شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 38

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط ...
شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 38

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

خود میرے شانے میں درد ہورہا تھا۔اور کسی قدر ٹمپریچر بھی معلوم ہونے لگا تھا ۔ادھر نوشاہ کے پیر کی تکلیف میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔وہ مسلسل کراہ رہے تھے ۔چار بجے کے قریب ان کو تیز بخار ہوگیا۔ذرا سی آہٹ پر میں ٹارچ روشن کرکے دیکھتاکہ کہیں شیر تو نہیں آرہا ہے۔گاؤں والوں کے صبح سویرے ہی آجانے کی امید نہیں تھی۔ان کو چار بجے گاؤں سے روانہ ہونا تھا ۔اس لحاظ سے کم ازکم ساڑھے سات آٹھ بجے وہ آتے ۔مجھے کچھ ایسا یقین ہوتاجا رہا تھاجیسے نورِسحر کا جلوہ اب کبھی دیکھنا نصیب نہ ہوگا۔

بہرحال جب تک سپیدہ سحر نہیں نکلا۔شیر کے خطرے سے دو چار ہونے کے لیے تیار رہنا پڑا۔ادھر نوشاہ کی حالت خراب تھی۔بخار بہت تیز تھا اور سارا پیر سوج کر تین گناہ موٹا ہوگیا تھا۔ان کی تکلیف دیکھ کر میں اپنی اذیت بھول جاتا۔ہر پانچ دس منٹ کے بعد ان کو بھی پانی پلاتا اور خود بھی پیتا۔ادھر سپیدہ سحر برآمد ہوا، ادھر پانی ختم ہوگیا۔

’’برادر ۔۔۔۔!‘‘ نوشاہ رورہا نسے ہوکر بولے ’’میں مررہا ہوں۔۔۔۔خدا کے لیے ایک قطرہ پانی لادو۔۔۔۔‘‘

’’ہمت نہ ہارو،نوشاہ۔۔۔۔! تم اچھے ہو۔۔۔۔۔میں پانی لاتا ہوں ۔۔۔۔‘‘

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 37 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مجھے یاد نہیں کہ کتنی ہمت ومحنت کے ساتھ میں اٹھا اور پانی کی کپی لے کر ندی کی طرف چلا۔میرے دونوں ہاتھ شل ہورہے تھے ۔شانوں میں سخت درد تھا اور ہاتھوں کو جنبش دینا یا رائفل اٹھانا ناممکن معلوم ہورہا تھا۔اس کے باوجود میں ایک ہاتھ میں بھاری رائفل اور دوسرے میں پانی کی کپی لیے ندی کی طرف بڑھا چلا جارہا تھا۔

میں جس مٹی کی پگڈنڈی پر چل رہا تھا،اس پر سامنے سے دو ریچھ آتے نظر آئے ۔یکبارگی میری قوت عود کر آئی ۔میں پانی کی کپی زمین پر رکھ کر اور ایک گھٹنا زمین پر ٹیک کر بیٹھ بیٹھنے لگا۔لیکن بخار کی شدت سے غالباً مجھے چکر آگیا اور بیٹھنے کے بجائے زمین پر گر پڑا ۔۔۔پھر بھی میں نے لیٹے لیٹے ریچھوں کی طرف رائفل اٹھائی اور فائر کردیا۔۔۔۔رائفل کے دھکے اور آواز کے اثر سے سنبھلنے کے بعد میں نے دیکھا کہ دونوں ریچھ اپنی جگہ پر ٹھہر ے ہوئے تھے۔سیاہ رنگ کے بڑے قد آور ریچھ۔۔۔میں نے رائفل دوبارہ اٹھائی ،لرزتے ،کانپتے ہاتھوں سے اس کو سنبھالا اور دوسرافائر کردیا۔۔۔اس کے بعد بھی ریچھ اپنی جگہ پر ہی تھے۔

میں نے رائفل کا بریج کھولا ،خالی کارتوس بمشکل تمام نکالے اور نئے کارتوس جیپ سے نکال کر ان میں رکھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔لیکن حالت یہ تھی کہ نظر کسی طرح ایک جگہ ٹھہرتی ہی نہیں تھی۔بخار بڑھ گیا تھا۔درد کی وجہ سے سر پھٹا جارہا تھااور کانپتی ہوئی انگلیاں ،ارادے کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں ۔

بڑی دیر محنت اور کوشش کے بعد میں کارتوس لوڈ کرنے میں کامیاب ہوا اور جس طرف ریچھ تھے،ادھر نال کرکے یکے بعد دیگرے دو فائر کیے۔پھر بہت کوشش کے ساتھ ادھر دیکھا ،جدھر ریچھ تھے۔نظروں کے آگے دھند سی چھائی جارہی تھی ۔بڑی کوشش کے بعد دونوں ریچھ بالکل اسی جگہ نظر آئے،جہاں میں نے دیکھے تھے۔۔۔۔

پھر بریج کھولا۔نئے کارتوس لگائے اور دونوں کارتوس اسی سمت میں فائر کردیے۔لیکن ریچھ اپنی جگہ پر ہی جمے بیٹھے رہے۔میں نے سوچا ،یااللہ ! یہ کس قسم کے ریچھ ہیں ۔میرے پاس کل دس کارتوس تھے۔یکے بعد دیگرے ،میں نے سارے کارتوس فائر کردیے اور ریچھ اپنی جگہ پر قائم رہے۔میرے خیال میں وہ ریچھ ہوں گے ہی نہیں۔کوئی چھوٹی جھاڑی ہوگی اوربخارکی شدت میں وہ مجھے ریچھ معلوم ہوئی۔

میں نے سوچا ،اب وقت آپہنچا ۔لیکن ایک دفعہ پھر میں نے کوشش کی ۔اگر کسی طرح اس درخت تک واپس پہنچ جاؤں ،جہاں نوشاہ پڑے تھے تو وہاں نوشاہ کی بار ہ بور کی دونالی بندوق موجود تھی۔میں نے رائفل اور پانی کی کپی وہیں چھوڑی اور گھسٹتا ہوا واپس چلا۔لیکن اب حالت یہ تھی کہ قدم رکھتا کہیں اور پڑتا کہیں ،لڑکھڑاتا ،سنبھلتاواپس تو ہوا ،لیکن درخت کی طرف جانے کے بجائے دوسری طرف بڑھا چلا گیا۔جیسے جیسے جسم پر زور پڑتا ،ویسے ہی ویسے بخار کی شدت و تکلیف میں اضافہ ہوتا جاتا۔درد کی وجہ سے سر پھٹا جا رہا تھا اور چکر آرہے تھے ۔

کافی دور جانے کے بعد بھی درخت کا پتہ نہ چلا تو پھر واپس ہوا کہ رائفل کی کپی ہی اٹھالوں۔لیکن چلنا دو بھر ہورہا تھا ایک ایک قدم من من بھر کا ہو گیا تھا۔

اور اسی تھکن بخار ،ذہنی انتشار اور اضطراب کے عالم میں خیال آیا کہ گاؤں کے ایک شخص نے کہا تھا کہ کھنڈر میں آسیب اور بھوت رہتے ہیں اور یہ بھی کہ وہاں رہنے والا شیر در حقیقت شیر نہیں ،بلکہ کوئی خوفناک آسیب ہے۔ یہ یاد آتے ہی معًا ذہن میں خیال آیا کہ میں کھنڈر کے آسیب یا بھوت کا شکار ہوگیا ہوں۔یہ خیال بڑا ہمت شکن اور پریشان کن تھا۔رہی سہی قوت مدافعت بھی زائل ہوتی معلوم ہوئی۔جہاں کھڑا تھا ،وہیں بیٹھ گیا اور بمشکل سر اٹھا کر چاروں طرف نظر ڈالی۔۔۔۔ایسا معلوم ہوا ،جیسے ہر شے بھاگ رہی ہے۔۔۔۔ہر درخت ،جھاڑی اور پتھر متحرک ہے۔حتٰی کہ مجھے اپنے قدموں تلے کی زمین بھی بھاگتی معلوم ہوئی ۔پھر میں چکراکر گر گیا اور نہیں معلوم کہ بے ہوش ہوگیایا نیند آگئی۔۔۔(جاری ہے )

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 39 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /شیروں کا شکاری