وفاقی وزیر خزانہ کا 30دن کے اندر ریفنڈز کی ازخود ادائیگی کی تجویز سے اتفاق

وفاقی وزیر خزانہ کا 30دن کے اندر ریفنڈز کی ازخود ادائیگی کی تجویز سے اتفاق

  

لاہور(نیوزرپورٹر) لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر نے تمام چیمبرز کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو آئندہ بجٹ کے لیے مشترکہ تجاویز پیش کی ہیں۔ الماس حیدر کی سربراہی میں وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات کرنے والے وفد میں لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر، نائب صدر فہیم الرحمن سہگل، صدر خانیوال چیمبر خواجہ حبیب الرحمن، صدر کوہاٹ چیمبر رشید احمد پراچہ، صدر گجرات چیمبر عامر نعمان، صدر آزاد جموں و کشمیر چیمبر سہیل شجاع مجاہد، صدر گوجرانوالہ چیمبر عاصم انیس، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر افتخار احمد، صدر مہمند ایجنسی چیمبر شاہ کریم خان، صدر ہری پور چیمبر عطاالرحمن ، اسلام آباد چیمبرکے احمد حسن مغل، لورالائی چیمبر کے سردار سربلند خان اور راولپنڈی چیمبر کے نمائندہ شامل تھے جبکہ وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر بھی اجلاس میں موجود تھے۔ یہ جامع تجاویز چیمبرز کے مابین مشاورتی اجلاس کے بعد مرتب کی گئیں جن میں ٹیرف، ریفنڈزاور صنعتوں کو فنانسنگ سے لیکر فری ٹریڈ ایگریمنٹ، کاروباری آسانیوں اور ٹیکسوں کے نظام سمیت تمام شعبہ جات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اسد عمر نے چیمبرز کی اکثر تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وفاقی بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر پر زور دیا کہ پچاس لاکھ تک کے ریفنڈز کی فوری ادائیگی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے ساٹھ دن کے اندر ریفنڈز کی ازخود ادائیگی کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو ہرممکن سہولیات مہیا کی جائیں گی کیونکہ معاشی بحالی میں اس کا کردار بہت اہم ہے۔ الماس حیدر نے کہا کہ ملک کا نجی شعبہ معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیمبرز کی مشترکہ بجٹ تجاویز وفاقی بجٹ کو کاروبار دوست بنانے میں مدد دیں گی۔ چیمبرز کی مشترکہ بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ خام مال کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم یا کم ہونی چاہیے، حکومت خام مال پر سے ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی ختم کرے تاکہ مقامی صنعت سمگلنگ چھٹکارا حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت او ر تجارت کے لئے ڈیوٹیز کے ریٹ یکساں ہونے چاہیے تاکہ سمال اور میڈیم صنعتی اداروں کو بھی ترقی کے یکساں مواقع میسر آ سکیں، ریفنڈ کی عدم ادائیگی سرمائے کی قلت کا سبب بن رہی ہے، پرومزری نوٹ کے ذریعے ریفنڈز کی ادائیگی کی سہولت زیرو ریٹڈ سمیت دیگر تمام سیکٹرز کو بھی میسر ہونی چاہیے اور ریفنڈز ساٹھ دن کے اندر خودبخود بغیر کسی درخواست اور آڈٹ کے جاری ہو جانا چاہیے۔

مارک اپ ریٹ میں اضافے سے قرضوں کا حصول مشکل ہو گیا ہے، اس میں فوری کمی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس پر چھوٹ صرف نئے صنعتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ صنعتی توسیع کے منصوبوں پر بھی ملنی چاہیے۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ کاروباری افراد کونئے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں مدد دینے کیلئے، اربن سینٹرز کے گردونواح کی کمرشل اور انڈسٹریل ری زوننگ کرے۔مقامی سرمایہ کاروں کو فائدہ دے کر ہی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی کاروبار رجسٹر کرانے کیلئے ایک ہی کمپنی رجسٹریشن آفس قائم کیا جائے، صوبائی اور وفاقی ٹیکسز کی وصولی کے لیے ایک ہی اتھارٹی ہونی چاہیے، مختلف ٹیکسز کو اکٹھا کرنے لئے ٹیکسز کی تعداد کم کر کے پانچ کر دی جائے، اس کے ساتھ ہی ایک سال میں ٹیکسز کی ادائیگیوں کی تعداد بھی کم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کا بھی آڈٹ اچانک نہیں ہونا چاہیے بلکہ کم از کم ایک ماہ قبل نوٹس بھیجا جائے۔ نئی رجسٹرڈ کمنپی خاص طور پر ایس ایم ایز کو تین سال کے لئے تمام ٹیکسز اور لیویز سے استثنیٰ دیا جانا چاہیے۔ گرین فیلڈز منصوبوں کی طرح صنعتوں کو بھی مشینری اور پلانٹ کی درآمد پر ٹیکسز سے استثنیٰ دیا جائے۔ جو چیزیں ملک میں تیار کی جاتی ہیں ان کی درآمد پر ٹیکسز میں کوئی رعایت نہ دی جائے۔ ٹیکس بیس میں اضافہ کے لئے ایس ایم ایز کی سطح پر ٹیکس فکس کر دیا جانا چاہیے۔20%یا زائد ٹیکس ادا کرنے والوں کو آڈٹ سے استثنیٰ دینا چاہیے۔ جن کمرشل امپورٹر اور مینوفیکچررز کا ودہولڈنگ ٹیکس گذشتہ سال کے ٹیکس کے برابر ہو جائے ان کیلئے ٹیکس سے استثنیٰ کا سرٹیفیکیٹ جاری ہونا چاہیے۔

مزید :

کامرس -