معروف ادیب و ڈرامہ نویس ڈاکٹر انور سجاد سے بے اعتنائی

معروف ادیب و ڈرامہ نویس ڈاکٹر انور سجاد سے بے اعتنائی

  

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔ یہ خبر بہت ہی افسوسناک ہے کہ ماضی کے بذلہ سنج، ادیب، فلاسفر، سیاست دان اور ڈاکٹر انور سجاد اور ان کی فیملی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ڈاکٹر جو مسیحا ہیں بیمار ہیں اور ان کے علاج کے لئے اہل خانہ کو اُدھار لینا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر انور سجاد غیر معروف نہیں، وہ اندرون شہر(چونا منڈی) کے ڈاکٹر دلاور حسین کے صاحبزادے ہیں جن کے ہاتھ میں شفاء تھی اور ان کا کلینک بہت چلتا تھا۔ ڈاکٹر انور سجاد پیش�ۂ طب سے وابستہ ہوئے تاہم ان کی حساسیت اُنہیں ادب اور سیاست کی طرف بھی لے گئی اور انہوں نے ڈرامے اور ٹی وی کے لئے کامیاب سیریل لکھے۔ ایک وقت تھا جب انور سجاد سیاسی رہنماؤں کے پسندیدہ، پروڈیوسروں کے محبوب، مریضوں کے ہمدرد اور ان میں مقبول تھے، جبکہ سیاست میں ان کو نیک نام جانا جاتا تھا۔ ان کا حلق�ۂ احباب بھی بہت وسیع ہے۔ وہ لاہور سے کراچی گئے اور ملازمت کر رہے تھے،جہاں ان کو لاحق بیماری میں تکلیف بڑھ گئی۔ یہ ملازمت بھی جاتی رہی اور لاہور چلے آئے، جہاں آبائی گھر بھی ہے، ان کے چلے آنے کے بعد ان کی تنخواہ بند کر دی گئی تھی ، جس کے لئے انہوں نے درخواستیں دیں بحالی کے لئے درخواست کی شنوائی نہ ہوئی۔انہوں نے صدرِ مملکت کی توجہ مبذول کرائی اور علاج کی درخواست کی،ان کی درخواست سندھ حکومت کو بھیج دی گئی، جس نے انکار کر دیا۔ یوں وہ اسی طرح گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ اگر ان کی تنخواہ ہی بحال کر کے دے دی جائے تو ان کا گزارہ ہو جائے گا، حکومت خصوصاً سندھ حکومت کو غور کرنا چاہئے تاکہ وہ بیماری کے ایاّم میں علاج معالجہ کرا سکیں اور اپنی دوسری ضروریات پوری کر سکیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -