حکومت نیپ پر عملدرآمد میں ناکام، ملک میں 70 کالعدم تنظیموں کی موجودگی ستم ظریفی ہے: میاں افتخار

حکومت نیپ پر عملدرآمد میں ناکام، ملک میں 70 کالعدم تنظیموں کی موجودگی ستم ...
حکومت نیپ پر عملدرآمد میں ناکام، ملک میں 70 کالعدم تنظیموں کی موجودگی ستم ظریفی ہے: میاں افتخار

  

جدہ (محمد اکرم اسد )عوامی نیشنل پارٹی کے سکریٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان (نیپ) پر عملدرآمد کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور اس کے صرف ایک ہی نقطے پر جزوی طور پر کام ہوا ہے جبکہ باقی تمام نقاط ویسے ہی فائلوں کی نظر ہیں، حکومت وقت کیلئے یہ بڑا اچھا موقع تھا کہ وہ ایک متفقہ ایکشن پلان جسے تمام جماعتوں نے تائید دی تھی پرمن وعن عمل ہوتا تو آج حالات یہ نہ ہوتے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ پاکستان کے نمائندہ خصوصی سے عمرہ کی ادائیگی اور روضہ رسولﷺ پر حاضری کے بعد اورعثمان خٹک کی رہائش گاہ پر بات چیت کرتے ہوئے کہا۔

انہوں نے کہا کہ داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کو ازسرنو جائزہ لینا ہو گا اور ان کو صرف اور صرف ملکی مفاد میں بنانا ہو گا جو کسی کے تابع نہ ہوں۔ میان افتخار حسین نے کہاکہ یہ ستم ظریفی ہے کہ اس وقت ملک میں 70 کالعدم تنظیمیں کسی نہ کسی نام سے پھر سرگرم عمل ہیں جبکہ وزیر داخلہ ان کو فرقہ ورانہ گردانتے ہیں جس کی منطق سمجھ سے بالا تر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نظر میں صرف خودکش دھماکہ کرنے والا ہی دہشت گرد ہے اور باقی جو مرضی آکر کر جائے وہ دہشت گر د نہیں۔ چودھری نثار کی لابی مضبوط ہے وہ مستعفی نہیں ہونگے جب تک وہ ان کو نہ کہیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا امن افغانستان سے جڑا ہوا ہے اور ان کے لیے دونوں فریقوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ چین روس اور پاکستان افغانستان میں امن کیلئے اکٹھے ہوئے مگر جہاں امن ہونا ہے ان کو بلایا ہی نہیں گیا۔

انہوں نے افغان مہاجرین کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کو آنے والی امداد اگر مہاجرین کو مل جاتی تو وہ امیر ہو جاتے مگر یہاں کچھ دوسرے امیر ہو گئے ہیں جبکہ مہاجرین کو زبردستی بھیجا جا رہا ہے جو درست پالیسی نہیں ہے وہ پاکستان سے بد ظن ہو رہے ہیں جبکہ اس سے پہلے اقوام متحدہ کو ان کی واپسی کے انتظامات کرنا چاہیے تھے۔

میان افتخار حسین نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ اچھا شگون نہیں کہ بڑی جماعتیں سُکڑ کر صرف ایک ایک بار پھر اپنے اپنے صوبوں تک محدود ہو رہی ہیں جو سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی اپنی کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کر لے گی کیونکہ اب عوام نے ہمارے بارے میں سمجھنا شروع کر دیا ہے ۔

انہوں نے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے کہا کہ اے این پی کا نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے واضح مﺅقف ہے کہ اگر نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے تو وہ ثقافتی و جغرافیائی طرز پر تقسیم ہونی چاہیے نہ کہ انتظامی کیونکہ انتظامیہ تو پہلے ہی ضلعی سطحوں پر کام کر رہی ہے جبکہ بلدیاتی سسٹم بھی ہے ۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ فاٹا کو جلد از جلد صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کر دینا چاہیے اس میں ریفرنڈم کی کوئی ضرورت نہیں اور سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں ریفرنڈم میں کیا ہوتا ہے ، انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ حکومت اس کو 2018 کے انتخابات تک کھینچنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو بھی پیغام دیا کہ وہ مملکت کے قوانین کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنا کام کریں۔ انہوں نے سعودی عرب کی ترقی کو بھی سراہا اور پاکستان اور سعودی تعلقات کو مثالی قرار دیا، اس موقع پر نوشیرواں خٹک اور دوسرے بھی موجود تھے۔

مزید :

عرب دنیا -