حکومت ایسی زیادتی نہ کرے کہ سرمایہ کاری ،روزگار متاثر ہوں ،لاہور ہائیکورٹ

حکومت ایسی زیادتی نہ کرے کہ سرمایہ کاری ،روزگار متاثر ہوں ،لاہور ہائیکورٹ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس محمد فرخ عرفان خان نے قراردیاہے کہ حکومت ملک میں ایسی زیادتی نہ کرے جس سے سرمایہ کاری اور روزگار کے ذرائع متاثر ہوں ،اگر یہی رویہ رہا تو ملک میں کون سرمایہ کاری کرے گا؟حکومت اتنے لوگوں کوتوروزگار فراہم نہیں کرسکتی، یہ نجی سیکٹر ہی ہے جوشہریوں کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔فاضل جج نے یہ ریمارکس کاروباری شخصیت شہزاد سلیم اورمختلف تاجروں کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران وفاقی سیکرٹری داخلہ سے جواب طلب کرتے ہوئے دیئے۔فاضل جج نے خبردار کیا کہ اگر 24گھنٹے کے اندرجواب نہ آیا تو سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے گا۔درخواست گزارروں کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ وزارت داخلہ نے قانونی جواز کے بغیردرخواست گزار تاجروں کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب داخل کرنے کی مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے استفسار کیا کس پالیسی کے تحت تاجروں کو چوروں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا،درخواست گزاروں کی طرف سے بتایا گیا کہ 13 فروری کو بیرون ملک جاتے ہوئے ایف آئی اے نے ای سی ایل میں نام شامل کرنے سے متعلق بتایا، 26 فروری کو بیرون ملک کانفرنس میں شرکت کے لئے جانا ہے، ای سی ایل سے نام نکالنے کا حکم دیا جائے، ڈپٹی اٹارنی جنرل عنبرین معین نے کہا کہ ای سی ایل میں نام شامل ہونے پرایئرپورٹ پر بھی درخواست دی جا سکتی ہے،درخواست گزار کو قانون کے مطابق وزارت داخلہ سے رجوع کرنا چاہیے، درخواست گزار نے ایئرپورٹ انتظامیہ اور وزارت داخلہ سے رجوع ہی نہیں کیا، فاضل جج نے قراردیا کہ کاروباری شخصیات ملک کے لئے اہم ہیں، ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے سے مشکلات ہونگی، اس کیس پر مزید سماعت آج 21فروری کوہوگی۔

لاہورہائیکورٹ

مزید :

صفحہ آخر -