کسی کو آئین بلڈوز نہیں کرنے دیں گے ،ہائی کورٹ نے اوگرا سمیت5ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

کسی کو آئین بلڈوز نہیں کرنے دیں گے ،ہائی کورٹ نے اوگرا سمیت5ریگولیٹری ...
کسی کو آئین بلڈوز نہیں کرنے دیں گے ،ہائی کورٹ نے اوگرا سمیت5ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے اوگرا سمیت 5ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

پولیس کا روالپنڈی کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن،10مشتبہ افراد گرفتار

فاضل جج نے آئندہ تاریخ سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی طلب کرلیاہے ،دوران سماعت فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں رولز آف بزنس میں ترمیم کے ذریعے ریگولیٹری اتھارٹیز کی انتظامی نوعیت تبدیل نہیں کی جاسکتی ،بظاہر حکومت نے اتھارٹیز کو وزارتوں کو ماتحت کر کے آئین کو بلڈوز کیا۔عدالت کسی کو آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے سکتی۔عدالتیں آئین اورقانون کے تحت فیصلہ کرتی ہیں۔درخواست گزار تحریک انصاف سمیت دیگر شہریوں کی جانب سے دائر درخواستوںمیں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیپرا،اوگرا ،پیپرا،پی ٹی اے اور فریکوینسی ایلوکیشن بورڈ کو وزارتوں کے ماتحت کر دیا گیا ہے،حکومت نے آئین کے آرٹیکل 154کے تحت مشترکہ مفادات کونسل سے بھی منظوری نہیں لی جو لازمی آئینی تقاضہ ہے ،مشترکہ مفادات کونسل اور کابینہ کی منظوری کے بغیر ہی ان خود مختار اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلہ کی روشنی میں اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے سے قبل کابینہ سے منظوری لینا بھی ضروری تھا،وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نصر مرزا نے اعتراف کیا کہ اس معاملہ پرمشترکہ مفادات کونسل سے منظوری نہیں لی گئی تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وفاقی کابینہ کی منظوری لی گئی تھی جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اتھارٹیز کو متعلقہ وزارتوں کے ماتحت کرنے سے قبل مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری نہ لے کر حکومت نے آئین کو بلڈوز کیا ہے، عدالت نے اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان کو آئینی نکات کی تشریح کے لئے طلب کر لیاہے۔

مزید :

لاہور -