نہتے زخمی فلسطینی حملہ آور کو شہید کرنے کے جرم میں اسرائیلی فوجی کو 18 ماہ قید کی سزا

نہتے زخمی فلسطینی حملہ آور کو شہید کرنے کے جرم میں اسرائیلی فوجی کو 18 ماہ ...
نہتے زخمی فلسطینی حملہ آور کو شہید کرنے کے جرم میں اسرائیلی فوجی کو 18 ماہ قید کی سزا

  

تل ابیب(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایک زخمی فلسطینی حملہ آور کو شہید کرنے کے جرم میں ایک اسرائیلی فوجی کو 18 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے ”آر ٹی“کے مطابق سارجنٹ ایلور اذاریا کو گذشتہ برس مارچ میں مقبوضہ غرب اردن میں 21 سالہ نوجوان عبدالفتح الشریف کو گولی مار کر شہیدکرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے،اذاریا نے فلسطینی شخص کو گولی مارنے سے پہلے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ ایک دوسرے اسرائیلی فوجی کو چاقو مارنے والا عبدالفتح”مارے جانے کا مستحق ہے“۔

اسرائیلی فوجی سربراہان نے ان کے اس اقدام کی مذمت کی تھی لیکن دیگر افراد نے اس کو سراہا تھا،اس واقعے کے بعد اسرائیل میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آخر حملہ آوروں کے خلاف اسرائیلی فوجیوں کو کن حالات میں طاقت کے بھرپور استعمال کی اجازت ہونی چاہیے؟ اس اسرائیلی فوجی کے معاملے میں ملک بھر میں رائے منقسم ہے۔

اس جرم میں 20 برس تک کی قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے لیکن استغاثہ نے اذاریا کے لیے 3  سے5 سال کی سزا کی درخواست کی تھی، جبکہ فلسطینی نوجوان عبدالفتح الشریف کے خاندان نے اذاریا کے لیے عمر قید کے سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن  نتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ اذرایا کی معافی کے لیے ہر فیصلے کی حمایت کریں گے،اس واقعے کی موبائل فوٹیج بڑے پیمانے پر اسرائیلی نیوز پروگرامز میں دکھائی گئی۔ اس ویڈیو میں اذرایا کو زخمی عبدالفتح کے سر پر گولیاں مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

کراچی کے علاقے صدر میں بم کی اطلاع ،بی ڈی ایس موقع پر پہنچ گئی

عدالت نے اذرایا کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا تھا کہ انھیں اس خوف میں گولی چلانی پڑی کہ کہیں عبدالفتح نے دھماکہ خیز جیکٹ نہ پہنی ہو۔

مزید :

بین الاقوامی -