نیب اپنی کاروائیا ں دہشت گر دی کے اندا ز میں کر رہا ہے،وزیر اعلیٰ ہو نے کے با وجو د سپیکر سندھ اسمبلی کے گھر کو دہشت گر دی سے نہیں بچا سکا:مراد علی شاہ

 نیب اپنی کاروائیا ں دہشت گر دی کے اندا ز میں کر رہا ہے،وزیر اعلیٰ ہو نے کے با ...
  نیب اپنی کاروائیا ں دہشت گر دی کے اندا ز میں کر رہا ہے،وزیر اعلیٰ ہو نے کے با وجو د سپیکر سندھ اسمبلی کے گھر کو دہشت گر دی سے نہیں بچا سکا:مراد علی شاہ

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نیب اپنی کاروائیا ں دہشت گر دی کے اندا ز میں کر رہا ہے، مجھے افسو س ہے کہ میں اس صو بہ کا وزیر اعلیٰ ہو نے کے با وجو د سپیکر سندھ اسمبلی کے گھر کو دہشت گر دی سے نہیں بچا سکا، نیب زبردستی انکے گھر میں داخل ہو ئی اور انکے گھر کی خواتین کے ساتھ بد تہذیبی کی، انکے منہ پر سگریٹ پی کر دھواں اڑا تے رہے اور انکو لا ن میں کھڑا رکھا، میں چیر مین نیب سے در خواست کر تا ہو ں کہ وہ بد تمیزی کے واقعہ میں ملو ث نیب اہلکا رو ں کو سزا دیں۔

 پر ہجو م پریس کا نفرس سے خطا ب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آ غا سرا ج درا نی دوسری بار سپیکر سندھ اسمبلی بنے ، ان کے والد اور چچا بھی سپیکر سندھ اسمبلی رہے، انہیں اسلام آباد کے ہوٹل سے گرفتار کیا گیااور نیب نے سات دن کا راہداری ریمانڈ مانگا تھا لیکن عدالت نے تین دن کا ریمانڈ دیا، اس واقعہ پر میں نے چیئر مین نیب سے با ت کر نے کی کو شش کی لیکن کا میا ب نہیں ہو سکا۔ انہو ں نے افسو س کے ساتھ کہا کہ نیب اہلکا رو ں کی سپیکر سندھ اسمبلی کے اہل خا نہ کے ساتھ بد اخلا قی افسو س ناک عمل ہے، میری در خواست ہے کہ چیئر مین نیب پہلے اپنے گھر کو درست کریں،گزشتہ رو ز نیب کی ٹیم آغا سرا ج درا نی کے گھر زبردستی داخل ہو ئی اس مو قع پرہمارے وزارء وہاں پہنچے اورنیب اہلکاروں سے کہا کہ ان خواتین کی اگر ضرورت نہیں تو گھر سے باہر بھیج دیں، دنیا میں دشمن کے بھی حقوق ہوتے ہیں لیکن وہا ں ہما ر ی ایک نہ سنی گئی ۔انہو ں نے کہا کہ ہم نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے اور کل سندھ اسمبلی کا اجلا س طلب کیا ہے کیو نکہ نیب کے اس عمل سے پو ر ے سندھ کو تکلیف پہنچی ہے،ہم نے مسئلہ پر اپو زیشن سے بھی را بطہ کیا ہے، امید ہے اپو زیشن جما عتیں ہما ر ا ساتھ دیںگی۔انہو ں نے کہا کہ آغا صا حب کی فیملی کے پا س کیس دائر کر نے کا حق مو جو د ہے اور وہ طے کرینگے کہ انہیں کیا کر نا ہے؟ ہم نہیں چاہتے کہ کو ئی ایسا اقدام اْٹھائیں کے جو نا گوار گزرے۔ انہو ں نے کہا کہ اپو زیشن آ غا صا حب سے استفعیٰ کا مطا لبہ کر رہی ہے لیکن انہو ں نے اس وقت سپیکر کو ووٹ دیا جب نیب حرا ست میں تھے، انکا یہ دو ہرا معیا ر سمجھ سے با لا تر ہے، ڈپٹی سپیکر نے پرو ڈکشن آر ڈر جا ر ی کر دیئے ہیں، کل آغا صا حب ہما ر ے درمیا ن ہو نگے۔

ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ ہم 1967 سے عوام کے سامنے پیش ہو تے رہے ہیں اور احتسا ب سے نہیں ڈر تے، صو با ئی حکومت کو اس طریقے سے ڈرایا نہیں جا سکتا یہ ان کی بھول ہے، ہم سندھ کا ر ڈ استعمال نہیں کر رہے بلکہ ہم پا کستا ن کا ر ڈ کھیلیں گے، یہ کا م اگر پنجا ب یا کے پی کے کے سپیکر کے ساتھ ہو تا تو اس کی بھی ہم مذمت کر تے ،ہم نے علیم خا ن کی گرفتا ر ی کی بھی مذمت کی تھی اور کر تے ہیں، فر ق یہ ہے کہ علیم خا ن کو بلا کر گرفتا ر کیا گیا جبکہ آغا سراج درانی کو بغیر بلا ئے گرفتا ر کیا گیا ،اگر ثبو ت مو جو د تھا تو گھر پر چھا پے کی کیا ضرورت تھی؟آغا سرا ج درانی پر سندھ اسمبلی میں ملا زمتیں دینے اور آمدن سے زائد اثا ثہ جات بنا نے کا الزا م کیا ہے ؟۔

ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی کو جب چا ہو ں تبدیل کر دوں، اگر آ ئی جی سندھ احکامات کو فا لو نہیں کرینگے تو ان کو بھی ہٹا نے کے اقدا ما ت کرینگے ،سندھ میں گو ر نر ر ا ج کا کو ئی امکا ن نہیں ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ میرا اور اسمبلی کا خیا ل ہے کہ اینٹی کرپشن صو با ئی سبجیکٹ ہے لیکن کو ر ٹ نے ہما ر ی با ت نہیں ما نی، ہم اپنے حق کی با ت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے قا نو ن میں شک مو جو د ہے کے نیب کو ئی بھی حکم دے وہ ما نا جا ئے گا ،رینجرز بھی اسکی پا بند ہے، نیب کی کچھ شقو ں میں اعترا ض ہے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس قا نو ن کا جا ئزہ لیا جا ئے۔

مزید :

قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -