کوہاٹ پولیس نے انسداد منشیات کے حوالے سے جار ی مہم میں 1562 افراد گرفتارکرلیا

کوہاٹ پولیس نے انسداد منشیات کے حوالے سے جار ی مہم میں 1562 افراد گرفتارکرلیا

  

کوہاٹ (بیورورپورٹ)کوہاٹ پولیس نے انسداد منشیات کے حوالے سے جاری خصوصی مہم کے دوران 1562افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔زیر حراست افراد میں مختلف قسم کی نشہ آور اشیاء کی ترسیل میں ملوث سمگلرز اورعادی منشیات فروش بھی شامل ہیں۔ضلع بھر کے مختلف مقامات پر کاروائیوں کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات پکڑ کر قبضے میں لی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ کیپٹن(ر)واحد محمود نے ضلعی پولیس سربراہ کی حیثیت سے چارج سنبھالنے کے موقع پر پولیس حکام کیساتھ منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں منشیات کی لعنت کو جڑ سے ختم کرنے کے واضح احکامات جاری کئے تھے اوربڑے پیمانے پر انسداد منشیات کے حوالے سے منظم حکمت عملی کے تحت کلین سویپ آپریشن شروع کیا گیا تھا۔آپریشن کے اس تسلسل میں پولیس کو وقتاً فوقتاً بڑی اہم کامیابیاں ملیں اور منشیات سمگلر نیٹ ورک سے وابستہ کئی افراد اس خصوصی مہم کے دوران پکڑے گئے اور انکے قبضے سے مختلف قسم کی نشہ آور اشیاء کی بھاری کھیپ برآمد ہوئی ۔گزشتہ سہ ماہی سے جاری انسداد منشیات کی خصوصی مہم کے دوران مختلف مقامات پر چھاپوں ،اچانک چیکنگ اور ناکہ بندیوں کے نتیجے میں منشیات رکھنے کے جرم میں1562افراد کو گرفتار کرکے انکے قبضے سے مجموعی طور پر2 لاکھ 50ہزار گرام سے زائد اعلیٰ کوالٹی کی چرس ، 8ہزار گرام ہیروئن،15ہزار 500گرام افیون، 25بوتل شراب اور 160گرام آئس برآمد کرکے قبضے میں لئے گئے۔ڈی پی او کی انسداد منشیات کے سلسلے میں وضع کردہ جامع حکمت عملی کے تحت منشیات کے خلاف گزشتہ تین مہینوں سے جاری اس خصوصی مہم کے دوران گرفتار افراد میں بین الاضلاعی و بین الصوبائی منشیات سمگلر نیٹ ورک کے 87ارکان بھی شامل ہیں جبکہ ضلع بھر سے 311مشہورمنشیات فروش بھی پولیس کے نرغے میں آئے ہیں جنہیں متعلقہ تھانوں میں مقدمات کے اندراج کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں انسداد منشیات کے حوالے سے جاری خصوصی مہم کے دوران پولیس نے شہر اور مضافاتی علاقوں سے درجنوں افراد کو حراست میں لیکر انہیں پابند سلاسل کردیا ہے اور انکے خلاف مقدمات قائم کرکے عدالتوں میں سماعت کیلئے بھیجا جاچکا ہے۔ادھرڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن(ر)واحد محمود نے منشیات کی سپلائی لائن بند کرنے کے حوالے سے مؤثر اقدامات کے تحت کوہاٹ شہر کو قبائلی اضلاع اور دیگر شہروں سے ملانے والی اہم شاہراہوں اور منشیات سمگلروں کے زیر استعمال خفیہ راستوں پر اضافی ناکہ بندیاں قائم کردی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر شہر کے مختلف مقامات پر خصوصی سنیپ چیکنگ کا عمل بھی جاری ہے تاکہ منشیات کی نقل وحمل کو روک کر اس معاشرتی لعنت کا سد باب ممکن بنایا جاسکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -