’فاٹا ہم کو دے دو‘

’فاٹا ہم کو دے دو‘
’فاٹا ہم کو دے دو‘

  

افغانستان میں روس کے حملے کے بعد جہاں افغان عوام نے جانی اور مالی نقصانات کا بے انتہا خمیازہ بھگتا وہاں پاکستان کے صوبے خیبر پختوا اورپوری قبائلی پٹی فاٹا میں بسے والوں کے لئے یہ گھڑی تکلیف، کرب اور پریشانی سے کم نہ تھی۔ افغان جنگ ختم ہونے کے بعد کئی دہائیوں سے دونوں اطراف افغانستان اورپاکستان کی سرحدی حدود کے ساتھ منسلک ایریاز مسلح جنگجو گروپ اور دینی انتہاپسند گروہوں کے قبضے میں رہے ،جہاں انھوں نے اپنے ٹرینگ کیمپ اورآماجگاہیں بنا رکھی تھیں۔ عالم اقوام کی نظر میں پاکستان اور افغانستان کے یہ قبائلی علاقے دہشت ، خوف اور جرائم کا گھر سمجھے جاتے ، کئی عرصہ تک پوری دنیا سے جنگجو ، دہشت گرد، ٹارگٹ کلرزاور کرمنلز یہاں آ کر مقیم رہے۔ یہاں سے یہ منظم انداز میں خود کش حملوں، بم دھماکوں، دہشت گردی کی امداد و ترسیل ، اغواء برائے تاوان اور دیگر جرائم کی منصوبہ بندی ، تخریب کاری اور پلاننگ کو عملی جامع پہناتے ۔

ماہرین پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کا مرکز افغانستان اور پاکستان سے منسلک ان قبائلی علاقہ جات کو قرار دیتے رہے ہیں۔ پاکستانی سیکورٹی فورسزاور افواج نے فوجی آپریشنز شروع کیا ،جس میں پاک افواج، قانون نافذ کرنے والوں ادارے ، پولیس اور عوام نے قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کئے جس کے نتیجے میں تمام قبائلی علاقہ جات کو دہشت گردوں سے خالی کرایا گیا ۔ اس فوجی آپریشن کے دوران کئی دہشت گرد مارے گئے اوران کی بڑی تعداد سرحد پار کرکے افغان میں روپوش ہو گئے۔قبائلی علاقہ جات میں ہونے والے آپریشن کے دوران وہاں کے رہنے والے لاکھوں قبائل کو اپنے گھر بار، مال ومویشی، زر وزمین چھوڑ کر بے سرو سامانی کی حالت میں ہجرت کر نا پڑی۔ اس دوران کے پی کے حکومت کو دیگر مسائل کے ساتھ قبائلیوں کی آبادی جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ فوجی آپریشن ختم ہونے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومت نے ان قبائل کو قومی دہارے میں لانے کے لئے دوبار ہ آباد کاری کا عمل شروع کیا اور فاٹا کو کے پی کے کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی۔ وفاقی حکومت کو چاہئے تھا قبائلیوں کی آبادی کاری کے عمل کے ساتھ ہی سیاسی مصلحت سے بالا تر ہو کر مشاورت سے فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کی منظوری دیتے ، جس سے قبائلی عوام کو تمام حقوق کے ساتھ مراعات و سہولیات میسر ہوتیں اور دہشت گردوں کو دوبارہ پنپنے کا موقع نہ ملتا۔

حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں اس پر متفق نظر آتی ہیں کہ فاٹا اور قبائلی علاقاجات کے اندر عوام کو ضروریات زندگی (روزگار، صحت، تعلیم اور دیگر دوسری سہولیات ) کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہاں کے عوام ملک کے باشعور شہری کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے ملک میں اپنا کردار مثبت طور پر ادا کر سکیں، جس کے بعد ہی پاکستان عالمی طاقتوں کے دباؤ کا کھل کر مقابلہ کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس وقت کے پی کے میں جہاں دہشت گردی ، انتہاء پسندی اور جرائم کی فضا قائم ہے وہاں فاٹا کے عوام کا اضافی بوجھ بھی کے پی کے حکومت کے کندھوں پر ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق تقریبا 75 فیصد سے زیادہ قبائلی پشاور میں مقیم ہیں جبکہ 25 فیصد فاٹا میں مقیم ہیں۔

فاٹا کا وسیع ترین ایریا افغانستا ن کی سرحدی لمبائی 2380 کلومیٹر کے ساتھ منسلک ہے۔ اس علاقے میں دشوار گزار اور کٹھن پہاڑی سلسلہ ہونے کے باعث رابطہ سڑکوں کا نظام خستہ حالی کا شکار ہے۔ فاٹا کا ایریا باجوڑ ایجنسی سے شروع ہو کر جنوبی وزیرستان تک پھیلا ہوا ہے۔ فاٹا کی سات ایجنسیاں: باجوڑ ایجنسی، مہمند ایجنسی، خیبر ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، کرم ایجنسی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے ساتھ ساتھ فرنٹیئر ریجن: (پشاور، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈی آئی خان پر مشتمل ہے) فاٹا کی تمام ایجنسیوں کے راستے فرنٹیئر ریجن سے نکلتے ہیں جب کہ ان فرنٹیئر ریجن پر ڈی۔سی۔اوز تعینات ہیں۔ باجوڑ ایجنسی کا راستہ (ٹرمیگرہ) ضلع دیر سے نکلتا ہے، چار سدہ میں (گلا نائی) کے مقام سے مہمند ایجنسی کی رابطہ سٹرک ہے، خیبر ایجنسی کا راستہ پشاور (جمردو) سے نکلتا ہے۔ اورکزئی اور کرم ایجنسی کا راستہ ہنگو سے ہے، شمالی وزیرستان کا راستہ بنوں سے جبکہ جنوبی وزیرستان کا راستہ ضلع ٹانک سے جاتا ہے۔ فاٹا کے ان قبائلی علاقا جات ( ایجنسیز) کا ایک دوسرے سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں جس کی وجہ سے آپس میں سماجی ،معاشرتی اور معاشی تعلقات نہیں ہیں۔ تمام ایجنسیز کے رہنے والے متعلقہ اضلاع سے گہرے مراسم اور روابط رکھتے ہیں۔ فاٹا کے روز مرہ کے معمولات اور مسائل کے حل کے لئے چیف ایگزیکٹو(گورنر) اور پولیٹکل ایجنٹ پشاور میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔

وفاقی حکومت نے حال ہی فاٹا و قبائلی نمائندگان(سات سینٹر اور بارہ ایم این اے) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان سے مشاورت کے بعد ایک کمیٹی سرتاج عزیز کی صدارت میں تشکیل دی ۔ کمیٹی کے سب ارکان نے متفقہ طور پر فاٹا کو کے پی کے کا حصہ ضم کرنے کی سفارش کی۔ وفاقی حکومت جماعت کے دو اتحادی ارکان مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی نے اس وقت تو کمیٹی میں کوئی اعتراض نہیں اٹھا یا جب کہ بعد میں اس کی مخالفت شروع کر دی جس کے باعث وفاقی حکومت نے اپنے قدم پیچھے کر کے اس بل کوروک لیا اور مطالبہ اٹھایا کہ فاٹا میں امن کا واحد حل اسکے لئے الگ صوبہ میں ہے۔اور فاٹا فاٹا والوں کو ملنا چاہئے لیکن کے پی کے والے چاہتے ہیں کہ فاٹا ان کو مل جانا چاہئے۔یہ صورتحال بڑی حساس ہے لہذاان حالات میں وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس بل کو فوراً پیش کرے تاکہ فاٹا اور قبائلی عوام کو تمام بنیادی ضروریات اور حقوق حاصل ہوں جس کے بعد ہی دہشت گردی جیسے ناسور کا خاتمہ ممکن ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -