میں نے فوج کو فری ہینڈ دے دیا ہے!

میں نے فوج کو فری ہینڈ دے دیا ہے!
میں نے فوج کو فری ہینڈ دے دیا ہے!

  

آخر وزیراعظم پاکستان کو انڈین وزیراعظم کی عاقبت نااندیشانہ بڑھکوں کا جواب دینا ہی پڑا۔ان کا لب و لہجہ، الفاظ اور ادائیگی سرتاپا، مودی کے برعکس تھی۔ عمران خان نے مختصر بیان میں وہ تمام کچھ کہہ دیا جس کو سارا پاکستان سننا چاہتا تھا۔

مودی کا بھاشن تو فوراً ہی میڈیا پر آ گیا تھا۔ اگر بھارت ہمارا ہمسایہ نہ ہوتا اور اگر ہم سے چار پانچ گنا زیادہ بڑا نہ ہوتا تو اس کے وزیراعظم کی یا وہ گفتاری کا ہم کبھی بھی نوٹس نہ لیتے۔

ہم تو ایک عرصے تک دنیا کی واحد سپرپاور کی ’’ڈومور‘‘ کی رٹ سنتے رہے اور ٹس سے مس نہ ہوئے۔ جو سوچا وہی کیا۔ ہماری سوچ امریکہ کے لئے نہیں، اپنے لئے تھی۔کئی برسوں سے امریکی وزراء اور فوجی کمانڈروں کا ایک یہی مطالبہ رہا کہ پاکستان کو اپنے 70ہزار شہدا کی قربانی دے کر بھی مزید قربانیاں دینے کی ضرورت ہے۔

ان کا ’’ڈومور‘‘ یہی تھا۔لیکن ہم بھی ان فضول مطالبات کو ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے نکال باہر کرتے رہے۔ آخر کار رفتہ رفتہ وہ وقت آ گیا کہ اس سپرپاور کو احساس ہو گیا کہ وہ پاکستان کو پورا زور لگا کر بھی اپنے برحق موقف سے اِدھر اُدھر نہیں کر سکتا۔ خبر نہیں نریندر مودی کو یہ سمجھ کیوں نہیں آ سکی کہ وہ کس کو یہ دھمکی دے رہے ہیں اور کہے چلے جا رہے ہیں کہ پلواما حملے کا سخت جواب دیا جائے گا اور میں نے اپنی فوج کو فری ہینڈ دے دیا ہے کہ وہ اس سانحے کے جواب میں جو کرنا چاہتی ہے، کرلے۔

میں نے اپنی سینا کو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اس حملے کے جواب کے لئے جس وقت، جگہ اور طریق کار کا انتخاب کرے گی، سارا ہندوستان اس کی پشت پر کھڑا ہو گا(بشرطیکہ سلامت بچ گیا!)

میں سمجھتا ہوں کہ انڈیا ایک بڑا ملک ضرور ہے اور اسی لئے اس کے لیڈر کا کسی بھی واقعے یا سانحے کا ردِعمل بڑا محتاط اور اس کے سائز کے شایانِ شان ہونا چاہیے۔ الیکشن لاکھ سر پر کھڑے ہوں، پلواما حملے کا کیف و کم لاکھ اند و ہناک ہو اور پبلک کے موڈ کو سامنے رکھنا لاکھ ناگزیر ہو، پردھان منتری کے منصب کا تقاضا تھا کہ وہ اس کڑے وقت میں مدبرانہ رسپانس کا اظہار کرتے۔

فوج کو کامل آزادی (Full Freedom) دینے سے ان کا مطلب کیا تھا، دنیا بھر کے دانشور ان کے اس جملے پر حیران ہیں۔کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ آپ خود ایک نیوکلیئر پاور ہیں اور فوج کو جس کے خلاف فری ہینڈ دے رہے ہیں، وہ بھی نیوکلیئر طاقت ہے؟ اس کے پاس بھی سیکنڈ سٹرائیک کی اہلیت موجود ہے، وہ بھی ابھی حال ہی میں آبدوز سے نصر کروز میزائل کا تجربہ کر چکی ہے۔

سٹرٹیجک سٹڈیز کے تمام عالمی ادارے ایک عرصے سے یہ اعلان کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کے پاس بھارت کے مقابلے میں جوہری وارہیڈز کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کے میزائلوں کی رینج بھی پورے برصغیر کو محیط ہے۔ آپ اس سے چار جنگیں لڑ چکے ہیں اور وہ 1971ء میں ایک بڑا زخم کھا چکا ہے۔

کیا آپ کو خیال نہیں آتا کہ بدلہ لینے کی اگر بات ہو گی تو پاکستان بھی پلواما اٹیک کا نہیں، مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کی جارحیت کا بدلہ لے گا؟۔۔۔ دوسرے لفظوں میں آپ کا اپنی مسلح افواج کو فری ہینڈ دینے کا مطلب باہمی یقینی خودکشی (MAD) نہیں تو اور کیا ہے؟۔۔۔

جب دو جوہری اور جمہوری قوتیں آمنے سامنے آ جائیں تو فری ہیند فوج کو نہیں، جمہوری قیادت کو دیا جاتا ہے۔یاد کیجئے جاپان پر جوہری حملے کا فیصلہ کس امریکی کمانڈر انچیف نے کیا تھا۔ اور یہ بھی یاد کیجئے کہ دوسری جنگ عظیم کے عظیم امریکی ہیرو جنرل میکارتھر کو کس بناء پر سیک کیا گیا تھا۔ اس نے کوریا کی جنگ میں، جنگ ختم کرنے کا کیا نسخہ، اپنے کمانڈر انچیف صدر امریکہ کو پیش کیا تھا اور صدر نے کیا جواب دیا تھا اور جب صدر کا پیمانہ ء صبر لبریز ہو گیا تھا تو کس کی بات مانی گئی تھی؟ امریکہ کی آٹھویں فوج (Eighth Army)کی بربادی کو یاد کیجئے۔

اور یہ بھی یاد کیجئے کہ چین نے اس جنگ میں امریکی فوج کا کتنا نقصان کیا تھا۔۔۔ آپ ایک پلواما کو رو رہے ہیں، امریکی صدر کو تو پورے جنوبی کوریا بلکہ خطہ ء بحرالکاہل سے ہاتھ اٹھانے کا چیلنج درپیش تھا۔ لیکن انہوں نے تو تب بھی اپنی فوج کو ’’فری ہینڈ‘‘ نہیں دیا تھا۔ میکارتھر تقاضے پہ تقاضا کررہا تھا کہ اسے مکمل آزادی ء عمل دی جائے، جس طرح جاپان پر ایٹم بم مار کر جنگ کا خاتمہ کیا گیا تھا اس کا اعادہ کوریا میں چین کے خلاف بھی کیا جائے۔ تاریخ کے جھروکے سے جھانک کر دیکھیں، ماؤ نے اس وقت تک کوئی جوہری تجربہ نہیں کیا تھا لیکن ٹرومین نے تدبر کا ثبوت دیا تھا۔ اس کی انٹیلی جنس کہہ رہی تھی کہ چین نے تو نہیں لیکن روس نے تو 1949ء میں ایٹمی دھماکہ کر لیا ہے اور اگر ہماری طرف سے کسی جوہری وار ہیڈ کا استعمال کیا گیا تو روس خاموش نہیں بیٹھے گا، وہ شمالی کوریا اور چین کی مددکو ضرور آئے گا۔ اور ایک مودی جی!آپ ہیں کہ مسلح افواج کو فری ہینڈ دینے کی بات کر رہے ہیں۔ کیا مقبوضہ کشمیر میں آپ کی سات لاکھ فوج کو پہلے ہی فری ہینڈ حاصل نہیں؟ کیا یہ پلواما، اسی فری ہینڈ کا شاخسانہ نہیں؟ اندھا دھند ایسے کنویں میں چھلانگ لگانے کے انجام سے کیا آپ کو خبر نہیں کہ اس کے پاتال کا کوئی اندازہ نہیں؟ آپ کے اجیت دوول (نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر) نے کیا برملا اس کا اظہار نہیں کیا کہ انڈیا ایٹمی جنگ کے لئے تیار ہے؟ کیا اس کا استدلال یہ نہیں تھا کہ جوہری جنگ کی صورت میں انڈیا کی کثیر آبادی پاکستان کی قلیل آبادی کی باہمی بربادی کے بعد بھی بچ جائے گیَ؟ کیاکوئی ہوش مند انسان ایسی بے تکی بڑ ہانک سکتا ہے؟ اور کیا آپ کے سیاسی مشیروں وزیروں نے ایسے پھکڑ اور منہ پھٹ شخص کو اس کے عہدے پر برقرار رکھنے پر کوئی تعرض کیا ہے؟کیا آپ کی ساری کابینہ کامن سینس (Common Sense) سے فارغ ہو چکی ہے؟

ایک ہفتے تک عمران خان آپ اور آپ کے کمانڈروں کی بیہودہ گویاں سنتے رہے اور آخر کار ان کو کہنا پڑا کہ : ’’اگر آپ جنگ چاہتے ہیں تو پاکستان جنگ کے لئے تیار ہے۔۔۔ لیکن اگر آپ پلواما حملے میں ہمارے خلاف کوئی قابلِ عمل (Actionable) شہادت لاتے ہیں تو ہم اس پر آپ کو مطمئن کریں گے۔ دہشت گردی ہمارا بھی مسئلہ ہے اور اگر ہم دونوں ملکوں کو اس کا سامنا ہے تو پھر کیوں نہ ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کریں‘‘۔

شری مودی صاحب! فوج کو فری ہینڈ دینے کا مطلب بہت دور جا نکلتا ہے۔۔۔ کیا آپ مارشل لاء کی کیفیت اپنے ملک میں پیدا کرنی چاہتے ہیں؟ کیا کشمیر میں پہلے ہی فوج کو فری ہینڈ نہیں ملا ہوا؟۔۔۔ آپ کو تو فوجی آپریشنوں کی پلاننگ کرنی اور کروانی ہے، ان کی نگرانی اور سُپرویژن کرنی ہے، ان کو رہنمائی دینی ہے، ان کو الل ٹپ اور ہرچہ بادا باد کا حکم نہیں دینا۔۔۔ آپ کے فوجی تو 70برسوں سے پوری وادی میں ’’فری ہینڈ‘‘ کا مظاہرہ کرتے چلے آئے ہیں، ان کے ہینڈ کو اور کتنا فری کرنا ہے آپ نے؟ کیا آپ گزشتہ سات عشروں میں جمہوری نظام کا تجربہ نہیں کر سکے؟آپ کو معلوم ہو گا کہ ملٹری کے فری ہینڈ کو سیاسی فریم ورک کے نیچے لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوجی اور سویلین قیادت مل کر ملک کی سیکیورٹی کی صورتِ حال کو ڈسکس کرتے اور نفع و نقصان کا حساب لگاتے ہیں۔

کوئی بھی فوجی ایکشن لینا مقصود ہو تو جمہوری سیٹ اپ میں فوج نہیں، سویلین قیادت وقت اور ٹارگٹ کے انتخاب کا آخری فیصلہ کرتی ہے۔ عمران خان نے جو یہ فقرہ کہا ہے کہ : ’’جنگ تو کوئی بھی اور کسی بھی وقت شروع کر سکتا ہے لیکن شروع ہونے کے بعد اس کا خاتمہ تو خدا ہی جانتا ہے‘‘۔

یہ فقرہ دنیا کی تمام تواریخِ جنگ میں تو آپ کو ضرور ملے گا لیکن اس کا اختتامی ٹکڑا کہ ’’خدا ہی جانتا ہے کہ اس کا خاتمہ کیسے ہو گا‘‘۔۔۔ کسی ملٹری ہسٹری میں لکھا نہیں ملے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی تمام جدید جنگی تاریخیں جن لوگوں نے مرتب کیں وہ غیر مسلم تھے، کافر یا ملحد تھے اور ان کے ایمان اور عقیدے میں ’’خدا‘‘ کا وہ تصور موجود نہ تھا جو مسلمان کے عقیدے میں ہے۔

کسی جوہری جنگ کے انجام کو خدا پر چھوڑ دینا، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کے منہ سے نکلا ہوا وہ جملہ ہے جس کی تفہیم ،سننے والے ہر انسان سے از بس غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے!

مودی جی کو سوچنا ہو گا کہ ان کی جنتا کی اکثریت جنگ کا راگ کیوں الاپتی ہے؟۔۔۔ انڈین میڈیا پاکستان کو سبق سکھانے کی رٹ کیوں لگاتا رہتا ہے؟۔۔۔ اور بھارت کے سیاست دان ہر لمحہ خنجر بہ کف اور تیغ بہ دست کیوں رہتے ہیں۔۔۔۔ دراصل ان سب کو جدید جنگوں کی تباہ کاریوں کا احساس نہیں۔ پاکستان کے ساتھ گزشتہ چار جنگوں اور چین کے ساتھ جنگ نے انڈین پبلک کا ایک مائنڈ سیٹ بنا دیا ہے۔ یہ پبلک آسانی سے اپنی یہ فکر تبدیل نہیں کر سکتی۔ ہندوستان کی ساری تاریخ اس کی گواہ ہے۔

انڈیا کا اوسط فہم و فراست والا شہری ابھی مہا بھارت اور رامائن کے دور میں رہ رہا ہے۔ اس کی فوج بے شک، جدید اسلحہ جات کا شعور رکھتی ہے لیکن فوج اور جنتا کی فکر ایک صفحے پر نہیں۔ ویسے بھی یہ یکسوئی آسان نہیں ہوتی۔ مغرب نے اسے حاصل کرنے کے لئے کروڑوں جانوں کی قربانی دی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اگست 1945ء کے بعد کسی جوہری قوم نے کسی دوسری جوہری قوم کے ساتھ براہ راست ٹکرانے کی غلطی نہیں کی۔ یہ جدید دنیا کی جدید فکر ہے اور بھارت کی قدیم فکر والی جنتا اس کا شعور نہیں رکھتی۔ پاکستانی قوم کی اکثریت بھی کم و بیش اسی فکر و نظر کی حامل ہے۔ دونوں ملکوں کی پبلک کو اندازہ نہیں کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو اس کا انجام کیا ہو گا۔بہتر یہی ہے کہ بھارت جنگی جنوں پیدا کرنے کی طرف نہ جائے۔ اس کالم میں گنجائش نہیں وگرنہ ایسے بہت سے بھارتی تجزیہ نگاروں کے تبصرے اور تجزیئے پیش کئے جا سکتے ہیں جو عامتہ الناس کی فکر سے ہٹ کر ہیں۔ عوام کی سوچ اور خواص کی سوچ میں بہت فرق ہوتا ہے بلکہ اکثر تضاد بھی ہوتا ہے۔

لیکن مودی چونکہ الیکشنوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کے نتائج عامتہ الناس کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں اس لئے ان کا یہ فرمانا کہ میں نے مسلح افواج کو فری ہینڈ دے دیا ہے، نہ صرف عامتہ الناس کو گمراہ کر سکتا ہے بلکہ افواج کے نچلے رینک کے سولجرز اور نان کمیشنڈ افسروں کو بھی پٹڑی سے اتار سکتا ہے۔

کسی بھی جمہوری حکومت کو عوام کے پاپولر موڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ ضرورت اگر الیکشنوں کے لئے ہو تو ان کا جواز بن سکتی ہے، جوہری جنگ کا جواز نہیں بن سکتی۔

یہ جواز، عوام کی نہیں خواص کی فکری جاگیر ہے۔ عوام کو یہ نہ کہیں کہ فوج کو فری ہینڈ دے دیا ہے۔ ایک عام انڈین شہری اس کے وہ معانی نہیں نکالے گا جو آپ کی ٹاپ ملٹری لیڈرشپ نکالنے پر مجبور ہو گی۔ آپ یہ جملہ کہہ کر اپنی فوج کی اعلیٰ قیادت اور جنتا کے درمیان دیوار کھڑی کرنے کی کوشش نہ کریں اور اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کریں۔ اسی میں اس خطے کی سلامتی کا راز مضمر ہے اور اس کی خوشحالی کا بھی۔

مزید :

رائے -کالم -