جسٹس محمدامیرچیئرپرسن ویلفیئرسارہ اسلم پربرس پڑے

جسٹس محمدامیرچیئرپرسن ویلفیئرسارہ اسلم پربرس پڑے

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امیر بھٹی ورکرز ویلفیئر بورڈ کے 123 اساتذہ کی برطرفی کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران غلط بیانی کرنے پر چیئرپرسن ویلفیئربورڈ سارہ اسلم پر برس پڑے اوران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ آپ کو جیل بھجوادوں،عدالت کو گمراہ کرنے کی آپ کی جرات کیسے ہوئی،چیئرپرسن نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔عدالتی حکم پرچیئرپرسن ویلفیئربورڈ عدالت میں پیش ہوئیں ،درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایاکہ ملازمین کو غیر قانونی طریقے سے برطرف کیا گیا اورقواعد وضوابط کو مدنظر نہیں رکھاگیا ،چیئرپرسن سارہ اسلم نے کہا کہ پراجیکٹ ختم ہوگیا ہے ،اس پرفاضل جج نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے مذکورہ ریمارکس دیئے ،فاضل جج نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا آپ کہتی ہیں پراجیکٹ ختم ہونے کے باعث اساتذہ کو برطرف کیا جبکہ دستاویزات میں لکھا پراجیکٹ جاری ہے لیکن فنڈز نہیں ہیں ،یہ ہے آپ کی پرفارمنس۔چیئر پرسن ویلفیئربورڈ نے کہا مجھے 102بخار ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ یہ مسئلہ مجھے نہ بتائیں ،آپ کی جرات کیسے ہوئی عدالت کو گمراہ کرنے کی ،آپ کو اندازہ ہے جن اساتذہ کو آپ نے برطرف کیا ان کے گھر فاقے چل رہے ہیں۔چیئرمین ویلفیئربورڈ نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل افضل بشیر نے پیش ہوکریقین دہانی کرائی کہ عدالتی حکم پر من وعن عمل ہوگا، جس کے بعد عدالت نے چیئرپرسن کی غیر مشروط معافی منظور کرلی اور چیئرپرسن ویلفیئربورڈ کو 22فروری تک اساتذہ کی برطرفی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

برطرفی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -