جنگی جنون کا فلاپ بھارتی ڈرامہ

جنگی جنون کا فلاپ بھارتی ڈرامہ
جنگی جنون کا فلاپ بھارتی ڈرامہ

  

کوئی کتنا ہی زور لگا لے پاکستان اور بھارت میں اب جنگ نہیں ہو سکتی۔ پاکستان اور پاکستانی تو خیر جنگ کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں، تاہم ہمارا مقصد جنگ کرنا نہیں ہے۔ یہ چکمہ تو بھارتی قیادت بھارتی عوام کو دیتی ہے، جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کی دھمکی زیادہ تر ان پر اثر انداز ہوتی ہے اور وہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔

اسی خوف کی فضا میں آج کے وزیر اعظم نریندر مودی پھر انتخابات جیتنا چاہتے ہیں، کیونکہ خوفزدہ بھارتی عوام جنگ کے سائے میں اپنے حکمران تبدیل نہیں کرتے۔ دنیا میں کون سا ملک ایسا ہے جو ذرا سی بات پر جنگ کی دھمکی دیتا ہو، سوائے بھارت کے پوری دنیا میں ایسا ڈرامہ آپ کو اور کہیں نظر نہیں آئے گا۔ جیسے گڈے گڈی کی کھیل ہو، ویسے جنگ کی دھمکی کو استعمال کیا جاتا ہے۔

سو بار یہ تجربہ ہو چکا ہے کہ پاکستان کبھی بھی بھارتی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لایا، مگر اس کے باوجود بھارت کی طرف سے یہ ٹیپ چلتی رہتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خود ہندوستان کے اندر گڑبڑ ہے۔ بھارتی عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے جنگ کے حالات پیدا کئے جاتے ہیں۔

بھارتی عوام پر ترس آتا ہے کہ انہیں کس طرح سیاستدان احمق بناتے ہیں، انہیں بے بنیاد انتشار پیدا کر کے خوفزدہ کرتے ہیں اور مقصد اپنا الو سیدھا کرنا ہوتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بھارت نے اگر مہم جوئی کی حماقت کا سوچا تو اس کا پوری شدت سے جواب دیا جائے گا۔ عقل کی بات یہ ہے کہ بھارت پلوامہ حملے کی تحقیقات کے لئے پاکستانی تعاون کی پیشکش سے فائدہ اٹھائے۔ اگر کوئی ثبوت ہیں تو پاکستان کے سامنے رکھے پاکستان کے سامنے نہیں رکھتا تو کم از کم دنیا کے سامنے رکھے، لیکن ایسا وہ کبھی نہیں کرے گا۔ اس کا مقصد پلوامہ حملے کے حقائق کو سامنے لانا ہے ہی نہیں ،اس کے تو بس صرف دو مقاصد ہیں۔۔۔ اول :کشمیر میں اپنے ظلم و تشدد پر پردہ ڈال کر مظلوم بنا جائے اور دوسرا بھارت کے عوام کو جنگی خوف میں مبتلا کر کے انہیں ایک بار پھر تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت اور نریندر مودی کو دوبارہ وزیر اعظم منتخب کرنے پر مجبور کیا جائے۔

بھارتی میڈیا بھی آنکھیں بند کر کے حکومتی ہاں میں ہاں ملاتا ہے، حالانکہ اگر وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھے تو اسے بخوبی معلوم ہو جائے کہ الیکشن میں کامیابی کے لئے مودی حکومت کس قدر گھٹیا انداز سے بھارتی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آج کل کی دنیا میں دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کا کوئی احمق بھی نہیں سوچ سکتا۔ اڑھائی ارب انسانوں کے اس خطے میں جنگ کا مطلب ہے دنیا کی آدھی آبادی کو ایٹمی جنگ میں جھونک دینا۔ کیا دنیا کے بڑے ممالک اس کی اجازت دیں گے؟ مقبوضہ کشمیر کو بچاتے بچاتے پورے بھارت کی تباہی تو شاید بھارتی قیادت نے بھی نہیں سوچی ہو گی، لیکن یہ بات وہ بھارتی عوام کو کبھی نہیں بتائے گی، کیونکہ بھارتی سیاست کا محور ہی پاکستان دشمنی ہے اور پاکستان دشمنی کی بڑی وجہ کشمیر ہے۔ جس نے بھارت کی ناک میں دم کیا ہوا ہے۔

کشمیر بھارت کے گلے میں پھنسی ہوئی وہ ہڈی ہے جسے وہ نگلنا چاہتا ہے،مگر نگل نہیں پا رہا، آئے روز اس ہڈی کی تکلیف بڑھتی جا رہی ہے اور بھارت پاگل کتے کی طرح نہتے کشمیریوں پر حملہ آور ہو رہا ہے، اپنے اس عمل کا جواز دینے کے لئے وہ پلوامہ جیسا واقعہ بھی کرا دیتا ہے تاکہ کشمیریوں پر مظالم کا کوئی بہانہ تلاش کر سکے، سات لاکھ فوج کو کشمیر میں اُتارنے کے باوجود بھارت ایک دن کے لئے بھی سکون سے نہیں بیٹھ سکا، اب اسی حالت میں الیکشن آ گیا ہے تو جنگ کا واویلا ضروری سمجھا گیا اور اس وقت بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت اُبھارنے کی مہم زوروں پر ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دو ایسے ممالک ہیں ، جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی دُنیا میں سب سے بڑی مارکیٹ ہیں۔ کھربوں روپے کی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر ان کمپنیوں نے یہاں بنا رکھا ہے۔

پاکستان میں تو بڑی کمپنیوں نے اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹس نہیں لگائے، تاہم بھارت میں گاڑیاں، ادویات،کمپیوٹرز اور دیگر ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیوں نے اپنے پلانٹس لگا رکھے ہیں ان میں زیادہ تر جاپان، امریکہ اور یورپ کی کمپنیاں ہیں اور اُن میں بھی ایسی کمپنیوں کی تعداد وافر ہے، جن کے مالکان یہودی ہیں، جن کا امریکہ اور یورپ کی سیاست پر مکمل کنٹرول ہے، اب یہ کیسے ممکن ہے وہ پاک بھارت جنگ کو نہ روکیں، اُسے گرین سگنل دے دیں۔ جنگ ہوئی تو وہ یہ نہیں دیکھے گی کہ اُس کی زد میں کون آ رہا ہے، اُس نے تو صرف تباہی پھیلانی ہوتی ہے۔ امریکہ اور یورپ کب چاہیں گے کہ جنگ ہو اور کھربوں روپے کا سرمایہ ڈوب جائے۔ سو جنگ کے دن اب لد گئے۔ البتہ یہ جنگ سیاست میں ضرور موجود رہے گی، خاص طور پر بھارت کی سیاست میں،چونکہ وہاں بزدل عوام کو ڈرانے کے لئے پاکستان پر حملے کی دھمکی بہت کارگر ثابت ہوتی ہے۔

کتنی عجیب بات ہے کہ بھارتی قیادت جنگ کی دھمکی دیتی ہے تو ڈرنا ہمیں چاہئے، ڈر بھارتی عوام جاتے ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ آج تک پاکستان کی طرف سے بھارت پر حملے کی دھمکی کبھی نہیں دی گئی۔البتہ یہ بارہا کہا گیا ہے کہ بھارت نے اگر جارحیت کا مظاہرہ کیا تو اُس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر سارا سال اشتعال انگیز کارروائیاں بھی اسی لئے جاری رہتی ہیں کہ بھارتی عوام کو ایک خاص قسم کی فضا میں مبتلارکھا جا سکے۔

بھارتی عوام میں اگر تھوڑی سی بھی سیاسی سوجھ بوجھ ہو تو وہ جنگ کے اس مفروضاتی جال میں نہ آئیں۔ کیا یہ منطق سے بعید بات نہیں کہ بھارت اپنی پوری عسکری قوت مقبوضہ کشمیر میں اُتارنے کے باوجود کشمیریوں کو دبا نہیں سکا تو اپنی فوج کے ذریعے پاکستان کو تسخیر کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔نہتے کشمیریوں نے بھارت کی ناک میں دم کیا ہوا ہے، یہاں تو بیس کروڑ عوام ہیں اور دُنیا کی سب سے پروفیشنل فوج پاکستان کا دفاع کرنے کے لئے ہمہ وقت مصروف ہے۔

کیا بھارتی عوام کو اپنی حکومت سے یہ نہیں پوچھنا چاہئے کہ کشمیر میں ناکامی کے بعد یہ دعویٰ کیسے کر رہی ہے کہ پاکستان کو سبق سکھا دے گی،اس سے اُلٹا بھارت کی اینٹ سے اینٹ بج جانے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔ بھارت کا میڈیا بھی لائی لگ ماسی کی طرح حکومت کی تقلید میں چل پڑتا ہے۔ کبھی منطق اور شواہد کے مطابق سوال نہیں اٹھاتا۔ اس پلوامہ واقعہ کو ہی لیجئے۔ بھارتی میڈیا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، واقعہ کے فوراً بعد بھارتی حکومت کے بے بنیاد مؤقف کا بھونپو بن گیا۔

اس کے برعکس پاکستانی میڈیا میں اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ کسی بھی دہشت گردی کے واقعے پر سوال بھی اٹھاتا ہے اور حکومت کی ناکامی پر تنقید بھی کرتا ہے، کیونکہ ہم سب سچ کی تلاش میں ہوتے ہیں اور سچ سے ہمیں کوئی خوف بھی نہیں ہوتا اس لئے سچائی کی تلاش کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ بھارت میں ایسا بالکل نہیں ،وہاں اول و آخر جھوٹ کی چادر تان دی جاتی ہے۔

ماضی میں کتنے ہی واقعات ایسے ہو چکے ہیں ، جن میں بھارت نے جو کہانی گھڑی وہ جھوٹی ثابت ہوئی، ممبئی حملے اور سمجھوتہ ایکسپریس کے واقعات تو ابھی کل کی بات ہیں، بھارت کس ڈھٹائی سے جھوٹ بولتا ہے، اس کی ایک مثال کلبھوشن کیس بھی ہے، جس میں وہ جھوٹ پر جھوٹ بول کر اپنے جاسوس کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر دال گل نہیں رہی۔

یہ بھارت کا سچ سے فرار ہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ اگر بھارت تسلیم کرلے کہ کشمیری آزادی چاہتے ہیں اور یہ انسانی تاریخ کی ایک بہت بڑی تحریک ہے جو سوسال بعد بھی جاری رہ سکتی ہے تو وہ شاید بندوق کے زور پر کشمیریوں کو دبانے اور معصوم کشمیری بچوں، جوانوں اور عورتوں کی قتل و غارت گری سے باز آ جائے۔ مگر چونکہ اس نے سچ کو تسلیم نہیں کرنا، جھوٹ کی بنیاد پر اپنا نظام چلانا ہے، اس لئے اسے گاہے بہ گاہے پلوامہ جیسے واقعات بھی کرانا پڑتے ہیں، تاکہ اپنے جھوٹ کو کسی طرح سچ ثابت کر سکے، لیکن کبھی جھوٹ بھی سچ ثابت ہوا ہے۔ اب حملے اور جنگ کی جھوٹی گیدڑ بھبھکیاں اپنے انہی مقاصد کے لئے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

پاک بھارت جنگ کا دور دور تک کوئی امکان نہیں، کیونکہ بھارت اس جنگ کے انجام کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ یہ سب کچھ اپریل میں عام انتخابات تک بھارتی عوام کو بے وقوف بنانے کا حربہ ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کے دعویدار ملک میں سیاست گھٹیا پن اور جھوٹ کی کس گہرائی تک اتری ہوئی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -