ضلع ملتان میں یونیورسٹیوں سمیت56تعلیمی ادارے حساس قرار،سکیورٹی اقدامات صفر

ضلع ملتان میں یونیورسٹیوں سمیت56تعلیمی ادارے حساس قرار،سکیورٹی اقدامات صفر

  

ملتان (سٹاف رپورٹر)ضلع ملتان میں یونیورسٹیوں سمیت2855میں سے 56تعلیمی ادارے ’’اے کیٹگری ‘‘ میں شامل کرکے حساس قرار دے دئیے گئے ‘ حکومتی ایس او پیز کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے ‘ جدید اسلحہ اورٹرینڈ گارڈز نہ ہونے کے باعث تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سوالیہ نشان بن کر رہ گئی‘تفصیل کے مطابق ضلع ملتان میں زکریا یونیورسٹی ‘نوازشریف زرعی یونیورسٹی ‘ ایجوکیشن یونیورسٹی(بقیہ نمبر42صفحہ7پر )

لاہور‘ ملتان کیمپس‘ انسٹی ٹیوٹ آف سدرن پنجاب ‘خواتین یونیورسٹی ‘ گورنمنٹ ایمرسن کالج ‘ گورنمنٹ سائنس کالج‘ فیڈرل سکولز و کالجز ‘گورنمنٹ پائلٹ ہائر سیکنڈری سکول سمیت 56تعلیمی ادارے سکیورٹی کے حوالے سے حساس قرار دے کر اے پلس کیلٹگری میں شمار کئے گئے ہیں ‘کو ایجوکیشن والے تعلیمی ادارے خاص طور پر حساس قرار دئیے گئے ہیں‘ دہشت گردی کے باعث حکومت نے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے لئے خصوصی احکامات دئیے جن پر تاحال مکمل طور پر عملدر آمد نہیں ہو سکا‘ایس او پیز بیشتر تعلیمی اداروں میں کاغذوں تک محدود ہیں ‘ یونیورسٹیوں ‘کالجوں اور سکولوں میں آؤٹ سائیڈر افراد کی آمد بدستور جاری ہے ‘ طلبا کے ہاسٹلز بھی سکیورٹی رسک بنے ہوئے ہیں ‘ حساس تعلیمی اداروں کے اردگرد اونچی عمارتیں بھی سیکورٹی کے لئے خطرہ ہیں ‘تعلیمی اداروں خصوصاً سکولوں کے قریب تجاوزات اور ریڑھیاں شدید سکیورٹی رسک ہیں ‘ تعلیمی اداروں کے سائیکل سٹینڈ بھی کلاس رومز اور دفاتر سے مناسب فاصلے پر نہیں ہیں‘تعلیمی اداروں کے پاس جدید اسلحہ ہے نہ ہی گارڈز کو جدید ٹریننگ کرائی گئی ہے ‘ بیشتر سکولز میں چوکیداروں ‘مالیوں اور چپڑاسیوں کو بندوقیں پکڑا کر کھڑا کر دیا گیا ہے جو سکیورٹی کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں‘ بیشتر گارڈز کو اسلحہ چلانا‘ ٹریگر دبانا تک نہیں آتا ‘متعدد تعلیمی اداروں کے سی سی ٹی وی کیمرے خراب ہو چکے ہیں ‘چند ایک کے علاوہ کسی تعلیمی ادارے میں سکیننگ گیٹ ہی نہیں ہے ‘حکام تعلیمی اداروں کے دورے کرکے حکومت کو سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں مگر حقائق اس کے برعکس ہیں ‘ اس سلسلے میں تعلیمی حلقوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں ۔

تعلیمی ادارے سکیورٹی اقدامات

مزید :

ملتان صفحہ آخر -