ابھی موقع ہے

ابھی موقع ہے
ابھی موقع ہے

  



سیاسی گہما گہمی پاکستان میں فیصلہ کن موڑ کی طرف آرہی ہے اور آئندہ جنرل الیکشن بیس کروڑ لوگوں کی آراء کے ذریعے ملک کے مستقبل اور اس کی سمت کا تعین کرے گا۔ اِن شاء اللہ ایک دن یہ ملک قائد اعظم کے اصولوں پر چلانا پڑے گا جو اصول کڑوے ضرورتھے مگر قابل عمل تھے، یہ حالت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی، آخری لفظ ہمیشہ سچ اور اصول کا ہوتا ہے اور سیاسی کھیل میں آخری فتح ہمیشہ عوام کی ہوتی ہے، جس کا وہ اپنی پرچی سے اظہار کرتے ہیں، وہی ووٹ کی پرچی جس نے انگریزوں کے دور میں اس ملک کو بنایا تھا، وہی پرچی اب اس ملک کو بھی بچائے گی اور جلد یا بدیر قوم کو ایک آدمی ایک ووٹ کے نظریاتی اصول کی طرف لوٹنا ہی ہے، کیونکہ سب مل کر بھی جمہوریت پسند لیڈروں کو آئین اور قانون کی پاسداری سے بھگا نہیں سکتے، وہ ڈرا دھمکا کر نواز شریف کو قوم کے مقدمے سے دستبردار کروانا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عوام جمہور اور جمہوریت کی فتح دیکھنا چاہتے ہیں اور نواز شریف اس تاریخی سفر کے بے تاج سرخیل بنتے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کے پاس ٹیم ہے، تجربہ بھی اور سمت تبدیل کرنے کا حوصلہ بھی۔ انہوں نے اقتصادی طور پر پاکستان کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ ایسے میں وہ بے نظیر بھٹو کی قومی سیاسی منظر نامے پر کمی ضرور محسوس کر رہے ہوں گے۔

نواز شریف نے لوک عدالتوں کے لئے کوششیں شروع ہی کی تھیں کہ دھرنوں کے ذریعے اصلاحات کے عمل کو سبوتاژ کیاگیااور اصلاحات کا ایجنڈا احتجاج کی نذر ہوگیا۔2018ء کا سینٹ الیکشن اعلیٰ عدلیہ کے لئے ایک چیلنج ہوگا جہاں غریب آدمی عید پہ شاپنگ کی طرح دیکھتا ہی رہ جائے گا اور امیر پیسے کے بل بوتے پر تبدیلی کے صوبے میں یہ جا وہ جا کے مصداق ووٹ خرید کر جاتا بنے گا اور ہم ان کو چھ سال عوامی فنڈ پر بھگتیں گے پی ایم ایل (ن) پہلے بھی ایسی خرید و فروخت کی حوصلہ شکنی کرتی رہی ہے اور اب بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کوڈ آف کنڈکٹ بنانا چاہیے تاکہ کے پی کے اور بلوچستان سمیت باقی صوبوں میں پیسے کی مداخلت کی صریحاً اور کھلم کھلا نمائش کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

عام آدمی یا چھوٹے موٹے مقامی لیڈر تو اب ٹکٹ اپلائی کرنے سے بھی محروم ہوگئے اور آصف علی زرداری نے بلوچستان حکومت گرا کر جوڑ توڑ کا ایسا بے جوڑ کھیل شروع کردیا ہے جو دیکھنے میں جمہوری، لیکن جس کا صرف نقصان سیاستدانوں اور پاکستانی جمہوریت کو ہو سکتا ہے۔ عمران خان تبدیلی کی باتیں بہت کرتے ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں جب کام کی باری آتی ہے توکارکردگی کا ریکارڈ بانجھ نکلتا ہے۔

وہ مینار پاکستان کے جلسے کے بعد تبدیلی کے نعرے کے سہارے کھڑے تو ہیں لیکن انکی زنبیل کسی بھی سیاسی چمتکار سے خالی ہے، ترقی کی راہ پر پاکستان کا سفر جاری رہنا چاہیے اور اس کوشش میں شہباز شریف کی کارکردگی اور خدمات قابل تحسین ہیں، زینب کیس میں پنجاب کی رول ماڈل لیبارٹری نے فیصلہ کن کردار ادا کیا، جبکہ ایسے کیسز پر قومی مکالمے کا موقعہ بے دردی سے ضائع کیا گیا، عدالتی طاقت ایک بار پھر از خود نوٹسز کی کمان میں تیر کی طرح نصب ہے۔

پانامہ پر اقامہ کے ذریعے وزیراعظم کی بے دخلی جہاں بار اور بینچ کے لئے مسائل کنندہ ہے ۔وہیں ڈیڑھ سال بعد پھر نیب ٹرائل کورٹ منتقلی بھی لمحہ فکریہ ہے اور اس امتیازی سلوک اور ٹرائل پر سپریم کورٹ بار کی منطق ناقابل سمجھ ہے، جبکہ پانامہ میں قریباً چار سو سے زائد لوگ تھے اور مریم نواز شریف سیاست میں بلا واسطہ تب متحرک عہدیدار بھی نہیں تھیں۔

آپس کے اختلافات کو اولادوں تک لے جانے کا تجربہ پرانا تو ہے لیکن چارٹر آف ڈیموکریسی نے اس کی راہ ضرور روکی ہے، اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے، اس ساری کہانی میں اگر ماتحت عدالت انصاف کر دیتی ہے تو معاشرے میں بگاڑ کا اندیشہ ہے اور نقص امن کے ساتھ ساتھ انصاف کے بنیادی اصولوں کے پامال ہونے کا بھی۔

سارے نقصانات جمہوریت کو تو ویسے ہی نقصان پہنچا رہے ہیں لیکن صورت حال تشویش ناک ہے پاکستان میں اگر کوئی دعویدار نچلی سطح پر کوئی عدالتی اصلاحات لاتا ہے تو عوام کی صحیح خدمت ہوگی، کیونکہ انصاف ازخود نوٹسز سے نہیں شفاف ٹرائل اور سزا سے ہوتا ہے جس میں چھ ماہ میں چھوٹے مقدمات تین سماعتوں میں مکمل کئے جائیں۔

آنے والے دنوں میں عدالتی توہین میں سیاستدانوں کو مزید سزائیں اس عوامی مطالبے کا مؤجب بن سکتی ہیں کہ پی سی او ججوں کی بنچ پر واپسی ممکن نہ ہو سکے۔

چارٹر آف ڈیموکریسی اس پر بضد تھا اور نواز شریف اس معاملے پر معاملہ فہم اور درمیانی راستے کے خواہاں تھے، کیونکہ تب تک کسی چیف جج نے حاکم وقت کو ناں نہیں کی تھی اور وقت نے بے نظیر بھٹو کا موقف صحیح ثابت کیا۔

اب بھی وقت معاملات کو اس طرف لے جا رہا ہے کہ پی سی او جج اب شاید چیف جسٹس نہ بن سکیں۔نواز شریف کے عوامی راہ پر نکلنے اور عوام سے پارلیمان کے مستقبل پر فیصلہ لینے پر جن لوگوں کو کوئی شک تھا وہ شک نکل جانا چاہئے کیونکہ نواز شریف یہ لڑائی اپنے لئے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے لڑ رہے ہیں اور قوم اس چو مکھی لڑائی میں ان کے ساتھ ہے کیونکہ اسی اصول پر یہ ملک بنا تھا، ایک پرچی ایک ووٹ اور اسی اصول پر یہ ملک بچے گا بھی، اِن شاء اللہ اور ایسا معاشرہ اور اس کے لئے جدوجہد از حد ضروری ہے جس میں آئین کی بالا دستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو اور انصاف لوگوں کی دہلیز تک پہنچے اور احتساب ضرور ہو، مگر سب کا اور بلا امتیاز بھی۔۔۔ آئیے مل کر پاکستان کا مستقبل روشن بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں اور اپنے اپنے حصے کی شمع جلائیں تاکہ ہمارا حق ادا ہوا اور اگلے الیکشن میں اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں تاکہ کوئی سیاسی جوکر عوام کو بہلا پھسلا کر ترقی کی راہ سے ہٹا نہ سکے۔

مزید : رائے /کالم