں بولیوں کو قومی زبانوں کا درجہ‘ تعلیمی اداروں میں رائج کیجائے‘ ظہور دھریجہ

ماں بولیوں کو قومی زبانوں کا درجہ‘ تعلیمی اداروں میں رائج کیجائے‘ ظہور ...

  

ملتان (سٹی رپورٹر)21 فروری ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر حکومت ماروی میمن بل منظور کر کے ماں بولیوں کو قومی زبانوں کا درجہ دے ۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ نے معروف سرائیکی شاعر اور ماہر تعلیم اکبر ہاشمی کی طرف سے منعقدکئے گئے ماں بولی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے(بقیہ نمبر44صفحہ12پر )

کہا کہ تعلیمی اداروں میں ماں بولی رائج کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ زبان کا زخم جغرافیے بدل دیتا ہے ، حکمران 21 فروری 1952ء کے حادثے سے سبق حاصل کریں اور پاکستانی زبانوں کو ان کا حق دیں ۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ پوری دنیا میں زبان کو سائنس کا درجہ حاصل ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک زبان کوں انسان اور انسان کو زبان کا نام دیتے ہیں مگر لسانی دہشت گرد کچھ زبانوں کو برتر اور کچھ زبانوں کو کمتر سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ21 فروری ، پوری دنیا میں ماں بولی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔ دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی تقریبات ہو رہی ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں صرف تقریبات منعقد کی جائیں گی یا پھر عملی طور پر بھی پاکستانی زبانوں کی ترقی کیلئے کچھ ہو گا؟ ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ ایک طرف پاکستانی زبانوں جسے ہم ماں بولیوں کا نام دیتے ہیں کے حقوق کیلئے سیمینار ، ورکشاپس ، کانفرنسیں ، جلوس اور ریلیاں ہو رہی ہیں ، ریڈیو ٹییلیویژن پر پروگرام پیش ہو رہے ہیں اور اخبارات کے خصوصی ایڈیشن ہیں ، دوسری طرف حکومت چینی زبان سیکھنے کیلئے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے ، کروڑوں روپے روزانہ کے اشتہار اخبارات کو دیئے جا رہے ہیں ، اس کے مقابلے میں ماں بولیوں کیلئے محض ’’ لولی پاپ ‘‘ کے سوا کچھ نہیں اس موقع پر غلام عباس ، اکبر ہاشمی ، شاہد ہاشمی ، زبیر دھریجہ، عامر سلیم دھریجہ اور دوسرے موجود تھے ۔ اس موقع پر ظہور دھریجہ نے درگاہ حضرت مخدوم رشید حقانی ؒ پر حاضری دی ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -