یہ چینی خاتون صحافی دراصل کون ہے؟ جان کر پاکستانی صحافی بھی پریشان ہوجائیں گے

یہ چینی خاتون صحافی دراصل کون ہے؟ جان کر پاکستانی صحافی بھی پریشان ہوجائیں گے
یہ چینی خاتون صحافی دراصل کون ہے؟ جان کر پاکستانی صحافی بھی پریشان ہوجائیں گے

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ایک سیلاب کی طرح ایک کے بعد دوسرے شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اورایک انقلاب برپا ہوئے اس شعبے میں کام کرنے والے انسانوں کی نوکریوں کے مواقع کم کرتی جا رہی ہے۔ اب شعبہ صحافت بھی اس کی دستبرد میں آ گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق چینی خبررساں ادارے ژن ہوا نے مصنوعی ذہانت کی حامل خاتون نیوز ریڈر متعارف کروا دی ہے جو آئندہ ماہ سے خبریں پڑھنا شروع کر دے گی۔ اس مصنوعی نیوز اینکر کا نام شین شیاﺅمنگ رکھا گیا ہے۔

ژن ہوا کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ نئے دور کی یہ اینکر مارچ کے آغاز سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرے گی۔ ادارے کی جانب سے کمپیوٹر کی مدد سے تیار کی جانے والی اس نیوز اینکر کی تصویربھی جاری کر دی گئی ہے۔ ژن ہوا کی طرف سے اس سے قبل بھی ایک مصنوعی ذہانت کا حامل مرد نیوز اینکر متعارف کروایا جا چکا ہے۔ نومبر میں متعارف کروایا گیا یہ اینکر انگریزی میں خبریں پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شین شیاﺅمنگ کے بارے میں تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ چینی زبان میں خبریں پڑھے گی یا انگریزی میں۔

مزید :

بین الاقوامی -