پاک بھارت تعلقات پھر ’’خانہ نمبر ایک‘‘ میں

پاک بھارت تعلقات پھر ’’خانہ نمبر ایک‘‘ میں

  

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے توقع کے عین مطابق پاکستان کی پلوامہ حملے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا بیان بھارت کے لئے حیران کن نہیں، پاکستانی وزیراعظم نے نہ تو دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور نہ ہی سوگوار خاندانوں سے اظہارِ افسوس کیا، بلکہ اِس حملے کو بھارت کے عام انتخابات سے منسلک کر دیا۔انہوں نے پلوامہ حملے کو دہشت گردی کا اقدام تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کے لئے ثبوت مانگنا حیلوں بہانوں کے سوا کچھ نہیں، پاکستان کو ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کے حوالے سے بھی ثبوت فراہم کئے تھے تاہم دس سال گزرنے کے باوجود اس کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پاکستان عالمی برادری کو گمراہ کرنا چھوڑ دے اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف بھرپور اور نظر آنے والا ایکشن لے۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں بھارت کو مذاکرات اور تحقیقات کی پیشکش کی تھی تاہم یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ اگر بھارت حملے کی حماقت کرے گا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی جو مہم فوری طور پر شروع کر دی تھی اور اپنے مُلک میں جو جنگی جنون پیدا کر دیا ہے اس کے مختلف مظاہر اب تک دیکھنے میں آ چکے ہیں۔ بھارت نے پیشگی وارننگ کے بغیر یک طرفہ طور پر پسندیدہ قوم کا درجہ ختم کر دیا۔ مالِ تجارت پر محصولات کئی گنا بڑھا دیئے اور اب سارا برآمدی و درآمدی مال رُک چکا ہے۔ واہگہ کے راستے بھی تجارت بند ہو چکی ہے اور مال سے لدے ٹرک بارڈر پر کھڑے ہیں، بھارت سے تجارتی اشیا بھی آنا بند ہو گئی ہیں، راجستھان میں تو یہ عجیب و غریب حکم جاری کیا گیا ہے کہ ان پاکستانیوں کو جو بھارت گئے ہوئے ہیں ہوٹلوں میں رہائش کے لئے کمرے نہ دیئے جائیں،اُن بھارتیوں کے خلاف بھی دشنام کی مہم شروع کر دی گئی ہے جو ان حالات میں بھی پاکستان کے خلاف الزام تراشی کی بجائے ہوش کے ناخن لینے کے مشورے دیتے ہیں۔ نوجوت سنگھ سدھو تو پہلے ہی سے زیر عتاب تھے کہ اُن کی وساطت سے کرتارپور بارڈر کھولنے کی خبر بریک ہوئی تھی۔ بھارت کے اندر ہر شعبے میں وار ہسٹریا اس حد تک حاوی ہو گیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کیا بھارتی عوام چابی والے کھلونے ہیں،جنہیں یک دم پاکستان کے خلاف نفرت کی مہم چلانے پر لگا دیا گیا ہے، حد تو یہ ہے کہ سلمان خان نے اپنی فلم سے پاکستانی آرٹسٹ عاطف اسلم کا گانا نکال دیا ہے۔

یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا، بھارت کی حکومت وقتاً فوقتاً ایسی ہی بوالعجبیوں کے مظاہرے کرتی رہتی ہے، بھارتی پارلیمینٹ پر حملے اور ممبئی حملوں کے بعد بھی ایسے ہی اقدامات کئے گئے تھے، اُس وقت تو ریل، روڈ سروس اور جہازوں کی آمدورفت بھی بند کر دی گئی تھی اور مسافر جہاں کہیں تھے وہیں رُک گئے تھے(شاید اب بھی کر دی جائے)۔ مزید براں بھارت نے سرحدوں پر فوجیں بھی جمع کر دی تھیں، جس کے جواب میں پاکستان کو بھی اپنی افواج موو کرنا پڑیں اور طویل عرصے تک دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سرحد پر مورچہ زن رہیں۔ اُس وقت کے وزیراعظم واجپائی نے تو نیپال میں سارک سمٹ کے موقع پر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ مصافحہ کرنے سے بھی گریز پائی اختیار کی تھی،اس معاملے میں بھی جنرل صاحب کو پیش قدمی کرنا پڑی اور کانفرنس ہال میں اپنے خطاب کے بعد وہ واجپائی کی نشست پر گئے اور گھٹنوں کی تکلیف کے عذر پر واجپائی نے بیٹھے بیٹھے نیم دلانہ مصافحہ کر لیا، اب بھی نریندر مودی کا طرزِ گفتگو اور اقدامات سب ایکشن ری پلے محسوس ہوتا ہے۔

وہ پاکستان کے وزیراعظم سے اس بات پر بھی شاکی ہیں کہ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیوں نہیں کیا،کوئی اُن سے پوچھے کہ کشمیر میں جو لاکھوں لوگ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے گولیوں سے بھون دیئے ہیں کسی کو ان لاکھوں سوگوار خاندانوں کے دُکھوں کا احساس بھی ہے؟ اور پاکستان میں کلبھوشن کے نیٹ ورک نے دہشت گردی کی جو وارداتیں کیں اور جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئیں کیا ان پر بھارت کی حکومت افسردہ ہو گئی تھی، پلوامہ کا واقعہ تو ابھی رونما ہوا ہی تھا کہ بھارتی حکمرانوں اور میڈیا نے بلا سوچے سمجھے پاکستان کے خلاف الزام تراشی شروع کر دی اور جس کسی نے بھی اس سرکاری لائن کے برعکس کوئی بات کرنے کی کوشش کی اس کو بھارت میں پاکستان کا دوست قرار دے دیا گیا۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ تو ایک ٹی وی چینل سے اُٹھ کر چلے گئے کہ ان کے بقول خاتون صحافی لایعنی سوالات کر رہی تھیں اور اِس بات پر تلی ہوئی تھیں کہ فاروق عبداللہ پاکستان کی مذمت کریں۔ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کی پاکستان کے کرکٹر شعیب ملک سے شادی کا معاملہ کئی سال پرانا ہے اس نجی معاملے کو بھی سیاست میں گھسیٹا جا رہا ہے اور بھارتی انتہا پسند ثانیہ مرزا سے برانڈ ایمبیسڈر کا اعزاز واپس لینا چاہتے ہیں اِس فضا میں بھارتی انتہا پسند سفارتی آداب بھی بھول گئے ہیں اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں گھسنے کی کئی مرتبہ کوششیں کر چکے ہیں۔

نریندر مودی اِس بات سے بھی ناراض ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے پلوامہ دھماکے کو انتخابات سے کیوں ملایا؟ حالانکہ یہ بات تو بھارت کے اندر بھی کھل کر کی جا رہی ہے اور مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی نے برملا یہ سوال اُٹھایا ہے کہ صرف الیکشن کے دِنوں ہی میں جنگی جنون کیوں؟انہوں نے تو اس سے آگے بڑھ کر اپنی مرکزی سرکار سے یہ بھی پوچھ لیا ہے کہ زخمی جوانوں کو علاج کے لئے بذریعہ طیارہ ہسپتالوں میں کیوں منتقل نہیں کیا گیا۔ یہ سوالات تو بھارت کی ایک وزیراعلیٰ اُٹھا رہیں،اِس لئے حیرت ہے کہ مودی کو وزیراعظم عمران خان کی وہی بات بُری لگی جو اُن کے اپنے ملک کے وزیر اور سیاست دان کر رہے ہیں، بھارتی حکومت نے تجارت بند کرنے جیسے جو اقدامات کئے ہیں وہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں کئے گئے، ہر چھوٹے بڑے واقعہ کے بعد ایسے ہی ہوتا ہے، اعتماد سازی کے نام پر سالہا سال کی جاں گسل مشقوں کے بعد جو تجارت شروع ہوتی ہے اور ’’عوام سے عوام کے رابطے‘‘ کے نام پر جو روزن یا کھڑکی کھلتی ہے، وہ کسی بھی واقعے کے بعد چشم زدن میں بند ہو جاتی ہے اور پھر سال ہا سال نہیں کھلتی ۔تجارت بند کرتے وقت یہ خیال تک نہیں کیا جاتا کہ برآمد اور درآمد کنندگان کے کروڑوں روپے مال کی خریداری پر خرچ ہوئے ہوتے ہیں جو ضائع ہو جاتے ہیں اس کا تو مطلب یہ ہے کہ آئندہ اعتماد افزا اقدامات کے نام پر کوئی حماقت نہ ہی کی جائے تو اچھا ہے، کیونکہ کچھ پتہ نہیں بھارت کی قیادت کا میٹر کب اُلٹا گھوم جائے اور بھارتی حکومت سب کچھ بھول کرسارے کئے کرائے پر پانی پھیر دے اور جنگ کی دھمکیاں دینے لگے اور کئی سال کی محنت کے بعد جو اقدامات کئے گئے ہوں ان کو واپس خانہ نمبر ایک میں لے آئے ۔

مزید :

رائے -اداریہ -