انسانی جان بچانا دنیا کا عظیم ترین کام ہے

انسانی جان بچانا دنیا کا عظیم ترین کام ہے

  

انٹرویو: نعیم الدین/غلام مرتضی

تعارف: یوں تو دنیا میں اکثر لوگ فلاحی کام کرتے ہیں۔ انہیں دنیا میں اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو کہ ہر انسان میں اجاگرنہیں ہوتا۔ انسانی جان بچانا دنیا کا عظیم ترین کام ہے اور اﷲ تعالیٰ اسی کام کے لیے اپنے نیک بندوں کو چنتا ہے۔ گذشتہ دنوں ہماری ملاقات پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن کے سید محمد احسان سے ہوئی جو اس ادارے کو اپنی انتھک محنت اور کوششوں سے مسلسل بڑھا رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں ان سے خصوصی ملاقات ہوئی جو نذرقارئین ہے۔

پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن (PALS Rescue) ایک رجسٹرد این جی او اور بین الاقوامی طور پر سند یافتہ خدمت خلق کا ادارہ ہے، یہ سال 2004 میں کراچی کے ساحلوں پر مفت لائف گارڈ سروسز فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا۔ PALS Rescue ساحل پر عوام کی حفاظت کے ساتھ انہیں ڈوبنے سے بچانے کے لیے خدمات فراہم کرتا ہے۔ یہ ساحلوں اور ساحلی پٹیوں پر لائف گارڈ پیٹرولز، ساحل سے وابستہ ٹریننگ، عوامی آگہی کی مہموں اور صحت و فٹنس کے فروغ کے امتزاج کے ذریعے کامیابی کے ساتھ حفاظتی ماحول پیدا کرچکا ہوں۔

PALS Rescue اپنے قیام کے بعد سے ابتک کراچی کے ساحلوں پر 5ہزار سے زائد لوگوں کی جانیں بچا چکا ہے۔ یہ 70 لاکھ سے زائد حفاظتی اقدامات کرچکا ہے اور 6ہزار سے زائد لوگوں کو فرسٹ ایڈ فراہم کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہر سال کراچی کے ساحلوں پر آنے والے 80 لاکھ سے زائد شائقین کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ سال 2004 سے PALS Rescue ڈوبنے سے اموات کی شرح تقریباً صفر پر برقرار رکھے ہوئے ہے، جو اسکے انتہائی تربیت یافتہ لائف گارڈ سروس کی کاوشوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔ اس کی بدولت عوام میں احساس تحفظ اجاگر ہوگیا ہے۔

سوال : PALS Rescue کب قائم ہوا اور اس کا کیا مقصد ہے ؟

جواب : پاکستان لائف سیونگ فاؤنڈیشن (PALS Rescue) نے سال 2004 میں کام کا آغاز کیا۔ یہ رجسٹرد شدہ اور بین الاقوامی طور پر سند یافتہ خدمت خلق کا ادارہ ہے، جس کے قیام کا مقصد کراچی کے ساحلوں پر بلامعاوضہ لائف گارڈ حدمات کی فراہمی ہے PALS Rescue پاکستان میں ساحل پر ڈوبنے سے بچانے اور ریسکیو خدمات فراہم کرنے والا واحد ادارہ ہے۔ اس نے ساحلوں اور ساحلی پٹی پر کامیابی کے ساتھ لائف گارڈ پیٹرولنگ، ایجوکیشن و تربیت، عوامی آگہی کی مہمیں اور صحت و فٹنس کا فروغ جیسے شعبوں کے امتزاج سے لوگوں کے لیے محفوظ ماحول پیدا کیا ہے۔

سوال : ساحل سمندر پر ریسکیو سروس کا قیام کیسے عمل میں آ یا ؟

جواب : اس فلاحی ادارے کے قیام کی وجہ سے اسکے بانی و صدر رضا محمد کے ساتھ پیش آنے والا ایک ناگہانی واقعہ تھا ، جب وہ اپنے دو دوستوں کو ڈوبنے سے بچاتے بچاتے بال بال بچے، اس وقت انہیں احساس ہوا کہ اس طرح کی ریسکیو سروس کے قیام کی ضرورت ہے، اور انہوں نے اس فلاحی ادارے کی بنیاد ڈالی جو اب PALS Rescue کے نام سے مشہور ہے۔

سوال : PALS Rescue کے پاس کتنے بین الاقوامی اداروں کی رکنیت اور الحاق ہے ؟

جواب : PALS Rescue بین الاقوامی سطح پر لائف گارڈ کے شعبہ میں پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل لائف سیونگ فیڈریشن (ILS) کا رکن ہے، سرف لائف سیونگ نیوزی لینڈ (SLSNZ) سے وابستہ ہے ، اسکے علاوہ رائل لائف سیونگ سوسائٹی (RLSS) ، یوکے کا رکن بھی ہے۔

سوال :کیا کسی نجی ادارے نے آپ کو سپورٹ کی ہے ؟

جواب : پچھلے سال حکومت کی طرف سے ایک گرانٹ منظور ہوئی تھی، لیکن یہ ایک الگ بات ہے کہ میں اس کے پیچھے دوڑتا رہتا ہوں، لیکن میرا زیادہ تر کام آؤٹ ڈور ایڈونچر سے اور کارپوریٹ سیکٹر کے اشتراک سے چلتا ہے ، گذشتہ پانچ سال سے امن فاؤنڈیشن ہمارا پارٹنر رہا ہے، انہوں نے ہمیں ایک چھوٹی سی گرانٹ دی تھی جس کے تحت 2011 سے 2016 تک ہم اسے استعمال کرتے رہے، اسی دوران ہمارے پاس مزید اسپانسر بھی آتے رہے، ہمارے پاس حبیب بینک اور والز آئسکریم جیسے ادارے اسپانسر رہے ہیں، پاک ٹیل، دی ایچ ایل، طفا اسکیل اور پراچہ ایکسچینج اور دیگر ادارے شامل ہیں، موبی لنک نے ہمیں گاڑی عطیہ میں دی تھی۔ میں ہر وقت اس کوشش میں رہتا ہوں کہ ہمارے پاس زیادہ سے زیادہ اسپانسر آجائیں تاکہ ہم اپنے اخراجات آسانی سے چلا سکیں۔

سوال : سندھ حکومت کی جانب سے بھی آپ کو کوئی مدد ملتی ہے ؟

جواب : ہم 2011 سے کوشش کررہے تھے اور 2017 میں جا کر ہم نے گرانٹ منظور کرائی ہے ۔

سوال : وہ آپ کی ضرورت کا کتنا حصہ پورا کرسکے ہیں ؟

جواب : وہ 20 فیصد ہماری ضرورت کو پورا کرسکے ہیں، ہم اگر کسی سے 100 فیصد گرانٹ مانگتے ہیں تو ہمیں 20-25 فیصد ہی ملتی ہے۔ اسی طرح ہم نے جاپان حکومت سے گرانٹ مانگی تھی، ہمیں 25 فیصد ملی تھی، انٹرنیشنل جو گرانٹ ہوتی ہے، انہوں نے اپنا طریقہ کار مقرر کیا ہوا ہوتا ہے کہ ہم کن کن شعبوں میں کتنی گرانٹ دیں گے، وہ اسی طرح کام کرتے ہیں، اس شہر میں 2004 سے پہلے ڈھائی تین سو لوگ ڈوب کر ہلاک ہوجاتے تھے، اب جو اموات ہوتی ہیں، جب لائیو گارڈ وہاں موجود نہیں ہو، مثلاً صبح سویرے کے اوقات میں عموماً ہمارا ٹائم نہیں ہوتا ، لائیو گارڈ کا ٹائم صبح سے مغرب تک ہوتا ہے ۔

سوال : ہمیں کتنے لائف گارڈز کی ضرورت ہوگی؟

جواب : ہمیں تقریباً 400 لوگوں کی ضرورت ہے جو خطرناک کے پوائنٹ یا پھر جہاں رش زیادہ ہوتا ہے پکنک پر آنے والے لوگوں کا وہاں ہم اپنے لائف گارڈز تعینات کرتے ہیں۔ ہمارے پاس فندز کم ہیں اگرہم ایک لائف گارڈ کو 15ہزار روپے بھی دیتے ہیں تو 400 لوگوں کو کتنی رقم دینا ہوگی، یہ ہماری NGO ہے اس میں فنڈ کی کمی رہتی ہے۔ ہمیں ہمارے کام کے لیے بڑی رقم درکار ہوتی ہے۔ فنڈز کی کمی کے باعث کام کرنے میں مشکلات ضرور ہیں ، لیکن ہماری محنت بہت زیادہ ہے جو کہ ہمیں اپنا کام جاری رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہمیں پیٹرولنگ کے لیے پیٹرول چاہیے، سامان چاہیے، بوٹ چاہیے، فرسٹ ایڈ کا سامان چاہیے ہوتا ہے، پھر تربیت کے لیے فنڈز درکار ہوتے ہیں۔ 2004 میں جو ہم نے 175 لائف گارڈز کو تربیت دی تھی، وہ اس وقت ایک ہزار ہوگئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے لوگ ہر سال آکر ہمارے لوگوں کو تربیت دیتے ہیں۔ ان بچوں کو بھی تربیت دی جاتی ہے جو کہ 18 سال سے زیادہ عمر کے ہوجاتے ہیں، انہیں دوبارہ تربیت دی جاتی ہے۔

سوال : اب تک کتنے لائف گاردز حادثے کا شکار ہوئے ہیں؟

جواب : ابھی تک ہمارے ادارے میں کوئی حادثہ ایسا نہیں ہوا ، دراصل ہمارے ساتھ جو بچے کام کررہے ہیں ، وہ انتہائی تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور وہ چونکہ زیادہ تر ساحلی علاقوں میں ہی رہتے ہیں، لہذا انہیں سمندر میں تیرنا اچھی طرح آتا ہے۔

سوال : PALS Rescue اب تک کتنے لوگوں کی زندگیاں بچا چکا ہے ؟

جواب : اپنے قیام کے بعد سے لے کر اب تک PALS Rescueکراچی کے ساحلوں پر پانچ ہزار سے زائد افراد کی زندگی بچاچکا ہے۔ یہ 70 لاکھ سے زائد امدادی سرگرمیاں بھی سرانجام دے چکا ہے اور 6ہزار سے زائد لوگوں کو فرسٹ ایڈ فراہم کرچکا ہے۔ کراچی کے ساحلوں پر اس کی موجودگی سے سالانہ 80 لاکھ سے زائد لوگوں کو تحفظ ملتا ہے۔ سال 2004 میں قیام کے بعد PALS Rescue ڈوبنے کی شرح تقریباً صفر پر لے آیا ہے، جو اس کے انتہائی تربیت یافتہ لائف گارڈ سروس کی بہترین کاوشوں کا براہ راست نتیجہ ہے جس کی بدولت عوام کی حفاظت یقینی ہوگئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک 5ہزار افراد کی جانیں بچائی جاچکی ہیں، 70 لاکھ سے زائد امدادی اقدامات کیے جاچکے ہیں، 6ہزار افراد کو فرسٹ ایڈ فراہم کی جاچکی ہے ، اس کے علاوہ ہر سال کراچی کے ساحلوں پر 80لاکھ سے زائد افراد کو حفاظت میسر ہے۔

سوال : PALS Rescue کے پاس کتنے لائف گارڈز ہیں ؟

جواب : PALS Rescue کے پاس مقامی آبادی پر مشتمل 250 سے زائد لائف گارڈز ہیں جس سے انہیں اور انکے اہل خانہ کے لیے روزگار کے مواقع کھلے ہیں۔

سوال : PALS Rescue کے پاس کیا سامان ہے ؟

جواب : 200 ریسکیو ٹیوبس، 10 انفلیٹ ایبل ریسکیو بوٹس، 2 ریسکیو بورڈ، 50 فنز، 300لائف جیکٹس، 50 فرسٹ ایڈ کٹس، 30 آئی کام VHF، 5 بائنوکولرز، 5 میگا فونز، 1 بڑی بوٹ ، 3 لگژری بوٹ، 3 پیٹرول وہیکل

سوال : PALS Rescue کو کیا چیلنجز درپیش ہیں ؟

جواب : PALS Rescue خدمت خلق فراہم کرنے والا فلاحی ادارہ ہے اور یہ اپنی خدمات کی فراہمی کے لیے عطیات پر انحصار کرتا ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑا چیلنج فنڈنگ ہے کیونکہ کارپوریٹ اسپانسر شپس میں اسے مشکلات کا سامنا ہے اور ہم حکومت سے بھی تعاون کی امید رکھتے ہیں کیونکہ فندنگ کے ذرائع تلاش کرنا اس کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ مختلف مذہبی اور ثقافتی وجوہات کے باعب لوگ پورے کپڑوں کے ساتھ پانی میں آجاتے ہیں، بعض اوقات لوگ لائف گارڈز کی ہدایت کو سنجیدگی سے نہیں لیتے بلکہ تلخ لہجہ اختیار کرتے ہیں، جب تک کوئی ہنگامی صورتحال سامنے نہ آجائے خاص طور پر مون سون کے موسم کے دوران جب کوئی ہنگامی صورتحال ہو۔ ماہی گیری کے موسم (اکتوبر تا مارچ) میں لائف گارڈز کی ٹیم مکمل کرنے کے چیلنج کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ لائف گارڈز تنخواہ کے بجائے قسمت آزمائی کے لیے گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ نمکین پانی سے متاثر ہونے کی وجہ سے حفاظتی سامان کو مسلسل اپ گریڈ رکھنے کی ضرورت رہتی ہے جبکہ مزید واچ ٹاورز تعمیر کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح لائف گارڈز کی آمدورفت کے لیے ٹرانسپورٹیشن کی سہولت، جیسے بس کی بھی ضرورت ہے، اس سے وقت کی بچت ہوگی اور PALS Rescue مزید فعال انداز سے کام کرسکے گا۔

سوال : سمندری پانی میں کرنٹ کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟

جواب : رپ کرنٹ اس طرح ہوتا ہے کہ سمندر پر جب کوئی لہر آتی ہے وہ عموماً واپس جاتی ہے، جب آپ پانی پر کھڑے ہوتے ہیں تو وہ لہر آپ کے پیروں سے مٹی بھی لے جاتی ہے اور آپ پانی کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ ہمارے ساحلوں میں ہاکس بے، سینڈزپٹ اور گڈانی خطرناک ساحل ہیں۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ تربیت یافتہ نہیں ہوتے وہ اس وجہ سے خود بھی ڈوب جاتے ہیں کیونکہ ڈوبنے والا انہیں سختی سے پکڑ لیتا ہے ، لیکن ترتیب یافتہ تیراک اپنی تربیت کے حساب سے کام کرتا ہے اور ڈوبنے والے کو بچا سکتا ہے۔ دراصل ہمارے ملک میں سوئمنگ کا کلچر نہیں ہے اور بچوں کو سوئمنگ کی کلاسز بھی نہیں دی جاتیں۔ حالانکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بچوں کو بچپن سے ہی تیراکی کی تربیت دی جاتی ہے ، کیونکہ زیادہ عمر میں سوئمنگ نہیں سیکھ پاتا۔ ہم نے کے پی ٹی سے اپیل کی ہے کہ ہمیں زمین کا ایک حصہ ساحل سمندر پر فراہم کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو تربیت دے سکیں۔

ساحل سمندر کی حفاظتی تجاویز

* لائف گارڈز کی غیر موجودگی میں سمندر میں ہر گز نہ جائیں

* لائف گارڈز کے احکامات پر عمل کریں

* سمندری کرنٹ کی شناخت کو سیکھیں، اور ان سے دور رہیں

* مغرب کے بعد سمندر میں ہر گز نہ جائیں

* پہاڑی علاقے اور ایسے پتھروں پر ہر گز نہ کھڑے ہوں، جس سے سمندر کا پانی ٹکراتا ہے

* سمندر میں آگے جانے کے بجائے، ساحل سمندر کے قریب رہیں

* پالس کی احتیاطی احکامات پر عمل کریں

مزید :

ایڈیشن 1 -