وہ بنگلہ دیشی نژاد برطانوی لڑکی جسے برطانیہ اور بنگلہ دیش سمیت کوئی بھی اپنے ملک میں رکھنے کو تیار نہیں

وہ بنگلہ دیشی نژاد برطانوی لڑکی جسے برطانیہ اور بنگلہ دیش سمیت کوئی بھی اپنے ...
وہ بنگلہ دیشی نژاد برطانوی لڑکی جسے برطانیہ اور بنگلہ دیش سمیت کوئی بھی اپنے ملک میں رکھنے کو تیار نہیں

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) شیممہ بیگم نامی بنگلہ دیشی نژاد برطانوی لڑکی 4سال قبل برطانیہ سے فرار ہو کر شام چلی گئی اور شدت پسند تنظیم داعش میں شامل ہو کر ایک شدت پسند کی ’جہادی دلہن‘ بن گئی۔ اب بے وطن ہو کر ایک پناہ گزین کیمپ میں رہنے پر مجبور ہے کیونکہ برطانیہ اور بنگلہ دیش دونوں نے اسے واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ میل آن لائن شمیمہ بیگم کی عمر اس وقت محض 15سال تھی جب وہ فرار ہو کر شام گئی اور نیدرلینڈ کے یاگو ریدیک نامی شدت پسند کے ساتھ شادی کر لی۔ یاگو ریدیک چند ماہ فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔شوہر کی گرفتاری کے بعد شمیمہ شام کے شہر الھول میں واقع ایک پناہ گزین کیمپ میں چلی گئی جہاں دو ماہ قبل اس کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔

شمیمہ بیگم برطانیہ میں پیدا ہوئی تھی چنانچہ اس کے پاس صرف برطانوی پاسپورٹ تھا۔ گزشتہ دنوں برطانوی محکمہ داخلہ نے اس کی شہریت منسوخ کر دی جس کا پروانہ گزشتہ روز پناہ گزین کیمپ میں شمیمہ بیگم تک پہنچ گیا۔ اب اصولی طور پر وہ کسی بھی ملک کی شہری نہیں رہی، تاہم اس کے والدین چونکہ بنگلہ دیشی تھے چنانچہ قانون کی رو سے 21سال کی عمر کو پہنچ کر اسے خودبخود بنگلہ دیشی شہریت مل سکتی ہے لیکن چند روز قبل بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ شہریار عالم دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ ”داعش جیسی شدت پسند تنظیم میں شامل رہنے والی لڑکی کو بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی اجازت قطعاً نہیں دی جائے گی۔عمر پوری ہونے پر بھی شمیمہ بیگم کو بنگلہ دیشی شہریت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“

برطانوی قانونی ماہر لارڈ کارلیلی کا کہنا تھا کہ ”شمیمہ بیگم کا بیٹا اس وقت پیدا ہوا جب شمیمہ کی برطانوی شہریت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی چنانچہ وہ بچہ قانون کی رو سے اب بھی برطانوی شہری ہے۔ دوسری طرف اس بچے کا باپ نیدرلینڈ کا شہری تھا چنانچہ وہ نیدرلینڈ کا شہری بھی ہو سکتا ہے۔ برطانیہ اس بچے کو ملک میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتا لیکن اکیلے بچے کو برطانیہ واپس لایا یورپی کنونشن برائے ہیومن رائٹس کے آرٹیکل 8کی خلاف ورزی ہوگی جو لوگوں کی فیملی لائف کو یقینی بناتا ہے۔ اگر بچے کو اجازت ملتی ہے تو اس کے ساتھ اس کی ماں کو بھی برطانیہ میں داخلے کی اجازت دینی پڑے گی۔

رپورٹ کے مطابق شمیمہ بیگم نے پناہ گزین کیمپ میں صحافی، جس نے اسے اس کی برطانوی شہریت منسوخ کیے جانے کے حکم نامے سے آگاہ کیا، سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے فرار ہو کر شام آنے اور داعش میں شامل ہو کر یاگو ردیک سے شادی کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ یہ سب کچھ میں نے اپنی خوشی سے کیا اور آج بھی میں اس پر مطمئن ہوں۔ برطانوی شہریت منسوخ ہونے پر مجھے کچھ خاص صدمہ تو نہیں ہوا تاہم کچھ افسوس ضرور ہے۔ برطانوی حکام نے میرے ساتھ ناانصافی کی ہے۔“ دوسری طرف شمیمہ بیگم کے برطانیہ میں مقیم والدین نے دفترداخلہ کے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم لارڈ چارلی نے اس معاملے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ معاملہ بہت پیچیدہ ہے لہٰذا سالہا سال تک اس پر یکے بعد دیگرے عدالتوں میں چکر لگتے رہیں گے۔ اگر دفترداخلہ کے فیصلے کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اس پر کوئی فیصلہ آنے میں کم از کم دو سال لگیں گے اور تب تک شمیمہ بیگم کو پناہ گزین کیمپ ہی میں رہنا پڑے گا۔

مزید :

برطانیہ -