کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نیست ،اہم عہدے تاحال خالی

کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نیست ،اہم عہدے تاحال خالی

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) تبدیلی سرکار کوھاٹ یونیورسٹی میں مستقل افسران کی تعیناتی میں ناکام طویل عرصے سے وائس چانسلر سمیت اہم عہدے خالی‘ قائمقام افسران معاملات چلانے میں ناکام‘ نوجوانوں کے مسائل حل کرنے کے دعوے کرنے والے خالی عہدوں پر تعیناتیاں تک کرنے میں ناکام‘ تعطیلات کے مطابق سابقہ گورنر پختونخوا افتخار حسین شاہ کا لگایا پودا کوھاٹ یونیورسٹی تناور درخت بننے کے بجائے حکومتی عدم دلچسپی کے باعث مرجھانے لگا ہے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور ہائیر ایجوکیشن کے اعلیٰ افسران کی نااہلی اور عدم دلچسپی کے باعث یونیورسٹی گزشتہ 28 مہینوں سے مستقل وائس چانسلر سے محروم ہے اکتوبر 2014 میں وائس چانسلر ناصر جمال خٹک کے جانے کے بعد فدا یونس خٹک اور اب ڈاکٹر شفیق الرحمن قائمقام وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اسی طرح گریڈ 20 کے رجسٹرار آزاد خان خٹک گزشتہ گزشتہ کئی سالوں سے اضافی طور پر گریڈ 20 کے ڈائریکٹر اکیڈمکس کی سیٹ پر بھی براجمان ہیں اور ایک ہی وقت میں مسلسل کئی سالوں سے گریڈ 20 کے دو عہدوں پر کام کر رہے ہیں اسی طرح گریڈ 18 کے ملازم محمد ظفر گریڈ 20 کا عہدہ سنبھالے ڈائریکٹر فنانس کی پوسٹ پر قابض ہے جبکہ ڈائریکٹر پلاننگ کی پوسٹ پر بھی طویل عرصے سے گریڈ 18 کا افسر بیٹھا ہے جو کہ درحقیقت گریڈ 20 کی پوسٹ ہے یونیورسٹی ذرائع کے مطابق گریڈ 20 کی پوسٹ پر گریڈ 18 کے افسر کی تعیناتی باعث حیرت ہے اس حوالے سے دلچسپی امر یہ ہے کہ شعبہ امتحان کی سب سے اہم پوسٹ اسسٹنٹ کنٹرولر سیکریسی گزشتہ ڈیڑھ سال سے خالی پڑی ہے جس پر کنٹرولر امتحانات بیٹھ کر اضافی مزے لوٹ رہا ہے مگر اندھی اور بہری صوبائی حکومت اس جانب توجہ دینے کو تیار نہیں اور نہ ہی کوھاٹ سے منتخب ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کو اس بات کا احساس ہے کہ اتنی اہم پوسٹوں کے خالی ہونے اور مسلسل عارضی تعیناتیوں کی وجہ سے یونیورسٹی تباہی کے دھانے پر جا پہنچی ہے یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد کی کمی کے ساتھ رینکنگ میں بھی کمی آئی ہے اور اگر موجودہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی کا یہی حال رہا تو یونیورسٹی کی مزید بربادی یقینی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -