صنعتی یونٹس اور گیس سٹیشنز پر سیس کی وصولی کے حکم امتناعی میں 26 مارچ تک توسیع

صنعتی یونٹس اور گیس سٹیشنز پر سیس کی وصولی کے حکم امتناعی میں 26 مارچ تک توسیع

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مختلف صعنتی یونٹس اور گیس اسٹیشنز پر گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی وصولی کے خلاف جاری حکم امتناعی پر 26 مارچ تک توسیع کر دی دو رکنی بینچ نے اپٹما اور دیگر صعنتی یونٹس کی رٹ کی سماعت کی دوران سماعت انکے وکلا شمائل احمد بٹ، یاسرخٹک، قاضی غلام دستگیر اور اسحاق علی قاضی نے عدالت بتایا کہ جی ائی ڈی سی کا نفاذ غیر قانونی ہے اوراس حوالے سے مختلف حکومتی حلقوں میں بھی اس کو کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اگر جی ائی ڈی سی وصول کی جاتی ہے تو اس سے ایک مالی بحران کا خدشہ پیدا ہو گا کیونکہ زیادہ تر کارخانوں نے جی ائی ڈی سی ادا ہی نہیں کی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں ایک پالیسی منظور کرنے کا گرین سگنل دیا ہے جس میں جی ائی دی سی کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ اسکے خاتمے پر بھی غور جاری ہے جبکہ اپٹما کے وکیل قاضی غلام دستگیر کا کہنا تھا کہ جن سی این جی اسٹیشنز پر جی ائی ڈی سی لگایا گیا ہے وہ پہلے ہی سے صارفین سے وصول کررہے ہیں جبکہ اپٹما نے صارفین سے جی ائی ڈی سی وصول ہی نہیں کیا اور یہ گیس کپڑے کی تیاری میں خرچ ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ حکومت پہلے ہی سی این جی اسٹیشنز کو 50 فیصد ری بیٹ بھی دے چکی ہے لہذا توقع ہے کہ اس حوالے سے ایک جامع پالیسی سامنے آئے گی جس پر عدالت نے اس حوالے سے جاری حکم امتناعی میں 26 مارچ تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -