آئی سی آئی جے کی خبر میں بے شمار غلطیاں، غلطی تسلیم کرکے ویب سائٹ سے وزیراعظم کا نام ہٹادیا:دانیال عزیز

آئی سی آئی جے کی خبر میں بے شمار غلطیاں، غلطی تسلیم کرکے ویب سائٹ سے وزیراعظم ...
آئی سی آئی جے کی خبر میں بے شمار غلطیاں، غلطی تسلیم کرکے ویب سائٹ سے وزیراعظم کا نام ہٹادیا:دانیال عزیز

  

اسلام آبا د(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے رہنما دانیا ل عزیز نے کہا ہے کہ آئی سی آئی جے خبر میں بے شمارغلطیاں ہیں جس کی انہوں نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے ویب سائٹ سے وزیراعظم کا نام ہٹا دیا تھا۔

اگر اسلام آباد کیخلاف میچ کے دوران گراﺅنڈ میں ہوتا توشاید ہارٹ اٹیک کے بعدہسپتال پہنچ چکا ہوتا: رانا فواد

تفصیلا ت کے مطابق دانیال عزیز کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب آئی سی آئی جے کی جانب سے وزیراعظم سے متعلق انفارمیشن شائع کی گئی تو اس پر میڈیا کیا گیا اور پورے ملک میں ہنگامہ پربا ہوگیا۔میں نے خود آئی سی آئی جے کو خط لکھا اور خبر کی وضاحت طلب کر لی اور چیک کر نے پر اس میں متعدد غلطیاں پائی گئیں ۔کمپنی نے کچھ دن کے بعد اپنی غلطی کو مانا اور ویب سائٹ سے نواز شریف کا نام ہٹا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ پیپرز میں وزیراعظم کا نام نہیں ہے اور نہ ان کے بچے حسن نواز اور حسین نواز پاکستان میں ٹیکس فائلر ہیں ۔مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ پہلے تو مخالفین نے واویلاکیا کہ ہمارے پاس وزیراعظم کیخلاف تمام ثبوت موجود ہیں لیکن جب عدالت میں ان ثبوتوں کو پیش کرنے کا وقت آیا تو ان کے پاس سے کچھ نہیں نکلا ۔پہلے ملک میں پانامہ کیس کو لے کر شور شرابہ ہوتا رہا ہے اور اب 25سال پرانے حدیبیہ کیس کو نکال لیاگیا ہے جس کا حب روایت میڈیا ٹرائل کیا جائے گا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری کا بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھاکہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے ،چیئر مین نیب کو ہٹا حکومت کے اختیار میں نہیں ہے اس کاایک مخصوص طریقہ کار ہے جبکہ چیئرمین نیب کی تقرری وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے ہوتی ہے ایسا ہرگز نہیں ہوتا کہ محض وزیراعظم ہی چیئرمین نیب کو منتخب کرنے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ ہی کبھی ایسا مستقبل میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ کیس تو ہائی کورٹ سے دوبارہ ختم ہوچکا ہے ،پی ٹی آئی حقائق توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔ہمیں مشرف دور میں بھی ان گناہوں کی سزا ملتی رہی جو ہم نے کبھی کیے ہی نہیں تھے۔

مزید :

قومی -