بھارت میں ’’میرا نام اُردو‘‘ تحریک

بھارت میں ’’میرا نام اُردو‘‘ تحریک
بھارت میں ’’میرا نام اُردو‘‘ تحریک

  

بالی وڈ کے اداکار نصیر الدین شاہ نے ایک بار پھر بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں مذہب کے نام پر نفرتوں کی دیواریں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

’’ہمارے آزاد ملک کے آئین کی شروع کی سطروں میں ہی بنیادی اصول واضح کر دیئے گئے، جن کا مقصد یہ تھا کہ بھارت کے ہر ایک شہری کو سماجی،معاشی اور سیاسی انصاف مل سکے، سوچنے بولنے اور کسی بھی مذہب کو ماننے والوں کو عبادت کرنے کی آزادی ہو۔ ہر انسان کو برابر سمجھا جائے، ہر انسان کی جان اور مال کی عزت کی جائے۔

ہمارے ملک میں جو لوگ غریبوں کے گھروں،زمینوں، روزگار کو تباہ ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، ذمہ داریوں کے ساتھ حقوق کی بات کرتے ہیں، کرپشن کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، تو وہ لوگ دراصل ہمارے اسی آئین کی رکھوالی کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اب حق کے لئے آواز اٹھانے والے جیلوں میں بند ہیں۔ فنکار، ادیب اور شاعر سب کے کام پر روک لگائی جا رہی اور صحافیوں کو بھی خاموش کیا جا رہا ہے۔ معصوموں کا قتل ہو رہا ہے۔ پورے ملک میں نفرت اور ظلم بے خوف ناچ رہے ہیں، اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے دفتروں پر چھاپے مار کر انہیں خاموش کرایا جا رہا ہے تاکہ وہ سچ بولنے سے باز آ جائیں۔

نصیر الدین شاہ نے سوال پوچھتے ہوئے کہا کیا ہم نے ایسے ہی ملک کا خواب دیکھا تھا کہ جہاں اختلاف کی کوئی گنجائش نہ ہو، جہاں صرف امیر اور طاقتور ہی کی آواز سنی جائے، جہاں غریب اور کمزور کو ہمیشہ کچلا جائے، بھارت میں ہر طرف اندھیرا ہے‘‘۔

نصیر الدین شاہ نے انڈیا کی ایک ایسی تصویر کشی کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’انڈیا‘‘ جو آئینی طور پر تو ایک ’’سیکولر ریاست‘‘ ہے،لیکن ان تمام ریمارکس میں اور تو سب کچھ نظر آتا ہے، ’’سوائے سیکولرازم کے‘‘۔ ’’سیکولر ریاست‘‘ قطعاً ’’مذہبی ریاست‘‘ نہیں ہوتی، کیونکہ وہاں تو بہت سارے دوسرے مذاہب کے لوگ بھی بستے ہیں۔ ہندو ازم کو فروغ دیا جا رہا ہے،اسلام اور دیگر مذاہب کے ماننے والے لوگ، زیر عتاب ہیں۔ آئین کو پامال کیا جا رہا ہے۔ ’’آئین‘‘ کی ’’روح‘‘ کے مطابق عمل نہیں کیا جا رہا۔انڈیا میں صرف ’’ہندو‘‘ نہیں بستے۔۔۔ صرف ’’مندر‘‘ ہی نہیں، بلکہ وہاں پر مساجد، گرجے، گرد وارے وغیرہ بھی ہیں۔ ان سب کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ریاست ہی کی ہے۔انڈیا نے ’’بابری مسجد‘‘ کے ساتھ کیا کِیا ہے؟ یہ سب کو معلوم ہے ہم تو تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، حتیٰ کہ ہم نے تو ’’سکھ برادری‘‘ کے لئے ’’کرتار پور راہداری‘‘ کی مثال بھی قائم کی ہے۔ ہم نے انڈیا کی طرف ہمیشہ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔

ہمارا مسئلہ جو نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے، وہ ہے ’’کشمیر کا مسئلہ‘‘۔ یو این او کی قراردادوں کی روشنی میں،کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دیا جانااس کا واحد اور آخری حل ہے۔ گفتگو بھی ہو گی۔۔۔ تو اس کے اردگرد ہی ہو گی۔ اس وقت کشمیر میں جو ظلم، قتل و غارت کا بازار گرم ہے،اسے فوری طور پر بند ہونا چاہئے۔ اس میں یو این او کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

انڈین سپریم کورٹ کے سابق جج مارکن ڈے کئجو نے انڈین آئین کے آرٹیکل( 1B) 19 کا حوالہ دیا،جس کے مطابق’’یعنی تمام شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امن کے ساتھ، بغیر ہتھیار کے،جمع ہو سکتے ہیں‘‘۔ گویا انڈین آئین اِس بات کی اجازت دیتا ہے کہ عبادت کے لئے اکٹھے ہو کر ، ہفتے میں ایک بار ’’نمازِ جمعہ‘‘ ادا کرسکیں، کسی کھلی جگہ یا پارک وغیرہ میں۔ موجودہ حکومت پر دُنیا والے ہنستے ہیں کہ یہ کیا ’’پاگل پن‘‘ ہے انڈین حکومت کا۔

’’گائے‘‘ تمام دُنیا میں کھائی جاتی ہے۔ یہ ’’گائے ماتا‘‘ نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں ابھی چھ ماہ امریکہ میں رہ کر آیا ہوں(جون سے لے کر دسمبر تک)۔ امریکہ والے کہتے ہیں کہ انڈیا میں سب گدھے رہتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے انڈیا کو ’’دُنیا بھر میں‘‘ بدنام کر دیا ہے۔ آئے دن گائے کاٹنے پر، لوگوں کو ذبح کیا جاتا ہے۔مَیں ’’گائے‘‘ کو ’’گاؤ ماتا‘‘ نہیں مانتا۔ گائے بھی ایک جانور ہے۔ جیسے گھوڑا، گدھا، کتا وغیرہ۔’’گاؤ ماتا‘‘ ماننے والے، دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہ ’’دودھ‘‘ دیتی ہے تو بھئی دودھ تو بکری بھی دیتی ہے،بھینس بھی دیتی ہے اور اونٹنی بھی دیتی ہے۔ یہ سب جانور ہیں۔

یہ بے وقوفی کی بات ہے۔ مودی سرکار مشہور ایکٹرزکو پاکستان جانے کا مشورہ دیتی ہے۔حال ہی میں، نصیر الدین شاہ کے بارے میں بھی ایسے ہی کہا گیا۔ جج نے کہا کہ مجھے بھیج کر دیکھیں۔موجودہ حکومت نے پوری دُنیا میں ہماری ناک کٹوا دی ہے۔ یہ پاگل پن کئے جا رہے ہیں۔

انڈین آئین سیکولر ہے،لیکن یہاں پر نہ سکھ محفوظ ہیں، نہ عیسائی اور نہ ہی مسلمان۔

یہ ملک سیکولر نہیں، بلکہ اسے ’’ہندو راشٹر‘‘ بنایا جا رہا ہے، جوانتہائی افسوسناک امر ہے۔ جج صاحب نے پیش گوئی کی ہے کمیونل رائٹس ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، بڑا سخت اور بُرا وقت آنے والا ہے۔ یہ سب کچھ انتخابات کی وجہ سے بالخصوص کیا جا رہا ہے، کیونکہ ہندو، راجپوت وغیرہ صرف20فیصد تک ووٹ لے سکتے ہیں اور جیت کے لئے31فیصد یا 32 فیصد تک ووٹوں کی ضرورت ہے۔

انڈیا میں، حال ہی میں ایک نئی تحریک نے جنم لیا ہے جس کا نام ہے’’مائی نیم از اُردو‘‘۔ان کا نعرہ ہے کہ (Make India Human Again) ۔۔۔ گویا ’’انڈیا کو دوبارہ انسان بناؤ‘‘۔ یہ تحریک بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ہر ’’ہندو‘‘ اپنے نام کا ترجمہ ’’اُردو زبان‘‘ میں کر کے، ’’سوشل میڈیا‘‘ پر ڈال رہا ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ کیا بھارت میں اب ’’اُردو زبان‘‘ بولنا اور لکھنا بھی جرم ہوگا؟ ’’اُردو زبان‘‘ تو سری لنکا، بنگلہ دیش،پاکستان اور دُنیا کے دیگر ممالک میں بولی، لکھی اور سمجھی جاتی ہے۔

کیا یہ ’’سیکولر ریاست‘‘ ہے؟ جو انڈین آئین کے (1-B)19 کی صریحاً خلاف ورزی کر رہی ہے اور مسلمانوں کو ’’نماز جمعہ‘‘ کی ادائیگی کے لئے، کھلی جگہ یا ’’پارک‘‘ وغیرہ کو استعمال میں لانے نہیں دے رہی۔کہاں گئی مذہبی آزادی؟سابق جج صاحب نے ’’بھارت‘‘ کے ’’سیکولرزم‘‘ کا پول کھول کر ساری دُنیاکے سامنے رکھ دیا ہے اور سوال کیا کہ کیا ’’بھارت سرکار‘‘ ہندوستان کو ’’ہندو راشٹر‘‘ بنانا چاہتی ہے؟ کیا یہ ’’انڈین سیکولر آئین‘‘ کی کھلی خلاف ورزی نہیں ہے؟ ذرا سوچئے!

مزید :

رائے -کالم -