جدہ میں کامک کان فیسٹیول کا انعقاد، سعودی تاریخ میں پہلی مرتبہ مرد اور خواتین اکٹھے شریک ہوئے، یورپ میں دھوم مچ گئی

جدہ میں کامک کان فیسٹیول کا انعقاد، سعودی تاریخ میں پہلی مرتبہ مرد اور ...
جدہ میں کامک کان فیسٹیول کا انعقاد، سعودی تاریخ میں پہلی مرتبہ مرد اور خواتین اکٹھے شریک ہوئے، یورپ میں دھوم مچ گئی

  

جدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب کو دنیا بھر میں سخت اسلامی قواعد و ضوابط کی وجہ سے جانا جاتا ہے لیکن اب سعودی عرب میں بھی تبدیلی آگئی ہے جس کی دھوم یورپ تک جا پہنچی ہے۔ یہ تبدیلی جدہ میں 3 روزہ کامک میلے کے دوران دیکھنے میں آئی جس میں مرد و خواتین نے ایک ساتھ شریک ہو کر نئی تاریخ رقم کی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے جب سے ویژن 2030ءکا اعلان کیا ہے ، سعودی عرب کا نیا روپ دیکھنے میں آ رہا ہے۔جدہ میں ہونے والے ’کامک کان‘ میلے میں پہلی بار خواتین بھی مردوں کے ساتھ میلے میں شریک ہوئیں۔ مرد اور خواتین کے داخلے کیلئے تو الگ الگ راستے بنائے گئے تاہم اندر سب ایک ہی جگہ پر اکٹھے تھے۔

اس فیسٹیول کے موقع پر تقریباً 20,000 کے قریب سعودی شہری کامک کتابوں کے ہیروز کا روپ دھارے اور چہرے پر مختلف کرداروں کے پینٹ سجائے سڑکوں پر نکل آئے اور فیسٹیول میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف کرداروں کا روپ دھارے افراد کے ساتھ سیلفیز بنائیں۔ شرکاءکیلئے میلے میں ویڈیو گیمز بھی رکھی گئی تھیں جس کے باعث نوجوانوں نے بھرپور طریقے سے اس میلے کا لطف اٹھایا۔

سعودی عرب کے شہر میں سعودی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا پہلا کامک کان فیسٹیول سعودی حکومت کے ویژن 2030 کا حصہ ہے ۔ جس کے تحت حکومت نے جدید دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوان آبادی کیلئے قدرے روشن خیال اور تفریح کے پروگرام شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ سال 2015ءمیں سعودی عرب کے نائب شہزادے محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے ویژن 2030ءکے تحت سعودی معاشرے میں ثقافتی بہتری لانے اور ثقافت کی ترویج کا اعلان کیا تھا۔ اس کا مقصد مملکت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا اورسعودی معاشرے کی قدرے محدود زندگی کو وسیع بنانا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -