بھارت ، پاکستان مل کر چلیں تو کیا کمال ہو ، پلوامہ حملے پر تبصرہ مناسب وقت پر کرونگا: ٹرمپ

بھارت ، پاکستان مل کر چلیں تو کیا کمال ہو ، پلوامہ حملے پر تبصرہ مناسب وقت پر ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان، تجزیاتی رپورٹ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے پلوامہ میں دہشت گرد حملے کی بہت سی رپورٹس حاصل کر کے دیکھی ہیں جس پر وہ مناسب وقت پر تبصرہ کریں گے۔ منگل کی شام وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ بیان دیا ۔ ان سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے اس سانحے اور اس کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی پران کی رائے پوچھی گئی تھی جس کا انہوں نے یہ جواب دیا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ کیا ہی کمال بات ہو اگر دونوں ملک بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں۔ اس حملے سے ایک خوف ناک صورت حال پیدا ہو گئی ہے ۔ ہم رپورٹیں حاصل کر رہے ہیں ۔ اس پر جلد ہی بیان جاری کیا جائے گا۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے اس حملے پر جلد ہی باقاعدہ بیان دینے کا وعدہ کیا ہے تاہم ان کے اتنے سے مختصر ریمارکس بھی اس لئے بہت اہم ہہیں کہ انہوں نے جنوبی ایشاء میں بڑھتی ہوئی کشدگی پر پہلی مرتبہ بات کی ہے ، روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کی اطلاع کے مطابق امریکہ اپنی ٹیکنالوجی استعمال کرکے پاکستان اور بھارت کی سرحد بشمول لائن آف کنٹرول کو ہمہ وقت مانیٹر کر رہاہے۔ اس ریکارڈ شدہ ڈیٹا میں سے منتخب کر کے صدر ٹرمپ کو باقاعدگی سے رپورٹس پیش کی جاتی ہیں اس پورے خطے کی سٹیلائٹ مانیٹرنگ بگرام اور شندانہ کے فضائی اڈوں پر قام مراکز کے ذریعے کی جاتی ہے جو افغانستان میں روسی قبضے کے خلاف مزاحمت کے دور میں اربوں ڈالر کی لاگت سے قائم کئے گئے تھے صدر ٹرمپ کے ریمارکس سے چند گھنٹے قبل سہ پہر میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان رابرٹ پلا ڈینو نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پلوامہ حملے پر بھارت اور پاکستان دونوں کی حکومتوں سے رابطے میں ہیں ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کی ذمہ داری اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم جیش محمد نے قبول کی ہے جس کے ٹھکانے پاکستان میں ہیں ۔ امریکی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ تمام ممالک پر زور دیتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرار دادوں کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور دہشت گردوں کی مدد اور انہیں ٹھکانوں کی فراہمی بند کریں امریکی ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت کو اس دہشت گردی کا سامنا کرنے میں امریکہ کی مکمل مدد حاصل ہے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا کہنا تھا امریکہ اور بھارت کے درمیان قریبی سکیورٹی تعاون قائم ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی کاروائیاں بھی شامل ہیں ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پلوامہ کے واقعے پر پاکستان سے بھی رابطہ قائم کیئے ہوئے ہیں جس پر ہم نے زور دیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات اورذمہ داروں کے خلاف مکمل تعاون کرے پاکستان پہلے ہی بھارت کو پیشکش کرچکا ہے کہ وہ کسی بھی سطح پر واقعے کی تحقیقات کے لیئے تیار ہے ۔واشنگٹن کے سفارتی ذارئع کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حملوں کی دھمکیوں کے بعد وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت خارجہ کے حکام اور بھارت اور پاکستان میں امریکی سفیر سرگرم ہوچکے ہیں اور اس وقت واشنگٹن ،نئی دہلی اور اسلام آبادبراہ راست یا بالواسطہ رابطے مین ہیں دوسرے لفظون مین امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی دور کرنے کے لیئے عملامداخلت کرچکا ہے ذرائع کے مطابق مسعود اظہر کے خلاف کارؤائی کے لیئے فرانس کی قرارداد امریکی مشورے سے تیارہوئی تھی۔ یہ معلوم ہوا ہے کہ واشنگٹن کشیدگی دور کرنے کے لیئے برطانیہ کی بھی مدد لے رہا کیونکہ برطانوی حکومت کی پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اچھی انڈر سٹینڈنگ ہے تھے امریکہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے ذریعے جیش محمد کے خلاف کارؤائی کرنے میں بھارت کا ساتھ دے رہے تھے جس میں کامیاب بھی ہوسکتا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے اسے نازک سوال کا سامنہ بھی کرنا پڑیگا کہ موجودہ قراردا پر عمل درآمد کرتے ہوئے امریکہ کو یہ بھی یاد رکھنا چاۂے کہ کشمیر میں استصواب رائے کی قرارداد بھی سلامتی کونسل کی تھی جسے سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے

مزید :

صفحہ اول -