پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

  



سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ایک فوٹیج نے ہمارے سماجی ڈھانچے کی ابتری کا پردہ چاک کر دیا ہے اور یہ ثابت ہوا کہ یہاں مغرب زدہ افراد کسی تہذیب کو خاطر میں نہیں لاتے، اس ویڈیو کے وائرل ہونے سے جس میں ایک ماڈرن خاتون اسلام آباد پولیس کے اہل کاروں پر چِلا رہی ہے اور ان کو انگریزی زبان میں ڈانٹ کر معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہی ہے،ویڈیو بنانے والے کے سوالات کے جواب میں اس خاتون نے بڑے تکبرانہ لہجے میں بتایا کہ پولیس والے نے اس کی توہین کی کہ بات پنجابی میں کی۔پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ خاتون کار ڈرائیو کرتے ہوئے موبائل فون پر بات کر اور سن رہی تھی،ان کو روک کر کہا گیا کہ وہ فون نیچے رکھ دیں کہ کار چلاتے ہوئے فون سننا منع ہے۔یہ بات ان سے پنجابی میں کی گئی،اِس پر وہ برس رہی ہیں اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی بھاری ترین اکثریت نے خاتون کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ چند خواتین و حضرات ایسے بھی ہیں،جنہوں نے اس آڑ میں پنجابی زبان ہی کی مذمت شروع کر دی ہے، یہ واقع ہی نہیں، بلکہ سانحہ ہے اور بہت ہی افسوسناک ہے، جو ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی نشاندہی کرتا ہے،جہاں تک پنجابی زبان کا تعلق ہے تو یہ بڑی میٹھی اور صوفیا کی زبان ہے۔ بابا بلھے شاہ، شاہ حسین، بابا فرید گنج شکر اور وارث شاہ سمیت صوفیا کا کلام سننے والوں پر وجد طاری کر دیتا ہے۔یہ پاکستان کی اکثریتی زبان بھی ہے، جو حضرات و خواتین مغرب زدگی میں توہین کر رہی ہیں،ان کو خود اپنے رویے پر غور کرنا ہو گا، ویسے جو سمجھتے ہیں کہ یہ زبان معدوم ہو رہی ہے، وہ ذرا لاہور ہی کے کسی گلی محلے اور بازار میں جا کر دیکھ لیں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ جدید تعلیم کے رسیا حضرات کی تمام تر کوشش کے باوجود یہ زبان زندہ اور بولی جاتی ہے، اگرچہ ذریعہ تعلیم اُردو(قومی زبان) ہونے کی وجہ سے مائیں بچوں کو اُردو سکھا رہی ہیں،اِسی لئے تو یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پرائمری سطح سے ذریعہ تعلیم پنجابی کیا جائے، انگریزی بولنے سے گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون سننا قانوناً درست نہیں ہو جاتا،یہ خاتون اگر کسی انگریزی بولنے والے ملک میں فون سنتے ہوئے گاڑی چلاتیں تو اُنہیں چالان کی سلپ تھما دی جاتی، وہ جتنی بھی انگریزی بولتیں اُنہیں بہرحال جرمانہ ادا کرنا پڑتا۔ یہاں پنجاب میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے پنجابی کے خلاف جذبات کا اظہار کر دیا اور جرمانے سے بھی بچ گئیں۔

مزید : رائے /اداریہ