” مجھے کیوں نکالا“ پر فکری مقالہ لکھ دیجئے

” مجھے کیوں نکالا“ پر فکری مقالہ لکھ دیجئے
” مجھے کیوں نکالا“ پر فکری مقالہ لکھ دیجئے

  



جب سے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے ، ان کے فہم و شعور کی وہ وہ پرتیں کھل کر سامنے آرہی ہیں جو آج تک پوری قوم سے پوشیدہ تھیں، سوائے ان لوگوں کے جنہیں قریب سے انہیں دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ اب تک وہ کئی ایک مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ مجھے اِس بات کی سمجھ نہیں آئی، مجھے اُس فیصلے کی سمجھ نہیں آئی، مجھے اِس تحریک کی سمجھ نہیں آئی۔ حیرانی کی بات ہے کہ تین مرتبہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز شخص اتنا ناسمجھ کیسے ہو سکتا ہے؟

انہیں اب تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ انہیں کیوں نکالا؟ بتکرار و اصرار دہرائے گئے اس جملے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اتنا شعری و نثری اور فکاہی ”ادب“ تخلیق ہو چکا ہے کہ کوئی بھی یونیورسٹی اس پر پی ایچ ڈی کا نہ سہی تو ایم فل کا مقالہ ضرور کروا سکتی ہے۔

” مجھے کیوں نکالا“ کا بڑا تفصیلی جواب معزز ججوں نے نظرثانی اپیل کے فیصلے میں بھی بڑی وضاحت سے دے دیا تھا۔ پھر بھی میاں صاحب کی ناسمجھی برقرار رہی اور تادم ِایں برقرار ہے۔ میاں صاحب اور ان کی جماعت کے کچھ لوگوں نے انتخابی اصلاحات سے متعلقہ ترمیمی بل کی آڑ میں عقیدہ ختم نبوت سے کھلواڑ کی کوشش کی تو میاں صاحب کو پھر نہ سمجھ آئی کہ اس کے خلاف احتجاج کیوں کیا جا رہا ہے جبکہ اصل قانون کو بحال کر دیا گیا ہے۔ میاں صاحب یہ بھول گئے کہ خود ان کے اپنے برادرِخورد ان سے یہ مطالبہ کرچکے تھے کہ جنہوں نے حلف نامے کو تبدیل کرنے کی سازش کی ہے، انہیں کابینہ سے نکال باہر کیا جائے۔ احتجاج کرنے والوں نے بھی تو یہی مطالبہ کیا تھا۔

حال ہی میں میاں صاحب کو ایک اور بات کی سمجھ نہیں آئی۔ ان کے پلّے یہ نہ پڑ سکا کہ اب جبکہ انتخابات میں چند ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہے تو سانحہ  ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے کیوں تحریک چلانے کی باتیں ہو رہی ہیں؟ حیرانی کی بات یہ ہے کہ میاں صاحب بدعنوانی ، لوٹ کھسوٹ اور منی لانڈرنگ کے ذریعے کمائی گئی دولت کے ساتھ ساتھ 14مقتولین کا فیصلہ بھی عوامی عدالت سے کروانا چاہتے ہیں۔

میاں محمد نواز شریف کی یہ ناسمجھیاں ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ کیا وہ عوامی عدالت کے فیصلوں کے ذریعے پورے عدالتی نظام کو تہہ و بالا کر دینا چاہتے ہیں؟کیا وہ اس ملک میں اندھے مقلدین کا نظامِ عدل رائج کرکے افراتفری اور انار کی پھیلانا چاہتے ہیں؟ کیا وہ واقعی اتنے ہی ناسمجھ ہیں؟.

,,

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ