طالبعلم سمیت 14 افراد کی ضمانت پر رہائی کے احکامات

طالبعلم سمیت 14 افراد کی ضمانت پر رہائی کے احکامات

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس قلندرعلی خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے قبائلی ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے چھٹی جماعت کے طالبعلم سمیت 14 افراد کوضمانت پررہا کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں ان افراد کو سکیورٹی فورسز نے مختلف مواقع پرحراست میں لیا تھاجنہیں کئی سالوں تک محبوس رکھنے کے بعد پولیٹکل انتظامیہ کے حوالے کردیاگیاتھافاضل بنچ نے زاہداللہ ٗ سمیت 14افراد کی جانب سے ولی خان آفریدی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت کی اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذاروں کاتعلق باجوڑ سے ہے جنہیں2010ء کے بعد مختلف مواقع پرقانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا ان میں نصیراللہ چھٹی جماعت کاطالبعلم ہے جسے2015ء میں حراست میں لیاگیااوربعدازاں ان افراد کوپولیٹکل انتظامیہ کے حوالے کیا گیااوران کے لئے مختلف سزائیں تجویزکی گئیں جن میں نصیراللہ کو تین سال کی سزاتجویز کی گئی ہے رحیم اللہ کو 28 سال اور زاہداللہ کو20سال تجویزکی گئی ہے تاہم قبائلی ایجنسی کے صوبے میں انضمام کے بعد اب اسسٹنٹ کمشنر انہیں سزا دینے سے بھی انکاری ہے جس کاموقف ہے کہ ان کے پاس عدالتی اختیارات نہیں ہیں جسٹس قلندرعلی خان نے اس موقع پراپنے ریمارکس میں کہا کہ جوبھی ہوقانون کے مطابق ہوناچاہئیے کسی کو غیرقانونی حراست میں رکھنے کااختیار کسی کوبھی حاصل نہیں ہے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ریاض عدالت میں پیش ہوئے اوربتایا کہ سزاؤں کیلئے سفارشات مرتب ہوئی ہیں تاہم انہیں اب تک سزانہیں دی گئی فاضل بنچ نے دلائل مکمل ہونے پر تمام افراد کوضمانت پررہا کرنے کے احکامات جاری کردئیے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -