پنجا ب اسمبلی ، اجلاس کو رم کی نذر، درست جواب نہ دینے پر سپیکر کی وزیر خوراک کو جھاڑ

پنجا ب اسمبلی ، اجلاس کو رم کی نذر، درست جواب نہ دینے پر سپیکر کی وزیر خوراک ...

  

لاہور ( نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کا ساتواں اجلاس پہلے روز ہی کورم کی نذر ہو گیا،حکومت کو سخت سبکی کا سامنا کر نا پڑا ، ایوان نے تصادم مفادات کا تدارک بل منظور کرلیا،پی کے ایل آئی اور سکلز ڈویلپمنٹ بلز بھی ایوان میں پیش کردئیے، پروڈکشن آرڈر پر عبدالعلیم خاں اور خواجہ سلمان رفیق نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس روایتی طور پر سوا گھنٹہ تاخیر سے سپیکر چودھری پرویز الہی کی زیر صدارت شروع ہوا تو صحافیوں نے اجلاس کے آغاز پر پنجاب اسمبلی کی کارروائی کا بائی کاٹ کر دیا صحافی پریس گیلری سے احتجاجاً واک آؤٹ کرگئے،سپیکر نے صحافیوں کا منانے کے لے وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید کو بھیج دیا، جنہوں نے صحافیوں کواس شرط پر منا لیا کہ وہ ابھی جا کر ایوان میں صحافیوں کے مسائل حل کرنے کے لئے سپیکر کہ کہہ کر پارلمیمنٹرز کی کمیٹی بنوائیں گے بعدازاں سپیکر نے ایون میں پالیمنٹرنز کی کمیٹی بنا دی۔قبل ازیں جب سپیکر نے صحافیوں منانے کے لئے کہا تو انہوں نے ازراہ مزاح کہا فیاض الحسن چوہان آپ صحافیوں کو منانے نہ جائیں ورنہ جو بیٹھے ہیں وی بھی چلے جائیں گے،سپیکر کے فیاض الحسن چوہان سے مزاق پر ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔اجلاس کے شروع میں پی پی 123 ٹوبہ ٹیک سنگھ کی نو منتخب رکن سونیا علی رضا نے بطور رکن عہدے کا حلف اٹھایا، پرویز الہی نے ان سے حلف لیا ، جبکہ نیب کے ہاتھوں گرفتار سابق سینئر وزیر عبدالعلیم خان اور مسلم لیگ ن کے رکن خواجہ سلمان رفیق نے بھی اجلاس میں شرکت کی،نیب کی ٹیم عبد العلیم خان اور ن لیگ کے گرفتار رکن اسمبلی خواجہ سلمان رفیق کو لیکر الگ الگ پنجاب اسمبلی پہنچی، عبد العلیم خان نیب کی گرفتاری کے بعد پہلی بار پنجاب اسمبلی میں آئے ہیں، اسمبلی میں بعدازاں ن لیگ کے گرفتار رکن اسمبلی خواجہ سلمان رفیق ،اسپیکر چودھری پرویز الہی ، صوبائی وزراء اور اپوزیشن ارکان نے عبدالعلیم خان سے ملاقات کی۔اجلاس کے بعد عبدالعلیم خان اور خواجہ سلمان رفیق کو نیب کی ٹیم پنجاب اسمبلی سے روانہ ہو گئی۔ محکمہ خوراک پر وقفہ سوالات کے جوابات وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری نے جوابات دئیے، وقفہ سوالات میں دوران اراکین کے سوالات کا درست جواب نہ دینے پر سپیکر چودھری پرویز الہی وزیر خوراک پر ایک بار پھر برہم ہو گئے،اور صوبائی وزیر خوراک کو پھر جھاڑ پلا دی،چوہدری پرویز الٰہی نے کہاکہ سوالات کے درست جواب دئیے جائیں، ابھی تک محکمے کا آڈٹ کیوں نہیں کرایا۔صوبائی وزیر سمیع اللہ چوہدری نے کہاکہ گندم کا فرازک آڈٹ بھی کرایا جائے گا۔ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رکن اختر خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ مسلم لیگ ق کے وزیر باو رضوان میرے بھائی چودھری شمشاد کے قاتلوں کے ساتھ مل کر میرے خلاف سازش کر رہے ہیں ان کی مالی امداد بھی کر رہے ہیں انہیں سمجھائیں کہ وہ ایسا نہ کرے اور میری سکیورٹی کا بندبست کیا جائے ،سپیکر پرویز الہی نے کہا کہ پیر کو میں باؤ رضوان کو بلا کر سمجھا دوں گا اور حکومت کو اختر خان کی سکیورٹی کا بندوست کرنے کی ہدائت کر دی۔سرکاری کارروائی کا آغاز ہوا تو وزیر قانون نے ایوان میں تصادم مفادات کا تدارک بل 2018 کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ بل کے تحت پنجاب حکومت پبلک آفس ہولڈرز کے احتساب کیلئے آزاد کمیشن بنائے گی،کمیشن اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے پبلک آفس ہولڈرز کیخلاف تحقیقات کرے گا،مجوذہ کمیشن سرکاری افسران کے فرائض اور پرائیویٹ مفادات کے درمیان بنیادی فرق بھی وضع کرے گا،کمیشن ایک چئیرمین اور دو ممبران پر مشتمل ہوگا،کمیشن کا چئیرمین وہ شخص ہو گا جو ہائیکورٹ کا جج بننے کے اہل ہو،ممبران میں سے ایک گریڈ 20 کا ریٹائرڈ سول سرونٹ ہوگا جبکہ ایک ممبر فنانشل مینجمنٹ کا ماہر ہوگا،کوئی بھی شہری کمیشن کو شکایت درج کرواسکے گا،کمیشن سزا کا تعین کرے گا جس کے تحت تنخواہ بھی کٹ سکتی ہے۔حکومت نے پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ بل اور پی کے ایل آئی ترمیمی بل 2018 بھی ایوان میں پیش کردئیے۔سرکارروائی کے دوران مسلم لیگ ن کی رکن زیب انسا نے کورم کی نشاندہی پر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے اجلاس ا?ج صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -