بسلسلہ نفاذ اُردو عدالت عالیہ کا فیصلہ نافذ کیا جائے، پروفیسر شفیق احمد

بسلسلہ نفاذ اُردو عدالت عالیہ کا فیصلہ نافذ کیا جائے، پروفیسر شفیق احمد

  

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر) آزادی کے 70 سال گزرنے کے بعد اللہ پاک کے خاص فضل و کرم سے عدالت عظمیٰ پاکستان اور پاکستانیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا آج یہ موقع ملا ہے کہ ہم خود کو حقیقی معنوں میں آزاد سمجھ سکتے ہیں۔ اُردو زبان کا نفاذ محض ایک زبان سے دوسری زبان کی طرف سفر نہیں یہ غلامی سے آزادی کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ اس سے پاکستان کے پسے ہوئے اور محروم طبقات کو، ہر پاکستانی کو تعلیم حاصل کرنے کا اور ز ندگی کی دوڑ میں حصہ لینے کا بھر پور موقع ملے گا اور اس کا حتمی نتیجہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی صورت میں برآمد ہوگا اس موقع پر ساری پاکستانی قوم کو یکسو ہونا پڑے گا، متحد ہونا پڑے گااور اپنے حق کی حفاظت کیلئے بیدار اور چوکس رہنا پڑے گا۔ ان خیالات کا اظہار صدر تنظیم اساتذہ پنجاب پروفیسر شفیق احمد نے’’ نفاذ اُردو پاکستان کا مستقبل ‘‘ کے عنوان کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں کیا۔ صدرتنظیم اساتذہ اسلام آباد ڈاکٹر وسیم احمد خان نے اس حوالے سے اپنی گفتگو میں کہا کہ عدالت عالیہ لاہور نے مقابلے کا امتحان اُردو میں لینے کا فیصلہ دے کر پر پاکستانی کے دل میں اُمید کی ایک کرن جگا دی اور اس کی آنکھوں میں حسین اورسنہرے مستقبل کے خواب بھر دئیے۔ اس موقع پر پاکستان کے ہر سرکاری ملازم کو، وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشن کے چیئرمینوں کو صرف اور صرف اپنے محکموں میں ہر سطح پر ہر شعبے میں اُردو کے نفاذ کیلئے کام کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی اگر مگرچونکہ چنانچہ کو نطر انداز کر کے صرف اور صرف نفاذ اُردو کیلئے کام کرنا چاہیے ۔ ان کو علم ہوناچاہیے کہ پاکستان میں نفاذ اُردو کے حوالے سے ہر پاکستانی کے جذبات اور حساسیت اس حد تک بیدار ہوچکے ہیں کہ جو کوئی اس کی راہ میں دیوار جائے بننے کی کوشش کرے گا، روڑے اٹکائے گا انشاء للہ وہ روندا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو پابند کیاجائے وہ تمام سطحوں پر اُردو کو ذریعہ تعلیم قرار دیں۔ا س سلسلے میں انگریزی کی لازمی حیثیت کو ہر جگہ سے بے دخل کیا جائے مقابلے کے امتحان اُردو میں لینے کا مطلب یہ ہے کہ اس امتحان سے انگریزی کو تمام صورتوں میں بے دخل کر دیا جائے گا ۔ انگریزی کا پرچہ اگر ہوگا تو صرف اس صورت میں کہ وہ باقی زبانوں کے مضمونوں کیطرح ایک اختیاری پرچہ ہوگا، اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت ہوگی نہ وقعت۔ تنظیم اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ پانچویں سے آٹھویں تک غیر ملکی اور پاکستانی زبانوں میں سے کوئی ایک زبان بچوں کو ایک اختیار ی مضمون کے طور پر پڑھائی جائے تاکہ بچوں کو کسی ایک زبان کی شد بدھ حاصل ہوسکے اور بوقت ضرورت وہ اس میں مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکے ۔ ڈاکٹر وسیم نے کہ کہ نفاذ اُردو میں پاکستان کی ترقی اور خوش حالی ہے ۔ جس میں ملک میں علم ، سائنس ٹیکنالوجی ار معیشت کا فروغ ہوگا ۔ لوگوں کو نفاذ اردو کے راستے میں روڑے اٹکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -