وکیل انتقال کرجائے یا جج صاحب رحلت فرماجائیں، تب مقدمے میں التوا ملے گا، چیف جسٹس

وکیل انتقال کرجائے یا جج صاحب رحلت فرماجائیں، تب مقدمے میں التوا ملے گا، چیف ...
وکیل انتقال کرجائے یا جج صاحب رحلت فرماجائیں، تب مقدمے میں التوا ملے گا، چیف جسٹس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس آصف کھوسہ نے فوجداری مقدمے میں التوا سے متعلق ریمارکس میں کہا التوا کا فارمولا بہت سخت ہے ، وکیل انتقال کر جائے یا جج صاحب رحلت فرماجائیں، تب مقدمے میں التوا ملے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں فوجداری کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں کیل جی ایم چوہدری نے عدالت سے التوا مانگا اور کہا مقدمے میں پہلے وکیل صاحب سرکاری وکیل بن گئے ہیں۔

وکیل جی ایم چوہدری کا کہنا تھا کہ مجھے رات کو یہ فائل ملی ہے تیاری نہیں کرسکا، جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ نے رات کومحنت نہیں کی تو دن کو التوا نہیں ملے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا التوا کا فارمولا بہت سخت ہے، وکیل انتقال کرجائے یا جج صاحب رحلت فرماجائیں، تب التوا ملے گا، جس پر وکیل صدیق بلوچ نے سوال کیا انتقال اور رحلت کا فرق کیوں ہے؟ وکیل بھی رحلت فرما سکتا ہے۔

وکیل کی بات پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا انگریزی کے محاورے نے تھوڑا فرق پیدا کردیا ہے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -