سینیٹ قائمہ کمیٹی ،پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی پلانے پرپابندی لگادی

سینیٹ قائمہ کمیٹی ،پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی پلانے پرپابندی لگادی

  

اسلام آباد(این این آئی ) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے آئندہ سے اجلاس کے دوران پلاسٹک کے بوتل میں پانی پلانے پر پابندی عائد کردی،کمیٹی ارکان نے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف پارلیمنٹ سے اقدامات کے آغاز کا اعلان کردیا،سینیٹر فیصل جاوید نے پلاسٹک کی بوتل میں پانی پیش کرنے کی صورت میں آئندہ اجلاس میں نہ بیٹھنے کی دھمکی بھی دیدی۔بدھ کو سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر ستارہ ایاز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، اجلاس میں سینیٹر شیری رحمن، سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر محمد اکرم، سینیٹر ثمینہ سعید،سینیٹر محمد علی سیف،سینیٹر ثناء جمالی اور سینیٹر اسد علی جونیجو نے شرکت کی۔اجلاس میں سینیٹر ثمینہ سعید نے پلاسٹک کے بوتل کی وجہ سے آلودگی میں اضافے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کے بوتل کی وجہ سے آلودگی کے ساتھ ساتھ کینسر جیسے موذی مرض میں بھی اضافہ ہورہا ہے،اسلام آباد کے ایک بڑے شاپنگ سنٹرز سے کالا دھواں نکلتا رہتا ہے ،اس کالے دھوئیں نے پورے اسلام آباد کی فضاء کو آلودہ کر رکھا ہے۔سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی ظفر حسن نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت موسمی تبدیلی میں گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے کوئی ملازم نہیں ہے،وزارت موسمی تبدیلی 2011 میں قائم کی گئی، وزارت کے لئے ملازمین سرپلس پول سے لئے گئے تھے،وزارت میں سات سال سے کوئی ملازم بھرتی نہیں ہوا،وزارت موسمیات میں ملازمین کی کمی ہے،وزارت موسمیات کا زیادہ کردار پالیسی بنانا ہے ،کلائمٹ چینج اتھارٹی بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے،جس میں ینگ پروفیشنلز کو شامل کیا جائے گا،سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد قبضہ ختم ہو گیا ہے،بلین ٹری سونامی میں وفاق اور صوبے خود بھی حصہ ڈالتے ہیں، منصوبے میں آب و ہوا کے حساب سے پودے لگانے ہیں،اب 750ایکڑ زمین پر باؤنڈری وال کی تعمیر مکمل کی جائیں گی۔سیکرٹری وزارت نے بتایا کہ ماحولیات کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو گئے،انوائرمینٹل پروٹیکشن اتھارٹی(ای پی اے) کا رول 18ویں ترمیم کے بعد محدود ہو گیا ہے،انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی( ای پی اے) کی کل15گزتک افسران موجود ہیں،اگرای پی اے نے اسلام آباد کی حد تک کام کرنا ہے توتعداد کافی ہیں،اسلام آباد میں ماحولیات کا شعبہ سی ڈی اے سے میٹر پولیٹن کارپوریش کو منتقل ہوا ہے،پلاسٹک کے بوتل پر ایک ٹرائی اینگل بنا ہوا ہے، جس کا مطلب یہ صرف ایک مرتبہ استعمال کے لیے ہے۔وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد چڑیا گھر کے انتظامات پہلے کیڈ کے پاس تھا، چڑیا گھر کو وزارت ماحولیات کے حوالے کرنے کی سفارش کردی گئی ہے، شیروں کو مرغیاں کھیلائی جاتی ہیں اور شیروں کے نام پر آنے والے گوشت لوگ کھا رہے ہیں، چڑیا گھر میں جانوروں کے ماہرین تعینات نہیں ہیں کچھ ایریاز میں بڑے ریسٹورنٹس بنائے گئے ہیں، ان ریسٹورنٹس کے ضائع شدہ مصالحہ جات کھانوں سے ہمارے پرندے مر رہے ہیں، ہمارے پاس آئیڈیاز ہیں مگرز مین نہیں،تمام موٹرویز کے اطراف پودے لگاکر گرین کرنے کیلئے آئی جی موٹروے سے بات چیت چل رہی ہیں،لاہور نہر کوجنگلہ لگانے سے پہلے پاکستان سے جامن ایکسپورٹ ہوتا تھا، کیونکہ لاہور کو پیرس بنانا تھا اس لیے جنگلے لگائے گئے اور جامن کی ایکسپورٹ سے بھی محروم ہو گئے۔سینیٹر سیف علی خان نے کہا کہ کس کس صوبے نے موسمی تبدیلی سے متعلق قوانین بنایا ہے،اسلام آباد میں ماحولیاتی مسائل کو بہتر انداز میں حل نہیں کئے جارہے ہیں، انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کیسے اپنی زمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔سینیٹر مشاہدحسین سیدفیصل جاویداسلام آباد سے آلودگی کے خاتمے میں مدد کریں، انھوں نے یہاں دھرنا بھی دیا تھا، سینٹ کے اجلاسوں میں پلاسٹک کی بوتلوں کا استعمال بند کر دیا جائے، موسمیاتی تبدیلی کی سب کمیٹی نے آلودگی کے خاتمے کا آغاز پارلیمنٹ سے کیا ہے، ڈپٹی چیئرمین کے آفس میں پلاسٹک کے بوتلوں پر پابندی عائد کردی ہے،بہتر سیوریج نظام نہ ہونے سے زیر زمین پانی آلودہ ہو رہا ہے، ایگزاز کے ذریعے دھواں نکلنے کی وجہ سے سینٹورریس کو نوٹسزجاری کر چکے ہیں،پہلی دفعہ نوٹسز جاری کرتے ہیں پھر سماعت کیلئے بلاتے ہیں،تیسری مرتبہ شکایات دور نہ کرنے پر جرمانے عائد کیے جاتے ہیں،پاکستان میں سب سے زیادہ بائیو ڈیگریڈیشن بیگز کا استعمال سینٹوریس مال ہو رہا ہے،21لاکھ آبادی کیلئے صرف ایک انسپکٹر ہے،سی ڈی اے ہائراز عمارتوں کو بیسمنٹ میں پارکنگ کی اجازت نہیں دے رہے،سی ڈی اے قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ آئندہ کمیٹی اجلاس میں پلاسٹک کے بوتل میں پانی نہ پلائیں، صرف کمیٹی نہیں تمام پارلیمنٹ میں بائیو ڈی گریڈیشن شاپنگ بیگس کا استعمال کیا جائے،ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات اٹھانے ہوں گے،ای پی اے ہمیشہ ملازمین کی کمی کا روناروتے رہتے ہیں،اسلام آبادکے تمام مسائل سب کمیٹی دیکھے گی،ایم سی آئی کو اپنے اختیارات کا پتہ تک نہیں۔سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ وزارت میں70 فیصد ملازمین کا تعلق ایک ہی صوبے سے ہیں،کیا دوسرے صوبوں میں اہلیت نہیں؟اسلام آباد میں بڑے بڑے بلڈنگز کی تعمیرات کیلئے گرین بلٹس کو تباہ کئے جا رہے ہیں اسلام آباد چڑیا گھر دوبارہ وزارت کے حوالے کی جائے۔کمیٹی نے اسلام آباد چڑیا گھر کو میٹروپولیٹن کارپوریشن لیکر وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حوالے کرنے کی سفارش کردی۔

مزید :

صفحہ اول -