چوکی شیرشاہ پولیس کا موبائل چوری کے الزام میں 8سالہ یتیم بچے پر بہیمانہ تشدد

چوکی شیرشاہ پولیس کا موبائل چوری کے الزام میں 8سالہ یتیم بچے پر بہیمانہ تشدد

  

لاہور (کرائم رپورٹر)پولیس کا کام خدمت عوام کی، کیا یہی خدمت ہے۔چوکی شیرشاہ پولیس کا موبائل چوری کے الزام میں 8سالہ یتیم بچے پر بہیمانہ تشدد۔ معصوم احمد کو برہنہ کر کے ہیٹر پر بٹھائے رکھا،گرم استری بھی لگاتے رہیبچہ جھلس گیا۔ معصوم احمد کا کہنا تھا کہ 3روز قبل نامعلوم نوجوان والد سے ملوانے کے بہانے ساتھ لے گیا۔ نوسرباز نے دکان سے موبائل لیا اور مجھے چھوٹا بھائی ظاہر کرکے وہاں بٹھا کر فرار ہوگیا۔ ملزم کے واپس نہ آنے پردکاندار نے مجھے پولیس کے حوالے کر دیا۔ انویسٹی گیشن پولیس نے تین اہلکاروں کو گرفتارکرلیا۔ شیر شاہ چوکی کے انچارج سعید احمد، اہلکار اسد لطیف اور فیصل اشرف گرفتار۔ پولیس دعوی کررہی ہے کہ تینوں ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے عدالتی کاروائی کی جائے گی اور سخت سزا دی جائے گی۔ اہل خانہ نے 3روز قبل معصوم احمد کی گمشدگی کی درخواست تھانہ گرین ٹاؤن میں جمع کروائی۔ اہل خانہ نے بتایا کہتھانہ رائیونڈسے کال آئی کہ اپنے بچے کو لے جاؤ۔ لواحقین نے پولیس تشدد پر اعلیٰ حکام سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لاہور نیوز پرپولیس تشدد کی خبر نشر ہونے پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا۔ جس کے بعد سی سی پی او، ڈی آئی جی آپریشن اور ایس پی آپریشن صدر نے بھی نوٹس لینے کی روایت کو برقرار رکھا۔ سی سی پی اوبی اے ناصر نے پولیس اہلکارکو معطل کرکے مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ ڈی آئی جی آپریشنزمحمد وقاص نذیر نیذمہ دار ٹی ایس آئی سعید کیخلاف قانونی کارروائی شروع کردی۔ ترجمان لاہور پولیس کے مطابق ایس پی صدر سید علی معاملے کی انکوائری کر رہے ہیں۔ تشددمیں ملوث نامزد دکانداروں کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

مزید :

علاقائی -