’انسان خواب میں اپنا مستقبل دیکھ سکتا ہے کیونکہ اس کا جسم اپنے آپ کو مستقبل کے لئے تیار کررہا ہوتا ہے‘ دماغ کی معروف سائنسدان نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا

’انسان خواب میں اپنا مستقبل دیکھ سکتا ہے کیونکہ اس کا جسم اپنے آپ کو مستقبل ...
’انسان خواب میں اپنا مستقبل دیکھ سکتا ہے کیونکہ اس کا جسم اپنے آپ کو مستقبل کے لئے تیار کررہا ہوتا ہے‘ دماغ کی معروف سائنسدان نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) خواب کے متعلق دو آراءپائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خواب میں دیکھی گئی باتیں سچ بھی ہو سکتی ہیں اور بعض کے نزدیک خواب ہمارے خیال یا سوچ ہی کی عکاسی ہوتی ہے۔ جو ہم سوچتے ہیں وہ ہمیں خواب میں نظر آتا ہے۔ بہرحال اب ایک معروف سائنسدان نے اس حوالے سے حیران کن انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق دماغ کی سائنسدان ڈاکٹر جولیا موس برج کا کہنا ہے کہ ”نہ صرف کوئی شخص سچے خواب دیکھ سکتا ہے بلکہ انسان خواب میں اپنا مستقبل بھی دیکھ سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا دماغ لاشعوری طور پر اپنے آپ کو مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے لیے تیار کر رہا ہوتا ہے، چنانچہ مستقبل کے یہ واقعات خواب میں دکھائی دے سکتے ہیں۔“

ڈاکٹر جولیا، جو گزشتہ 15برس سے دماغ، عصبی نظام اور پیش بینی کے علم پر تحقیق کر رہی ہیں۔ ان کی سربراہی میں خواب میں مستقبل دیکھنے کے مفروضے پر سائنسدانوں کی ایک ٹیم تحقیق بھی کر چکی ہے، جس میں ثابت ہوا تھا کہ 15سے 30فیصد لوگ خواب میں اپنا مستقبل دیکھتے ہیں۔اس تحقیق میں اس امر کے شواہد بھی سامنے آئے تھے کہ انسانی جسم خود کو مستقبل میں درپیش آنے والی تبدیلیوں کے لیے تیار کرتا ہے۔ڈاکٹر جولیا کا کہنا تھا کہ ”محض خواب ہی نہیں بلکہ جاگتے ہوئے بھی انسانی جسم کسی خطرے کی پیشگی وارننگ جاری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کسی انسان کا بے وجہ بے قرار ہو جانا بھی ممکنہ طور پر کسی بڑے اور ان دیکھے خطرے کی علامت ہو سکتا ہے۔

ڈیلی میل کے لیے لکھے گئے آرٹیکل میں ڈاکٹر جولیا نے اپنا تجربہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ”6سال قبل میں اپنے 13سالہ بیٹے اور شوہر کے ساتھ گھر میں رہتی تھی۔ میرا شوہر پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا تھا اور مصنوعی آکسیجن کے سہارے زندہ تھا۔ ایک شام میرا بیٹا باہر سے آیا اور اس کے کچھ ہی دیر بعد میرے ذہن پر اس خیال نے غلبہ پا لیا کہ اس نے اپنی بائیک گیرج میں کھڑی نہیں کی اور لاک نہیں کی۔ یہ احساس مجھ پر اس قدر غالب آ گیا کہ میں اپنے بیٹے پر چیخنے چلانے لگی حالانکہ اس سے پہلے میں نے کبھی ایسے روئیے کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ مجھے قرار نہیں آ رہا تھا چنانچہ میں باہر نکل کر بائیک کا لاک چیک کرنے چلی گئی۔ بائیک کا لاک تو اس نے ٹھیک سے لگا رکھا تھا لیکن جب میں واپس مڑی تو کیا دیکھا کہ ہمارے الیکٹریکل میٹر کو آگ لگی ہوئی تھی۔ میٹر کے ساتھ کھڑکی تھی اور کھڑکی کے ساتھ ہی اندر کمرے میں میرے شوہر کا آکسیجن کا سلنڈر رکھا ہوا تھا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ میری بے قراری کی وجہ یہ آگ تھی۔ اگر میں بے اختیار باہر نہ نکلتی تو آگ پھیل جاتی اور سلنڈر پھٹنے سے تباہی آ جاتی اور ہمارا پورا گھر ہی شاید آگ کی لپیٹ میں آ جاتا۔تاہم میرے لاشعور نے اس حوالے سے مجھے متنبہ کر دیا اور ہم اس حادثے سے بچ گئے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -