افغان حکومت کو زوردار جھٹکا، وزیر کے مشیر سمیت 56 اہلکار طالبان سے جا ملے

افغان حکومت کو زوردار جھٹکا، وزیر کے مشیر سمیت 56 اہلکار طالبان سے جا ملے
افغان حکومت کو زوردار جھٹکا، وزیر کے مشیر سمیت 56 اہلکار طالبان سے جا ملے

  

پشاور،کابل (ویب ڈیسک) افغان طالبان کے دعوت وار شاد کمیشن نے افغان صوبہ قندوز میں درجنوں اہلکاروں کو اپنے ساتھ ملا لیا، افغان طالبان کیساتھ جاملنے والوں میں نائب وزیر خارجہ کے سیکیورٹی ایڈوائزر بھی شامل ہیں ،طالبان نے پورے افغانستان میں مزید لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے اور ایک طویل لڑائی کیلئے تیار یاں بھی شروع کر دی ہیں۔

روزنامہ امت کے مطابق افغان طالبان ذرائع سے اطلاعات ہیں کہ دعوت وار شاد کمیشن کے دعوتی سلسلے کے نتیجے میں افغانستان کے شمالی صوبہ قندوز میں 56 پولیس اہلکاروں نے افغان طالبان کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے اور ان کے ساتھ مل گئے ، افغان صوبہ قندوز کے ضلع خان آباد کے 56 پولیس اہلکاروں نے گزشتہ ہفتے کمیشن کے ارکان اور مقامی مشران کی کوششوں کے نتیجے میں مذکورہ ضلع کے شوہانی ، چوپانی، لودن، ملاخیل، میاں زئی، دروازہ کینٹ، توت مرزا، کابلی ، سردا، نواباد سرائے، بدخیل، جنگل باشی، بابا کرخیل، غاخیل، ملا غلام، جنگل چار سرائے، لغ مانی، تگاب، دولت یار ، سردنو، ابراہیم خیل ، پشئی ، دمکا ، ملا جمال خان ، سمدو خان ، خالو خیل، مالو خیل ، سنگوشی، میران وغیرہ کے علاقے افغان طالبان کے حوالے کرتے ہوئے اپنے ہتھیار وں سمیت طالبان کے ساتھ مل گئے ۔ طالبان کے ساتھ ملنے والوں میں نائب وزیر خارجہ کے سکیورٹی ایڈوائزر رنجیب اللہ ولد حفیظ اللہ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہدایت اللہ ولد نور اللہ، احمد شاہ ولد محمد باز، نقیب اللہ ولد غلام محمد ، محمد رفیع ولد محمد زکریا، عبدالحمید ولد جمعہ خان، محمد نواب ولد محمد اکبر اور دیگر نے بھی افغان طالبان کے ساتھ شمولیت اختیار کر لی ہے ۔

مزید :

بین الاقوامی -