درست مارکیٹ میکنزم کے بغیر مہنگائی کنٹرول نہیں ہو سکتی

درست مارکیٹ میکنزم کے بغیر مہنگائی کنٹرول نہیں ہو سکتی

  

نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں ہوشر با اضافہ ہونے سے معاشرے میں بدامنی پھیلتی ہے، سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ نے مہنگائی کنٹرول کرنے کی ذمے داری صوبوں پر منتقل کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی آئینی ترمیم کے تحت قیمتوں پر کنٹرول صوبائی ذمے داری ہے، صوبے اپنی اس ذمے داری کو قبول کریں۔وفاقی حکومت بھی ہر ممکن مدد کرے گی،اجلاس میں مہنگائی پر قابو پانے کی ذمے داری نہ نبھانے والے وفاقی اور صوبائی افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وزارتِ غذائی تحفظ نے اشیائے خوردو نوش کی سمگلنگ کی روک تھام، مانیٹرنگ اور اُن کی مارکیٹ میں مطلوبہ مقدار میں دستیابی یقینی بنا کر اُن کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لئے حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس کی رمضان المبارک سے قبل منظوری دے کر اس پر عمل درآمد کرایا جائے گا۔ شماریات کے نمائندوں نے اجلاس کو بتایا کہ جنوری میں مہنگائی بڑھنے کی شرح14.5 فیصد ریکارڈ کی گئی، پانچ ہفتوں کے دوران عام استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے، اجلاس کو بتایا گیا کہ20کلو گندم پنجاب میں 809روپے اور سندھ میں 1058 روپے میں دستیاب ہے۔

سرکاری افسر ہمیشہ انتظامی اقدامات اور پکڑ دھکڑ کے ذریعے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں،لیکن ان اقدامات کے ذریعے نہ یہ ماضی میں کبھی کنٹرول ہوئی ہے اور نہ ہی اب اس کا امکان ہے،چیزوں کی گرانی کا زیادہ تر تعلق مارکیٹ فورسز سے ہے،جس کا ہم روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں، خاص طور پر سبزیوں اور پھلوں کے بدلتے نرخ اس کی بہترین مثال ہیں،جس روز منڈی میں کوئی سبزی زیادہ مقدار میں آ جاتی ہے اس کے نرخ دیکھتے ہی دیکھتے کم ہو جاتے ہیں،حالانکہ زیادہ مقدار میں آنے سے دو چار گھنٹے پہلے یہی سبزی مہنگی فروخت ہو رہی ہوتی ہے۔ یہی حال پھلوں کا ہے، قیمتیں کنٹرول کرنے والے ادارے جو کچھ بھی کر لیں مارکیٹ فورسز اُن کے کنٹرول میں نہیں آ سکتیں۔

وفاقی سیکرٹری نے صوبائی حکومتوں کو مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکامی کا ذمے دار قرار دیا ہے، ملک کے تین صوبوں میں تو ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے اگر ان تین صوبوں میں مہنگائی ہے تو بھی بالواسطہ طور پر وفاقی حکومت ہی اس کی ذمے دار ہے، کیونکہ ان صوبوں میں وفاق کے نامزد عہدیدار اعلیٰ ذمے داریاں نبھا رہے ہیں اور بار بار کے مطالبے کے باوجود انہیں ہٹانے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی،حالانکہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کہہ رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم ہوتے تو آٹا اور چینی کے بحران پر دو صوبائی حکومتیں برطرف کر دیتے۔ درآمد و برآمد کے سارے معاملات وفاقی حکومت ہی نپٹاتی ہے، آٹے اور چینی کی حالیہ مہنگائی کی بڑی وجہ گندم کی بے وقت برآمد کو قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ جانے کیوں سستے نرخوں پر برآمد کر دی گئی،جب آٹے کا بحران پیدا ہوا تو جلد بازی میں گندم درآمد کرنے کا سوچا گیا اور فیصلہ بھی کر لیا گیا،حالانکہ دیکھا جائے تو دونوں فیصلے ہی غلط تھے گندم برآمد کرنے کی ضرورت نہ تھی،اگر ایسا نہ کیا جاتا تو آٹے کی قلت پیدا نہ ہوتی،پھر جب ایسا ہو گیا تو کبھی سندھ حکومت کو قصور وار ٹھہرایا جانے لگا اور کبھی مافیاز کی مذمت کی جانے لگی، حالانکہ آٹے کی گرانی کے ذمے دار کوئی باہر سے نہیں آئے وہ یہیں کہیں موجودہیں اور جونہی انہوں نے د یکھا کہ گندم برآمد کی جا رہی ہے وہ لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں آ گئے اور چند دِنوں ہی میں 60،70ارب روپے کما لئے۔ ایسی فلور ملوں کو بھی گندم پسائی کے لئے دے دی گی جو بند پڑی تھیں یہ معلوم کرنا تو مشکل نہیں کہ یہ گندم کس کے حکم پر جاری ہوئی۔اس کی ذمہ داری تو کسی مافیا پرعائد نہیں کی جا سکتی۔ یہی حال چینی کا ہے، جس کی قیمتیں بڑھا کرایک اطلاع کے مطابق 155ارب روپے لوگوں کی جیبوں سے نکلوا لئے گئے، اب جہانگیر ترین کہتے ہیں کہ اُن کا اور خسرو بختیار کا چینی کی مہنگائی سے کوئی تعلق نہیں،اگر ایسا نہیں تو پھر یہ تو بتایا جائے کہ تعلق کس کا ہے، چلئے ذمے داروں کا تعین کرنا اور اُن کی تلاش کرنا جہانگیر ترین کی ذمے داری نہ سہی،لیکن یہ کسی کی تو ذمے داری ہے، حکومت نے آٹا اور چینی بحران کے ذمے داروں کو تلاش کرنے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی تھی، جس نے کیا تحقیقات کی، کسی کو کچھ معلوم نہیں اتنا ضرور پتہ ہے کہ جو رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی تھی،وہ انہوں نے واپس کر دی اور ہدایت کی کہ اس میں مزید سوالوں کے جواب بھی ملنے چاہئیں،اگر وہ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کر دیتے کہ ان سوالوں کا جواب اتنی مدت میں چاہئے تو شاید رپورٹ جلد مرتب کر لی جاتی اور کوئی نہ کوئی ذمے دار سامنے آتے،لیکن لگتا ہے اب یہ معاملہ فائلوں کے بوجھ تلے دب جائے گا،کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ نئے مسائل سامنے آ جاتے ہیں اور پرانے نگاہوں سے اُوجھل ہو جاتے ہیں۔

رمضان المبارک میں اشیائے خوردنی کی مہنگائی، خصوصاً ان پھلوں کی گرانی جو افطاری کے وقت استعمال ہوتے ہیں، کو روکنے میں انتظامیہ ہمیشہ ناکام رہتی ہے۔ سابق معتوب حکومت نے البتہ اس کے مقابلے میں سستے رمضان بازار لگانے کا اہتمام کیا تھا،جس سے ان شہروں میں جہاں یہ بازار لگتے تھے، خاصا ریلیف مل جاتا تھا اب معلوم نہیں موجودہ حکومت کا نظریہ، اس کے بارے میں کیا ہے،کیونکہ پنجاب کی حکومت تو کابینہ کے کئی اجلاسوں میں یہ تک طے نہیں کر سکی کہ اورنج لائن ٹرین کا کرایہ کتنا ہو، کتنی سبسڈی دی جائے،دی بھی جائے یا نہیں اور اب یہ معاملہ صوبائی اسمبلی میں زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ایسی سست رو حکومت سے آدمی کیا توقع کر سکتا ہے کہ وہ رمضان میں قیمتوں کو قابو رکھنے کے لئے کوئی اقدام کرے گی یا اس گو مگو میں رہے گی کہ کہیں اس کے اقدامات کا ”کریڈٹ“ سابق حکومت کو نہ پہنچ جائے۔

ذخیرہ اندوز تاجر ہمیشہ سے رمضان میں مہنگائی کرتے ہیں اور اب کی بار بھی ایسی ہی امید ہے۔ یہ بھی توقع ہے کہ تمام تر انتظامی اقدامات کے باوجود قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ممکن نہیں ہو گا، کیونکہ مہنگائی کرنے والے، قیمتیں کنٹرول کرنے والوں کی نسبت زیادہ ہوشیار اور چالاک ہیں اور وہ ضرورت پڑنے پرافسروں کو شیشے میں اتارنے کا فن بھی جانتے ہیں،اِس لئے دو چار روز کی پکڑ دھکڑ کوئی حل نہیں ہے۔ مہنگائی کا حل یہ ہے کہ اشیائے ضرورت کی سپلائی بلا تعطل جاری رہے اور لوگوں کی ڈیمانڈ کے مطابق یہ اشیا آسانی سے دستیاب ہوں۔درآمد و برآمد اسی حساب سے کی جائے اگر کسی وجہ سے ان اشیا کی سپلائی میں رکاوٹ آئے گی تو قیمتیں بڑھیں گی،جب تک اصل وجوہ تک نہ پہنچا جائے، قیمتوں کو بڑھنے سے نہ کوئی وفاقی حکومت روک سکتی ہے اور نہ صوبائی،جن ممالک میں سالہا سال سے قیمتیں نہیں بڑھیں،اور اگر بڑھی ہیں تو بے لگام نہیں، کوئی جائے اور اُن کے مارکیٹ میکنزم کا مطالعہ کرے اور دیکھے کہ وہاں قیمتوں کو کنٹرول پکڑ دھکڑ نے کیا ہوا ہے یا مارکیٹ فورسز نے،لیکن افسر شاہی تو وہی کرے گی، جس کی اسے تربیت ہے۔یہی وجہ ہے کہ مہنگائی ان افسروں کے اقدامات سے نہ کبھی پہلے رُکی ہے اور نہ آئندہ رُکے گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -