بریانی کی ایک پلیٹ اور ووٹ

بریانی کی ایک پلیٹ اور ووٹ
بریانی کی ایک پلیٹ اور ووٹ

  



”تارا میاں ۔۔۔۔ آج آئینے میں چہرہ تو بڑا صاف دیکھائی دے رہا ہے“

”بس ملک صاحب شیشہ بدلا ہے   ۔ پرانے والے پر داغ ، دھبے اور رنگ گرنے سے دھندلا نظر آ تا تھا۔گاہک  اکثر اعتراض کرتے تھے کہ شیشہ گندہ ہے۔۔۔ چہرا صاف دیکھا ئی نہیں دیتا۔ اچھا ہے نا اب گاہکوں کو اپنا آپ صاف نظر آئے گا“

”تارا میاں۔۔۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں دنیا میں ہر شخص کی کوشش ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے منفرد، دل کش اور خوبصورت پیش کرے جس سے اس کی عزت و قار میں اضافہ ہو۔ ہمارے حکمرانوں، سیاست دانوں اور شہریوں کو بھی ایسے ہی ایک آئینے کی ضرورت ہے کہ جس میں ان کا ضمیر، نیت اور اعمال صاف نظر آ سکیں“

ہمارے ملک میں حکومتی و ریاستی ادارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کی خدمت پرمامور ہیں اور غریب عوام کے ساتھ جانوروں سے بھی برا ا سلوک کیا جاتا ہے۔ سیاست دانوں کی کیا چاہت ہے "اقتدار۔۔۔ ا ختیار" یعنی یہ ایک ہی سکے کے دو ±رخ۔ماضی میں جس بھی پارٹی کی حکومت رہی ہے کرپشن کی عظیم داستان رقم ہوئیں ۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے خوب لوٹ کھسوٹ ، فراڈ اور دھوکہ دہی سے اپنی جیبیں بھری ہیں ،بیرون ممالک میں محلات و جائدادیں بنائیں ، کالے پیسے کو وائٹ کرنے کے منصوبے بنائے، منی لانڈرنگ کیں۔ افسوسناک امر ہے کہ اس بندر بانٹ میں آئین و قانونی ضابطوں کے ساتھ ساتھ اسلامی اصولوں کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔

ہمارے حکمرانوں ، سیاست دانوں نے کبھی بھی عوام کے بارے میں نہیں سوچا کہ وہ کیسے ہیں اور ملکی حالات کس نہج پر پہنچ چکے ہیں، اس کی کسی کو بھی کوئی پرواہ نہیں رہی ہے۔ سیاست دانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ جب تک وہ سیاست چھوڑ کر خدمت کو اپنا نصب العین نہیں بنائیں گے تب تک نہ انھیں عزت ملے گی اور نہ ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

شہری سیاسی پارٹیوں کے سربراہان سے آج یہ سوال پوچھتے ہیں کوئی ایسا تاریخی فیصلہ جس سے ملکی ترقی و خوشحالی کے ادوار میں اضافہ ہوا ہو ،انہوں نے اپنے ادوار سوائے ایک دوسرے پر بہتان اور الزام لگانے کے کچھ نہیں کیا۔ آج تک ہمارے جمہوری ادوار میں باری کا کھیل کھیلا جا رہا ہے " پہلے میری باری۔۔۔ پھر تیری باری "۔ جس کے اثرات قوم کے وسیع تر مفاد میں ہونے کے بجائے منفی طور پر مرتب ہوئے ہیں ۔ یہاں شخصی آمریت کی بد ترین مثال ہے۔ ان تمام صورت حال میں عوام الناس کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ ملک کے کرپٹ اور خیرخواہوں سیاست دانوں میں فرق جانتے ہوئے ووٹ جیسی اہم ترین امانت کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں ، ایسے کرپٹ، فراڈ اور کرپٹ مافیا کے نرغے میں نہ آئیں جو پانچ سال اقدار و اختیار کے مزے لوٹنے کے بعد دوبارہ عوام کو سبز باغ دیکھ کر ووٹ لینے کے چکر میں ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں ایک بریانی کی پلیٹ پر اپنے ضمیر کا سودا مت کریں۔ ہر شہری کو چاہیے کہ وہ اپنے علاقے کے نمائندے سے پارٹی منشور کے بارے میں دریافت کرے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے سے بعد آزاد ہونے والے ممالک آج ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں ہم سے آگے نکل چکے ہیں اور ہماراگراف تنزلی کا شکار ہے۔

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ