سرکاری ٹی وی ملازمین کا معاملہ، سوشل میڈیا پر فواد ، نعیم الحق آمنے سامنے

سرکاری ٹی وی ملازمین کا معاملہ، سوشل میڈیا پر فواد ، نعیم الحق آمنے سامنے

  

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) ایمپلائز یونین کی جانب سے ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کیخلاف جاری احتجاج میں ملازمین کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چودھری فواد حسین بھی شامل ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو پاکستان ٹیلی ویژن ایمپلائز یونین کی جانب سے ادارے کے ایم ڈی کیخلاف احتجاج جاری تھا اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چودھری فواد حسین بھی وہاں پہنچ گئے اور ایم ڈی پی ٹی وی کی مخالفت میں احتجاج کرنیوالے مظاہرین کیساتھ کھڑے ہو کر نعرے بازی کی ۔فواد چوہدری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا پی ٹی وی کے مسائل کا بخوبی علم ہے، وزیراعظم ہاؤس میں کچھ غیر منتخب لوگ بیٹھے ہیں جنہیں سیاست کا علم نہیں۔پی ٹی وی کا مسئلہ یہ ہے انتظامیہ نے اپنی تنخواہیں 25، 25 لاکھ کرلیں ہیں، میں نے ایم ڈی کو ان کی کارکردگی پر خط بھی لکھا تھا لیکن پتہ نہیں ایم ڈی پی ٹی وی کو اتنا غصہ کس بات کا ہے۔پی ٹی وی کے ملازمین اور پنشنرز مارے مارے پھر رہے ہیں، اگر اوپر کی انتظامیہ اپنی اتنی تنخواہیں مقرر کرلے گی تو نیچے نفرت پیدا ہوگی۔جس کے بعد پی ٹی وی میں اختیارات کے معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے سیاسی امور نعیم الحق کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے۔فواد چوہدری کے اس بیان کے بعد نعیم الحق نے ٹوئٹر پر بیان دیا وزیراعظم کو پی ٹی وی بورڈ اور اس کی انتظامیہ پر مکمل بھروسہ ہے۔وزیراعظم یہ سمجھتے ہیں پی ٹی وی کو بی بی سی کی طرح ایک آزاد ادارہ ہونا چاہیے اور حکومت اس مقصد کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔نعیم الحق کے اس بیان پر فواد چوہدری ناراض دکھائی دیئے اور انھوں نے نعیم الحق کا ٹویٹ شیئر کرنے کے بعد انھیں شہ کا مصاحب قرار دیدیا۔فواد چوہدری نے نعیم الحق کے ٹویٹ پر غالب کے الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ،،،،ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا،،وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے۔۔تاہم ذرائع نے بتایا ہے کہ پی ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرف سے فواد چوہدری کو ایک جوابی خط لکھا گیا جس میں فواد چوہدری کے الزامات کی تردید کی گئی۔بورڈ کے اکثر ارکان کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ بورڈ کا وہ اجلاس کب ہوا جس میں خط کا جواب دینے کا فیصلہ ہوا۔ اْن کا خیال ہے کہ یہ خط ارشد خان نے خود ہی لکھوا کر بھجوا دیا ہے۔ دریں اثناء وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔وفاقی دارالحکومت میں دیگر وزرا اور پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کسی بھی کارروائی سے قبل حکومت کو اس بارے میں آگاہ نہیں کرتا۔سپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری سے متعلق باتے کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آغا سراج درانی کی گرفتاری میں حکومت کا عمل دخل نہیں ہے۔دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت سن لے کہ اگر کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو پاکستان نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کلبھوشن کے پاس اصل بھارتی پاسپورٹ ہے، برطانوی کمپنی نے بھی تصدیق کی کہ کلبھوشن جادیو کا پاسپورٹ اصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کو عمر کی حد سے قبل 47 سال کی عمر میں ریٹائر کیوں کیا گیا، اگر پاسپورٹ اصلی تھا تو کلبھوشن پاکستان میں کیا کر رہے تھے؟انہوں نے کہا کہ بھارت کا مؤقف ہے کلبھوشن کو ایران سے پکڑا گیا تو کیا بھارت نے ایران سے پوچھا؟ دنیا بھارتی مؤقف کو تسلیم نہیں کر رہی۔

فواد چوہدری

اسلام آباد (این این آئی)پی ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فواد چودھری کو جوابی خط لکھتے ہوئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیدیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق پی ٹی وی انتظامیہ کی جانب سے فواد چودھری کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا گیا کہ بطور وزیر آپ کے خط پر بورڈ آف ڈائریکٹرز کو سخت تحفظات ہیں آپ کے خط میں درج الزامات غلط، متعصبانہ اور زمین حقائق کے برخلاف ہیں۔خط میں کہا گیا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو آپ کی جانب سے ادارے اور انتظامیہ پر مسلسل تنقید پر تشویش ہے۔ آپ کی وجہ سے سرکاری ٹی وی کے تنازعات روزانہ نجی ٹی وی پر زیر بحث آتے ہیں۔ پی ٹی وی سرکاری ادارہ یا آپ کی وزارت اطلاعات کا ماتحت حصہ نہیں ہے؟۔انتظامیہ کے خط میں لکھا گیا کہ پی ٹی وی کے بارے میں آپ کے خط سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ غیر یقینی کی صورتحال کے باعث کاروبار دینے والے بڑے ادارے ساتھ چھوڑنا شروع ہو گئے ہیں۔پی ٹی وی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ ادارے کی کارکردگی بہتر بنانا حکومت، انتظامیہ اور بورڈ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پی ٹی وی کی کارکردگی گزشتہ دس سال کے عرصے کے دوران بتدریج خراب ہوئی۔ مجرمانہ غفلت برتنے سے پی ٹی وی کی بد انتظامی اور کرپشن وقت کے ساتھ بڑھتی رہی۔ لاپرواہی ، بد انتظامی اور کرپشن کی وجہ سے ادارہ تباہی کے دہانے پر ہے۔ نجی ٹی و ی سے گفتگو کرتے ہوئے نعیم الحق نے کہا کہ وزیر اعظم کوپی ٹی وی بورڈ پرمکمل اعتماد ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ پی ٹی وی بی بی سی جیساخودمختارادارہ بنے۔

مزید :

صفحہ اول -