1950 میں سکردو میں کریش ہونے والا پی آئی اے کا طیارہ، لیکن اب اس کے اندر کیا شاندار چیز ہے؟ جان کر آپ کا دل کرے گا ابھی یہاں پہنچ جائیں

1950 میں سکردو میں کریش ہونے والا پی آئی اے کا طیارہ، لیکن اب اس کے اندر کیا ...
1950 میں سکردو میں کریش ہونے والا پی آئی اے کا طیارہ، لیکن اب اس کے اندر کیا شاندار چیز ہے؟ جان کر آپ کا دل کرے گا ابھی یہاں پہنچ جائیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سکردو(مانیٹرنگ ڈیسک)اگر آپ کبھی شمالی علاقوں کی سیر کو جائیں تو یہ ممکن نہیں کہ شنگریلا کے خوبصورت سیاحتی مقام پر ہوائی جہاز میں قائم کی گئی کافی شاپ آپ کے دل کو نا چھوئے۔ یہ مقام اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے تو بے مثال ہے ہی لیکن ہوائی جہاز میں کافی شاپ یہاں کی خاص انفرادیت ہے، جس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی۔ یہ بات مزید حیران کن ہے کہ یہ ہوائی جہاز کریش لینڈنگ کے بعد ناکارہ ہو گیا تھا لیکن ایک مقامی شخص کی شاندار کاوشوں نے اسے سیاحوں کی دلچسپی کا سامان بنا دیا۔

ویب سائٹ ’مینگو باز‘ کے مطابق یہ 13 اکتوبر 1950ءکی بات ہے کہ جب اورینٹ ائیرویز، جو بعد میں پی آئی اے کہلائی، کا ایک DC-3 طیارہ سکردو ائیرپورٹ سے پرواز کے تین منٹ بعد کریش کرگیا۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں عملے کے ارکان اور تمام مسافر محفوظ رہے، جن میں مشہور مصنف جیمز البرٹ مشنر بھی شامل تھے۔ سکردو کے ایک رہائشی بریگیڈیئر (ر) محمد اسلم خان مصنف جیمز ہلٹن کے ناول ’لاسٹ ہرائزن‘ سے بہت متاثر تھے۔ اتفاق سے یہ ناول بھی ایک طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے متعلق ہے۔ ناول میں حادثے کے شکار طیارے کے مسافر محفوظ رہتے ہیں اور وہ مدد کیلئے قریبی علاقے میں ایک بدھ مندر تک جاپہنچتے ہیں۔ بدھ راہب انہیں ایک انتہائی خوبصورت مقام پر لے کر جاتے ہیں جوپھلدار درختوں اور خوبصورت پھولوں سے بھرا ہوتا ہے اور ناول میں اسے شنگریلا، یعنی زمین پر جنت، کا نام دیا گیا ہے۔

بریگیڈیئر اسلم نے بھی ناول کے تصوراتی شنگریلا کی طرز پر ایک حقیقی شنگریلا بسانے کا عزم کیا۔ انہوں نے کشورا کے قریب کچھ زمین خریدی اور وہاں ایک خوبصورت باغ بنایا اور حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کو بھی اورینٹ ائیرویز سے خرید لیا۔ وہ اس طیارے کو سینکڑوں آدمیوں، گھوڑوں اور امدادی مشینری کی مدد سے اپنے باغ تک کھینچ لائے۔ اسی جگہ انہوں نے 1983ءمیں ایک ریزورٹ تعمیر کیا اور اسے شنگریلا کا نام دیا۔ اس جگہ وہ طیارہ آج بھی موجود ہے لیکن اب یہ ایک خوبصورت کافی شاپ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ آپ اگر اس علاقے کی سیر کو جائیں تو اس منفرد کافی شاپ میں ضرور جائیں، مگر خیال رہے کہ یہ مارچ کے آخر سے اکتوبر کے آخر تک کھلی ہوتی ہے جبکہ باقی مہینوں میں شدید سردی اور برفباری کی وجہ سے اسے بند کردیا جاتاہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /گلگت بلتستان /سکردو