جسٹس رانا بھگوان داس پر ایک سیمینار

جسٹس رانا بھگوان داس پر ایک سیمینار
جسٹس رانا بھگوان داس پر ایک سیمینار

  



مشاہیر پاکستان کی فہرست میں سے کسی شخصیت پراسلامی نظریاتی کونسل اور انسٹی ٹیوٹ پالیسی اسٹڈیز کوتیسر ا سیمینار پیش نظر تھا۔ تین چار سرفہرست ناموں میں سے اے کے بروہی اور جسٹس رانا بھگوان داس چھٹ کرسامنے آئے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز کا میلان جسٹس رانا بھگوان داس کی طرف تھا۔ خود کو ٹٹولا کہ میرا اپنا وزن جسٹس رانا بھگوان داس کے حق میں کیوں پڑا تو تحت الشعور چغل خوری پر اتر آیا۔ رانا بھگوان داس سے وہ ایک، اور وہی ایک سرکاری ملاقات شاید اس کا محرک تھی، حلاوت وشیرینی ہے کہ جُگ جُگ مانگے۔ اقرباپروری سے کتنا بھی چھٹکارا چاہو، کہیں نہ کہیں، ادھر ادھرسے سر اٹھا ہی لیتی ہے۔ باپ آخر باپ ہوتا ہے، وہ یاد آئے تو اس کے ہم جلیس کیوں بھولیں۔ نہاں خانہ زیست کی پاتال میں، کہ جسے ایام طفولیت پر محمو ل کیا جائے، باپ کے ہم نوالہ و ہم پیالہ چوہدری حکم چند آنند کی ایک دھندلی سی شبیہ ٹمٹمانے لگی۔ یہ ٹمٹماتی شبیہ رانا بھگوان داس کے ہیولے سے مستنیر ہوئی تو میرا ووٹ بھی ڈاکٹر قبلہ ایاز کے ساتھ جا کھڑا ہوا۔ رہے خالد رحمن، تو ان کی دلچسپی اس چینی کہاوت کے گردا گرد رہتی ہے کہ اس سے کوئی غرض نہیں کہ بلی سیاہ رنگ کی ہے یا سفید، دیکھنا تو یہ ہے کہ چوہے پکڑ سکتی ہے یا نہیں۔ حصول مقصد اور بس!

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قابل فخر سابق قائم مقام چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے جج آنجہانی جسٹس رانا بھگوان داس کی برسی 23 فروری کو ہوتی ہے۔ خیال تو یہی تھا کہ اسی تاریخ کو سیمینار منعقد کیا جائے مگر جن رنگا رنگ گل ہائے صد رنگ سے تقریب کو سجانا پیش نظر تھا، ان کی اپنی موسمی تقویم آڑے آ گئی۔ 11 فروری کو یہ سیمینار منعقد ہوا تو مہمان خصوصی سابق چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودہری سے زیادہ کس کا حق فائق ہو سکتا تھا۔ وہ آئے، کشاں کشاں آئے اور منڈی میلہ لوٹ لیا۔ راجہ محمد ظفر الحق تو اس سلسلہ سیمینار کے مستقل سرپرست ہیں مگر عین اسی دن خاندان میں اپنی ایک قریبی عزیزہ کی وفات پر وہ خود تو نہ آ سکے لیکن اس بحرانی کیفیت میں بھی انہوں نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اپنا محبت بھرا تحریری پیغام ارسال کر دیا۔جناب اکرم شیخ اور مولانا زاہد الراشدی بھی آئے اور آنے کا حق ادا کیا۔ خواہش تو یہ تھی کہ آنجہانی موصوف کی بیوہ محترمہ رتنا کماری کوئی سمعی یا بصری پیغام ارسال کر دیں لیکن ہماری اس تمنا کو ان کے ہاں یوں پذیرائی حاصل نہ ہوسکی کہ آپ ایک خالصتاً مشرقی روایت پسند گھریلوخاتون ہیں۔ کاش ہمارا جدیدیت گزیدہ طبقہ اسلام سے نہ سہی، اپنی روایات کے امین ان لوگوں ہی سے کچھ اخذو اکتساب کر لے۔

تاہم محترمہ کے بھائی یعنی رانابھگوان داس صاحب محترم کے برادرنسبتی سبھاش چندر تشریف لائے اور اپنی بہن کی بھرپور نمائندگی کی۔موقع کی مناسبت سے ہم نے صدراسلام آباد ہندو پنچا یت مہیش کمار صاحب کو بھی دعوت دے رکھی تھی۔ وہ بھی آئے اور رانا بھگوان داس کے ساتھ اپنی عقیدت کا حق ادا کیا۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ ہندو برادری کے چیدہ چیدہ افراد کی اتنی تعداد بھی آ گئی جو خوش کن حد تک تھی۔ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی سیاسی شخصیت ہیں۔ پس چار پانچ منٹ کی رانا صاحب کی خانہ پری کے بعد ان کا باقی سارا زور سیاسی گفتگوسے عبارت تھا۔ میزبان کے لیے اطمینان بخش امر یہ ہے کہ بعدازاں تقریب میں شریک ایک عام ہندو سامع تک یہ کہتے پائے گئے۔”صاحب ہم تورانابھگوان داس صاحب سے عقیدت کے مارے آئے تھے جس کا سب مقررین نے حق ادا کیا مگرڈاکٹر رمیش کمار توسیاسی حوالے سے کچھ زیادہ ہی تجاوز کر گئے“۔ یہی رائے کم و بیش باقی شرکا کی بھی تھی۔

ڈاکٹر رمیش کمارکی ان سیاسی تجاوزات کو ”سبھی“ نے محسوس کیا لیکن ان کا ایک جملہ بسلسلہ موازنہ پاکستان بمقابلہ بھارت توسبھی کا جگر چھلنی کر گیا:”پاکستان وہ واحد ملک ہے جو اقلیتوں کے حقوق کے نام پر بنا اور اقلیتوں کے حقوق ہی کا رکھوالا نہیں بنا۔“ چلئے ذرادیر کے لیے”پاکستان وہ واحد ملک ہے“ کو یوں نظرانداز کر دیتے ہیں کہ یہ جملہ بالعموم آلہ توقیر یا تخم مذمت کے طور پرمقرر کے کام آتا ہے لیکن یہ”واحد ملک“اقلیتوں کے حقوق کے لیے کب اور کیسے بنا تھا، اس کا جواب مورخین کے ذمہ قرض ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں متروکہ املاک کے بندوبست پرڈاکٹر رمیش کمار نے ہندوستان اور حتیٰ کہ انسانی تاریخ کے غاصب اعظم اسرائیل کو بھی اپنے وطن پاکستان پر جو فوقیت دی، اس پر میزبان تو آداب میزبانی کے پیش نظر سکوت شہر خموشاں کی تفسیر بنے رہے،لیکن بی بی سی بنگلہ سروس کے سبھا جیوتی گھوش نے اگلے ہی دن 13 فروری کی ٹائم لائن پر پاکستان کا یہ قرض بھی چکا دیا۔ ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں بہتر سالوں سے متروکہ املاک کابندوبست مسلمانوں کے پاس ہے، اسی اصول کی پاسداری اسرائیل بھی کرتا ہے، نہیں کرتا تو پاکستان نہیں کرتا۔ اسرائیل سے یہ موازنہ بھی بس ایک لطیفے کے طور پر سن لیا گیا۔ انسانی تاریخ کے اس غاصب اعظم اسرائیل کے خلاف دنیا کے دو سو کے لگ بھگ ممالک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد مذمت منظور کی۔وہ اسرائیل کہ جس نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے یہودی بستیاں بسائی ہیں، ڈاکٹر رمیش کمار کاپاکستان سے اسرائیل کایہ فوقیتی موازنہ ایک لطیفے کے طور پر ہی لیا گیا اور بس!

رہا ہندوستان توبی بی سی بنگلہ سروس کے سبھا جیوتی گھوش کے مطابق ا نڈیا میں ’دشمن کی ان متروکہ املاک‘ پر تین سال قبل ہندوستانی پارلیمان کے ایک قانون کے ذریعے حقوق ورثہ کم کردیے گئے ہیں۔ اور اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی یہ تمام املاک مرحلہ وار فروخت کر کے دس کھرب روپے کی آمدنی حاصل کی جائے۔ اس کام کی ابتدا بنگال سے ہو گی اور کسی رشتہ داردعوے دار کے پاس اپیل کے لیے صرف دوماہ ہوں گے۔بی بی سی کے مطابق ”ماہر آئین درشنامترا نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا کے قانون کو ایسی کسی بھی ملکیت کے دوبارہ حصول کے لیے مشکل بنا دیا گیا ہے۔“ ایسے متعدد مقدمے ہیں کہ جن کے تحت خاندان کا کوئی فرد پاکستان آ بسا تو ہندوستان میں اس کے دیگر رشتہ دار قانون وراثت کے تحت کچھ نہ کچھ حاصل کر لیتے تھے۔ لیکن اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اوّل تو تین سال پہلے انڈیا کے قانون میں ترمیم کی گئی اور اب دس کھرب ہندوستانی روپوں کی مسلمانوں کی یہ متروکہ املاک ہندوستانی حکومت خود ہتھیانے جا رہی ہے۔

اس کی روشنی میں ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی ذرا پاکستان کا جائزہ لیں، تمام ہندو،سکھ متروکہ املاک ایک بورڈکے پاس ہیں اور محفوظ و مامون ہیں۔پاکستان میں اس بورڈ کا چیئرمین اگر کسی ہندو کو نہیں لگایا گیا تو سوال یہ ہے کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کاچیئرمین ایک ہندو جسٹس رانا بھگوان داس کو لگایا گیا تو کیوں؟ لیکن نہ تو بورڈ کے ہندو چیئرمین کے مطالبے میں کوئی وزن ہے اور نہ ہندو جسٹس رانا بھگوان داس صاحب کے پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین لگائے جانے پر اعتراض میں کوئی جان ہے۔ دونوں صورتیں ایک انتظامی مسئلہ ہیں، مذہب سے اس کاکوئی تعلق نہیں ہے۔ اصل چیز عادلانہ فیصلے ہیں جو پاکستان میں ٹھیک طریقے سے ہو رہے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں دس کھرب ہندوستانی روپوں کی مسلمانوں کی یہ متروکہ املاک ہندوستانی حکومت خود ہتھیانے جا رہی ہے۔ امید ہے، ان سطور کی روشنی میں ڈاکٹر رمیش کمارآئیندہ کبھی ہندوستان کا موازنہ اپنے وطن عزیز پاکستان سے ذرا نئے انداز میں کریں گے۔

مقطع میں ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کے اس سخن گسترانہ کو چھوڑکر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قابل فخر سابق قائم مقام چیف جسٹس آنجہانی رانا بھگوان داس کی یاد میں اسلامی نظریاتی کونسل اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے اس مشترکہ سیمینار کو توقع سے بڑھ کر کامیابی حاصل رہی۔ تمام مقررین نے رانا بھگوان داس کے ساتھ والہانہ شیفتگی کا اظہار کیا۔ کم و بیش تمام مقررین نے ان کی سیرت اور شخصیت کے کئی گوشوں پر روشنی ڈالی۔ رانا بھگوان داس صاحب کے صاحبزادے بیرون ملک مقیم ہونے کے باعث اس سیمینار میں شریک نہ ہو سکے۔ پیرانہ سالی کے سبب ان کی اہلیہ بھی کسی شکل میں سیمینار میں اپنا حصہ ادا نہ کر سکیں لیکن جج صاحب کے برادرنسبتی جناب سبھاش چندر نے ان دونوں کی کمی پوری کر دی۔

مجھے اس سیمینار سے ہٹ کر، اسی شخصیت سے متعلق ذاتی طور پر ایک دلخراش کمی محسوس ہوتی رہے گی۔ جج صاحب موصوف قانون کے علاوہ اسلامیات میں ایم اے بھی تھے۔ وہ کوئی عام ہندو نہیں تھے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہماری جامعات اپنے ایل ایل ایم، پی ایچ ڈی اور ایم فل کے طلبا کو جج صاحب رانا بھگوان داس کے فیصلوں پر تحقیقی کام میں لگائیں تاکہ علمی روایت کو فروغ حاصل ہو سو ہو،جج صاحب موصوف کی زندگی کے اوجھل گوشے بھی نکھر کر سامنے آئیں۔ اہل علم پر یہ ان کا ایک قرض ہے، میں امید کرتا ہوں کہ جملہ اہل علم و دانش، ہندو برادری بالخصوص اس پہلو کی طرف توجہ کرے گی۔ شاید یوں ہم ان کا کچھ قرض اتارنے کے قابل ہو جائیں۔ جسٹس افتخار محمد چودہری اورڈاکٹر قبلہ ایاز اس ضمن میں اہم کردار کر سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم