بائیسویں قسط، سلسلہ نوشاہیہ کی تحقیقی داستان قسط وار

بائیسویں قسط، سلسلہ نوشاہیہ کی تحقیقی داستان قسط وار
بائیسویں قسط، سلسلہ نوشاہیہ کی تحقیقی داستان قسط وار

  

شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانوادۂنوشاہیہ کی خدمات

اللہ کی عظیم ہستیاں عام انسانوں کی طرح ہی زندگی بسر کرتی ہیں۔وہ مجاہدوں ،ریاضتوں اور مخصوص عبادات کے اوقات میں ہی کچھ وقت کے لئے عوام الناس سے پردہ کرتی ہیں تاکہ ان کے انہماک ،لذت عشق و سلاسلِ معرفت کامعرفت حق کے سیٹلائٹ سے تعلق مزید مضبوط و مؤثر ہوجائے۔

بزرگان طریقت کے لئے گوشہ نشینی اورتنہائی ایک پسندیدہ اور روح پرور موقع ہوتا ہے ۔وہ ان لمحوں میں معاملات روحانیت کے اسباق دوہراتے اوراپنے خالق و مالک سے روحانی قرب پیدا کرکے توانائی حاصل کرتے ہیں ۔لیکن اہل معرفت کو اس تنہائی اور گوشہ نشینی کوترک کرکے شریعت کے اصولوں اور نظام الٰہی کی پاسداری اورپابندیوں کے تحت مخلوق خدا کی خدمت کرنا ہوتی ہے۔کوئی بھی سالک و شیخ طریقت کی راہ پر گامزن ہوتا ہے تو سب سے پہلے اسے مخلوق کی خدمت کا عزم کرنا ہوتا ہے اور عملی طور پر اسکا نمونہ پیش کرنا ہوتا ہے۔مخلوق کی خدمت سے عاجزی،انکساری،صبر،استقامت ،سادگی،آسودگی حاصل کرنا ہوتی ہے اور تکبرونخوت ،ریاکاری،مادہ پرستی کو ترک کرنا ہوتا ہے۔ اللہ اپنے مقرب بندوں کا انتخاب کرکے انہیں ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے۔یہ بندگان ومقربان خدااور محبوبان رسولﷺ مخلوق خداکے درمیان ایک عام سے حلیہ میں نظر آتے ہیں لیکن ان کے ہر عضو میں بالخصوص لطائف باطنی سے تجلی پھوٹ رہی ہوتی ہے۔ اس تجلی کو حضرت ابوالکمال برقؒ نوشاہی قادری میں محسوس بھی کیا جاتا تھا اور مشاہدات و تجربات سے گزرنے والے تو ان لمحات قدرتیہ میں نہال و بے حال ہو جایا کرتے تھے۔آپ مخلوق خدا کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف ہوتے اور رات کے آخری پہر اپنے مجرب مشغولات میں مصروف رہتے۔

اکیسویں قسط۔ ۔ ۔حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ، تحقیقی داستان  پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جناب سید تصدق حسین نوشاہی کا کہنا ہے کہ حضرت ابوالکمال برقؒ نوشاہی قادری مثل برق تھے۔ بالخصوص چشم برق سے لوگوں کے قلب تبدیل ہو جاتے تھے۔ ایک بار حضرت برقؒ ہالینڈ میں قیام پذیر تھے۔ آپؒ کے برادر حضرت سید معروف حسین شاہ عارف نوشاہی بھی وہاں موجود تھے۔ دونوں برادران کو اکٹھا دیکھ کر ایک مرید محمدشریف نوشاہی سرنامی نے دونوں حضرات کی تصویر بنانی چاہی ۔جب دونوں بھائی اکٹھے بیٹھ گئے تو حضرت برقؒ نے فوٹو گرافر کو تصویر کھینچنے سے پہلے فوکس کرنے اور مخصوص زاویہ سے تصویر بنانے کی ہدایت کی۔فوٹو گرافر غیر مسلم تھا اور حیران ہو رہا تھا کہ یہ بزرگ فوٹو گرافی کے مستند طریقے سے تصویر بنانا کیسے جانتے ہیں؟

خیر۔۔۔جب تصاویر بنانے کے بعد وہ فلم ڈویلپ کرنے بیٹھا تو اسکی حالت غیر ہو گئی۔ اگلے روز وہ حضرت برقؒ کے مریدمحمدشریف سرنامی سے ملا۔تصویر دیکھاتے ہوئے ایک تصویر پر انگلی رکھی اورپوچھا ۔’’یہ صاحب کون ہیں۔کل جب میں تصویر بنا رہا تھا تو یہ کسی ماہر فوٹو گرافر کی طرح مجھے ہدایات دیتے رہے ہیں لیکن پھر رات کو تو معاملہ ہی کچھ اور ہو گیا‘‘

’’یہ میرے پیر و مرشد حضرت ابو الکمال برقؒ نوشاہی قادری ہیں‘‘۔محمدشریف نوشاہی سرنامی نے فوٹوگرافر کے چہرے پر اشتیاق کی عجیب کیفیت ملاحظہ کی اور بتایا’’حضور ،ولی اللہ ہیں۔ آپ بہت سے علوم پر دسترس رکھتے ہیں۔ اچھا یہ بتاؤ رات کو ہوا کیا ہے۔‘‘

’’بڑی عجیب بات ہوئی ہے۔ میری زندگی میں اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہ گزرا ہے نہ سنا ہے‘‘۔فوٹو گرافر نے اپنے جذبات قابو کرتے ہوئے بتایا’’میں جب رات کو فلم ڈویلپ کررہا تھا تو مجھے آپ کے پیر صاحب کی آنکھوں سے عجیب سی چمک ابھرتی نظر آئی اور مجھے لگا جیسے یہ آنکھیں میرے اندر تک اُتر گئی ہیں۔۔۔دوسری بات یہ ہے کہ تصاویر بناتے ہوئے یہ مجھے جس انداز سے بھی تصویر کھیچنے کی ہدایت کرتے تھے میں اسے نظر انداز کردیتا تھا۔ مگر جب تصویریں بنی ہیں تو یہ اسی زاویہ سے بنی ہوئی ہیں جیسی یہ حضرت ہدایت کرتے تھے۔ میں تو اس میجک پر حیران تھاکہ میں نے تو ہر گز اس زاویہ کو ملحوظ نہیں رکھا تھا۔ فلم کے نیگٹو سے مجھے آپ کی گھورتی نظروں سے بہت خوف محسوس ہوا لہذا یہ معمہ آپ کے پاس لے کر آیا ہوں‘‘

محمدشریف سرنامی نے فوٹو گرافر کو حضرت ابو الکمال برق نوشاہی قادری کی تعلیمات اور سیرت و کردار سے آگاہ کیاتووہ حضرت برقؒ سے ملنے کے لیے بے تاب ہو گیا۔ حضرت برقؒ فوٹو گرافر کو دیکھتے ہی تبسم فرمانے لگے۔ فوٹو گرافر نے تصاویر پیش کیں تو شریف سرنامی نے اس کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا ذکر فرمایا۔ فوٹو گرافر نے لرزتے ہوئے انداز میں کہا

’’سر۔میں غیر مسلم ہوں ۔ نہ مسلمانوں کے دین کے متعلق جانتا ہوں اور نہ ہی آپ کے خفیہ باطنی معاملات سے آگاہ ہوں۔ میں تو اسے میجک سمجھا تھا لیکن اب آپ کے حضور پیش ہوا ہوں تو میرے اندر سے آواز پھوٹ رہی ہے کہ میں آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہو جاؤں۔اور میں بھی ویسا بن جاؤں جیسا یہ آپ کا مرید ہے ‘‘اور پھر ایسا ہی ہوا۔چشم برق سے پھوٹنے والے نور نے فوٹو گرافر کے دل میں اُجالا کر دیا اور وہ کلمہ حق پڑھ کر ایسا مسلمان ہوا کہ اس نے عبادت وریاضت میں عام مسلمانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

حضرت سید ابوالکمال برقؒ نرمی اور اخلاص سے مخلوق خدا کا دل جیت لیتے تھے۔اور اپنے اس فعل کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔آپ بریڈ فورڈ میں مقیم تھے جب ایک انگریز آپ کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گیا۔بعد ازاں اس نے مراکش جا کرعربی سیکھی اور آپؒ کے ایک مرید کی بیٹی سے شادی کرکے سلسلہ نوشاہیہ کا مبلغ بن گیا۔ آپؒ مہمانوں کی اپنے ہاتھ سے تواضح کیا کرتے تھے۔ سلسلہ نوشاہیہ کے بزرگوں کا یہی طریق انہیں اوصاف ولایت پر متمکن کرتا ہے۔ حضرت برقؒ اس پر سختی سے عمل کرتے اور صاحبزادگان وخلفا کو سائلین اور مہمانوں کے ساتھ عزت و توقیر کے ساتھ پیش آنے اور اپنے ہاتھوں سے خدمت کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔آپؒ کی یہ عادت خود کرامت تھی۔آپ بخوبی آگاہ تھے کہ حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ نے اپنے عزیز از جان بڑے صاحبزادے حضرت سید برخوردار کو مہمانوں کی تواضح نہ کرنے پر سجادگی سے محروم کر دیا تھا۔ حالانکہ حضرت پیرسیّد حافظ برخوردارؒ عارف کامل، عالم باعمل تھے۔ حضرت سید نوشہ گنج بخش ؒ کے مرشد کریم حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ کے نظر ڈالنے سے حضرت سیّدبرخوردارؒ مجذوب ہو گئے تھے ۔حضرت سید نوشہ گنج بخشؒ نے اپنے مرشد سرکار سے التماس کرکے اپنے فرزند کی فرزانگی ختم کرائی تھی۔

جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید :

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ -